محرومیت ختم کرنے کا واحد طریقہ ۔۔۔ 02-10-2012

kal-ki-baat
ہماری سیاسی جماعتوں اور ہمارے سیاستدانوں کے نزدیک بلوچستان کے عوام کی محرومیت دور کرنا قوم کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ آپ میاں نوازشریف کا بیان پڑھیں یا جناب عمران خان کا وہ یہی ایک بات کہتے سنائی دیں گے۔ اگر پی پی پی برسراقتدار نہ ہوتی تو یہی بات اس کے رہنما کہتے سنائی دے رہے ہوتے۔
بظاہر اس بات سے اختلاف ممکن نظر نہیں آتا۔ لیکن جب آپ اس بیان کے پیچھے چھپے حقائق پر نظر ڈالتے ہیں تو جن بلوچ رہنماﺅں یا سرداروں کی حمایت میں یہ بیان دیئے جاتے ہیں ` وہی بلوچستان کے عوام کی ہر محرومیت کے ذمہ دار قرار دیئے جاسکتے ہیں۔
میں ان صفحات پر بار ہا یہ حقیقت بیان کرچکا ہوں کہ ہمارے تمام قومی مسائل اور ہمارے عوام کی تمام ترمحرومیتوں کا سبب وہ حکمران طبقہ یا ٹولہ ہے جس نے قائداعظم ؒ کے انتقال کے بعد پورے ملک کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس طبقے یا ٹولے کے درمیان بھی اقتدار کے لئے جنگ ہوتی رہتی ہے جسے تمام طالع آزما جمہوری عمل کا نام دیتے ہیں مگر جس نظام کے تحت اس ٹولے کی آپس میں زور آزمائی ہوتی رہتی ہے` وہ ملک کی ننانوے فیصد آبادی پر ملک کے ایک فیصد اہلِ وسائل کی حاکمیت کی ضمانت دیتا ہے۔
پاکستان کاجو حصہ بلوچستان سے باہر ہے اس کے عوام بھی اسی قدر محروم ہیں جس قدر محروم بلوچستان کے اندر آباد پاکستانی ہیں۔بلوچستان میں حکمران ٹولے کو سرداروں کا نام دیا جاتا ہے ` پنجاب میں وہ میاں یا چوہدری کہلاتے ہیں `خیبر پختونخواہ میں وہ خان ہیں اور سندھ میں وہ وڈیروں کے نام سے مشہور ہیں۔
ان کا کام بھی ایک جیسا ہی ہے۔ عوام کے جذبات سے کھیلنا ۔اور اقتدار میں حصہ داری کے لئے قطاریں بنائے رکھنا۔
بلوچستان ملک کے باقی حصوں سے کچھ مختلف اس لئے ہے کہ اس کی سٹریٹیجک اہمیت اور اس کے معدنی وسائل کی وجہ سے ہمارے دشمنوں کی نظریں ایک عرصے سے اس پر جمی ہوئی ہیں۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہاں بے گناہ لوگوں کو مارنے کے کام میں غیر ملکی ہاتھ نہیں ` وہ یا تو اول درجے کا خود فریب ہے ` یا پھر اس کے مفادات بھی اسی پروپیگنڈے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو ” محرومیت “ اور ” حقوق “ کی آڑ میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے خلاف کیا جاتا ہے۔
جب تک یہ نظام قائم ہے جس میں عوام اپنی مرضی کی قیادت اپنے ووٹ کے براہ راست استعمال سے اقتدارکے ایوانوں میں نہیں بھیج سکتے ` اس وقت تک پورا ملک محرومیت کا شکار رہے گا۔

Scroll To Top