ہمیں وطن ِعزیز کے جن اداروں کی کارکردگی پر فخر ہے ان میں سرفہرست آئی ایس آئی ہے 29-09-2012

kal-ki-baat
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کی تاریخ میں چار ملک بڑے غیر روایتی انداز میں قائم ہوئے۔ ان سب کا قیام بیسویں صدی کے دوران عمل میں آیا۔سب سے پہلے سوویت یونین قائم ہوا۔ پھر یوگوسلاویہ بنا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے پاکستان اور اسرائیل عالم ِوجود میں آئے۔ اول الذکر دونوں اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں یعنی اب اُن کا کوئی وجود نہیں۔ اب صرف پاکستان اوراسرائیل دو ایسے ملک ہیں جو غیر روایتی انداز میں قائم ہوئے۔ دونوں کی اساس نظریاتی تھی ۔ پاکستان اس نظریے پر قائم ہوا کہ غیر منقسم ہندوستان میں بسنے والے تمام مسلمان ایک قوم تھے (اور ہیں)دنیا اس نظریے کو دو قومی نظریے کے نام سے جانتی ہے۔اسرائیل اس نظریے پر قائم ہوا کہ دنیا بھر کے یہودی النسل لوگ ایک قوم تھے (اور ہیں)۔اس نظریے کی شناخت گزشتہ صدی کے اوائل میں ڈاکٹر ہرزل نے کرائی تھی۔
سب لوگ جانتے ہیں کہ سوویت یونین اور یوگوسلاویہ کو ختم کرنے میں مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردارں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ جس نظریے پر دونوں قائم ہوئے تھے اسے شکست ہوئی تو دونوں ممالک بھی شکست وریخت کا شکار ہوگئے۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے ` اس کا تحفظ مغربی سامراج مل کر کررہاہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل نے اپنے تحفظ کے لئے ہر وہ روایتی اور غیر روایتی طریقہ اختیار کیا جو سوچا جاسکتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ موضوع میں نے آج خصوصی طور پر کیوں منتخب کیا ہے۔ تو وجہ بتائے دیتا ہوں۔ آج کے اخبارات کی شہ سرخیاں سپریم کورٹ کے اس حکم پر مبنی ہیں کہ ہماری خفیہ ایجنسیاں ڈیتھ سکواڈ ختم کریں۔ان سرخیوں کو پڑھ کر مجھے یاد آیا کہ ”ڈیتھ سکواڈ“ دور ِحاضر میں اسرائیل نے قائم کئے تھے اور ان کا مقصد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایسے ” لوگوں “کا خاتمہ کرنا تھا جنہیں اسرائیل اپنے وجود کے لئے خطرہ سمجھتا تھا اورجوروایتی قوانین کی زد میں نہیںآسکتے تھے۔
میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہماری خفیہ ایجنسیوں نے ڈیتھ سکواڈ واقعی قائم کررکھے ہیں تو وہ شوقیہ ہر گز نہیں ہوں گے۔ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر ایسے خطرناک دشمنوں کا سامنا ہے جنہیں وہ ” نظریہ “ کا نٹے کی طرح کھٹکتا ہے جس پر پاکستان قائم ہوا تھا۔
ہمیں وطنِ عزیز کے جن اداروں کی کارکردگی پر فخر ہے ان میں سرفہرست آئی ایس آئی ہے۔

Scroll To Top