سی ایم ایل اے (CMLA)28-09-2012

kal-ki-baatاگر سنچری نہیں تو ہاف سنچری ضرور مکمل ہوچکی ہوگی۔ میرا اشارہ کرکٹ کی طرف نہیں’ ان الٹی میٹمز کی طرف ہے جو ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین نے اپنی حلیف حکمران جماعت پی پی پی اور اس کی قیادت کو دیئے ہوں گے۔
تازہ ترین الٹی میٹم تین دن کا تھا کہ اگر اس دوران حکمران جماعت راہ ِ راست پر نہ آئی تو ایم کیو ایم اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھے گی۔ جن لوگوں کا خیال تھاکہ انہیں پی پی پی کے راہ ِ راست پر آنے کے لئے کم ازکم تین دن کا انتظار تو کرنا ہی پڑے گا ’ انہیں زبردست حیرت کا سامناہے کہ اِدھر صدر زرداری نے الطاف بھائی کو ایک فون کیا اور اُدھر ایم کیو ایم کے قائد نے بیان داغ ڈالا کہ صدر زرداری نے اقوام متحدہ میں جو تقریر کی ہے وہ اُن کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے کا باعث بنے گی۔
مجھے اس ضمن میں جنرل ضیاءالحق کے ابتدائی ایام ِاقتدار یاد آرہے ہیں۔ اس زمانے میں صبح شام مارشل لاءریگولیشنز کا اعلان و نفاذ ہوا کرتا تھا اور جنرل صاحب بڑے تواتر کے ساتھ اپنے بیانات بھی تبدیل کیا کرتے تھے۔ آپ کو یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کا مخفف )CMLAسی ایم ایل اے ( ہے۔ یار لوگوں نے CMLAکا مطلب یہ نکالنا شروع کردیا کہ ۔۔۔
Cancel My Last Announcement )میرا پچھلا بیان منسوخ سمجھا جائے (
میں سمجھتا ہوں کہ جناب الطاف حسین کو بھی اپنا نام CMLAرکھ لینا چاہئے۔ اپنے پچھلے بیان کو منسوخ قرار دینے میں جو کمال انہوں نے حاصل کیا ہے وہ شاید اور کوئی نہ کرسکے۔۔۔

Scroll To Top