حکمران کوشش کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاﺅن، پانامہ لیکس داخل دفتر نہ کر سکے، طاہرالقادری

  • گیدڑ کی موت آئے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے جبکہ سرکس کا شیر سلامتی کے اداروں کے خلاف سازشیں کرتا ہے،سربراہ عوامی تحریک

tahirulqadriلاہور(سلمان انور ) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاہے کہ موجودہ صورتحال سے ہمیں لا تعلق سمجھنے والے ”فلاسفروں اور سیاسی پنڈتوں “کو جلد ہماری اہمیت ،قطعیت اور ناگزیریت کا اندازہ ہو جائے گا،سیاسی ابال اور اتار چڑھاﺅ پر نظر ہے ۔قصاص تحریک کا دوسرا راﺅنڈ قاتل اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا ،دوسرا راﺅنڈ کب شروع کرنا ہے اسکی درست ٹائمنگ کا علم ہے ، گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے جبکہ سرکس کا شیر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف سازشیں شروع کر دیتا ہے،میں پھر کہہ رہا ہوں کہ میاںنواز شریف فوج کو پنجاب پولیس کی طرح کنٹرول کرنے کی سوچ کسی صورت ترک نہیں کر یں گے ۔وہ گزشتہ روز کینیڈا سے عوامی تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد ،سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے انصاف اور پانامہ لیکس کے احتساب کے دباﺅ کو کم کرنے کےلئے ”سرل لیکس“ چھوڑیں۔حکمران خاندان کی ملوں میں آنے جانیوالے بھارتی شہریوں کی جو فہرست جاری کی اس پر اب تک کارروائی کا نہ ہونا نا قابل فہم ہے ۔جو ملک جنگی حالات سے دوچار ہوں کیا وہاں کی حکومتیں اس طرح اپنی افواج کےلئے مسائل کھڑے کرتی ہیں؟ انہوں نے کہاکہ شریف برادران کے اقتدار کی مہلت ختم ہونے والی ہے،یہ کرپٹ برادران اور انکی سیاست ماضی کا حصہ اور قصہ بننے جا رہی ہے ۔حکمران دو سال میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن اور 6 ماہ میں پانامہ لیکس کیس کو داخل دفتر نہ کر سکے ،یہ بلا سبب نہیں ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ موجودہ ظالم اور دھاندلی زدہ نظام کے خلاف جانی و مالی قربانیاں ہم نے دیں ۔ہم اپنی ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔قوم کا بچہ بچہ لکھ لے قاتل برادران پھانسی چڑھیں گے ،انہیں کوئی موٹر وے بچا سکے گی نہ اورنج لائن، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا قصاص بھی ہو گا اور پانامہ لیکس کا احتساب بھی۔انہوں نے کہاکہ عوامی تحریک کے جرات مند اور با شعور کارکن انقلاب کی منزل اور جدوجہد کے حوالے سے بڑے کلیئر ہیں ۔قاتلوں کی پراپیگنڈہ مشینری انکے ذہنوں کو اس سے پہلے پراگندہ کر سکی اور نہ آئندہ کر سکے گی ۔قصاص ،احتساب،اصلاحات اور پھر انتخاب ہماری انقلابی جدوجہد کا روڈ میپ ہے ۔دو چار چہروں کے بدلنے سے نہیں نظام کے بدلنے سے ملک بدلے گا ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے جرائم کی فہرست میں پانامہ لیکس سے بڑا جرم سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہے ،پانامہ لیکس قومی دولت لوٹنے سے متعلق کرپشن کا کیس ہے جبکہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ریاست کے 14 شہریوں کو دن دیہاڑے قتل کرنے کا قومی جرم ہے ،دیکھتے ہیں قاتلوں کو کون کب تک بچاتا ہے ۔

Scroll To Top