فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں قبائلیوں کی مرضی ضروری ہے، پرویز خٹک

  • صوبے میں جو نظام اور قانون مروج ہے وہی فاٹا میں ہونا چاہیئے کیونکہ وہاں کے عوام اس سے آشنا ہیں
  • چاہتے ہیں کہ فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا جلد انعقاد ہو اور لوگ 2018 کے صوبائی سطح کے عام انتخابات میں شرکت کریں
پشاور،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویزخٹک بورڈآف ڈائریکٹرزمیٹنگ کی صدارت کررہے ہیں

پشاور،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویزخٹک بورڈآف ڈائریکٹرزمیٹنگ کی صدارت کررہے ہیں

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں مگر یہ سب فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیئے اس سلسلے میں زبردستی نہیں ہونی چاہیئے ۔ صوبے میں جو نظام اور قانون مروج ہے وہی فاٹا میں ہونا چاہیئے کیونکہ وہاں کے عوام اس سے آشنا ہیں اور یہی ان کے اور پورے صوبے کے مفاد میں ہے ۔ ہم نئے نئے تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں فاٹا کے صوبے میں انضمام سے متعلق انٹرویو دے رہے تھے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت فاٹا اور خیبرپختونخوا کے جلد سے جلد انضمام کیلئے پراُمید ہے ہم چاہتے ہیں کہ فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا جلد انعقاد ہو اوروہاں کے لوگ 2018 کے صوبائی سطح کے عام انتخابات میں شرکت کر پائیں۔ تاہم اس سلسلے میں جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ فاٹا کے عوام کیلئے قابل قبول ہو کیونکہ ہم پہلے سے مسائل کا شکار ہیں ایک نیا مسئلہ پیدا نہ کیا جائے۔ فاٹا کے انضمام کی صورت میں صوبے کے مستقبل کے بارے میں ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ فاٹا اور خیبرپختونخوا کا انضمام ایک خوش آئند بات ہو گی ۔ اس اقدام سے نہ صرف فاٹا کی ترقی کی راہیں کھلیں گی بلکہ پورا صوبہ بھی اچھے طریقے سے چل پائے گا۔ پانچ سالہ پلان سے متعلقہ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہاکہ ان کی تجویز ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں ان کو شامل کیا جائے ۔ پانچ سالہ پلان تو2021 تک جائے گا اور الیکشن 2023 میں ہوں گے۔ انہوںنے کہاکہ نامکمل اور اُدھوری اصلاحات سے حالات مزید خراب ہوں گے ۔ انہوںنے کہاکہ پورا سسٹم لیکر جائیں ۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر کا تجربہ ناکام ہو گا جس سے قبائلی عوام کا اعتماد خراب ہو گا۔انہوںنے کہاکہ فاٹا کے صوبے کے ساتھ انضمام کے حوالے سے واضح خاکہ ہونا چاہیئے صوبے میں پورا سسٹم موجود ہے جس کو وہاں رائج کیا جائے انہوںنے مقامی حکومت کا ماڈل بھی متعارف کرا دیا ہے جو ایک بہترین ماڈل ہے اس ماڈل کو فاٹا میں اپنایاجا سکتا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ فاٹا میں عوام کو حقو ق دینے اور وہاں ترقی کو یقینی بنانے کیلئے آئین میں ترامیم کی جائیں مزید تجربات اور لیبارٹریاں نہ بنائی جائیں تاکہ لوگ محسوس کریں کہ اُن کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی اور اپنی مرضی سے صوبے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس امر کیلئے ذہنوں کو تیار کرنا ضروری ہے ۔انہوںنے اس عمل کو فاسٹ ٹریک پر مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوںنے کہاکہ پانچ سالہ پلان مسئلے کو اگلے وقتوں پر ڈالنا یا عمل سے زیادہ تعطل کا شکار کرنا ہے ۔

Scroll To Top