تو اب تک ہمارا وجود مٹ چکا ہوتا ! 01-09-2012

kal-ki-baat


رمشا نام کی ایک چودہ سالہ عیسائی لڑکی آج کل مغربی دنیا کی ہی نہیں خود ہمارے ملک کے روشن خیال انسان دوست اور مغرب نواز حلقوں کی بھی ” ہیروئن “ بنی ہوئی ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ توہین قرآن کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے یا پھر نہیں ہوئی۔ اس لئے بھی نہیں کہ اس کے خلاف جو مقدمہ درج ہواہے وہ درست ہے یا غلط۔ بلکہ اس لئے کہ اس کی ذات کی وجہ سے ” اسلام “ کو تنگ نظری سنگدلی اور بے رحمی سے منسلک کرنے کے خواہشمندوں کوہمارے خلاف بھرپور پروپیگنڈے کا گولہ بارود مل گیا ہے۔
انسانیت ` انسان دوستی اور انسانی رواداری کے علمبرداروں سے یہاں میں بس ایک سوال کروں گا۔ اگر ان میں اخلاقی جرات ہے تو اس کا دیانت دارانہ جواب دیں۔
انسانی حقوق کی علمبردار طاقتوں نے گزشتہ گیارہ برس کے عرصے میں اِس خطے پر آگ اور تباہی کی جو بارش برسانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے` کیا ہزاروں ” رمشائیں “ اس کی نذر نہیں ہوئی ہوں گی۔ ؟ یہ ڈرون حملے جوباقاعدگی اور تواتر کے ساتھ شمالی پاکستان کے علاقوں پر ہورہے ہیں کیا ان میں کوئی رمشا لقمہ ءاجل نہیں بنی ہوگی؟
ایک عیسائی رمشا کا غم جن روشن خیالوں کو کھانے لگا ہے کیا اس کی ذات ان تمام رمشاﺅں سے زیادہ مقدس اور قیمتی ہے جو مغربی بربریت کا نشانہ بن چکی ہیں؟
کیا یہ رمشا صرف اس لئے قیمتی ہے کہ اس کی بدولت ہمارے دشمنوں کو ” قرآن اور رسالت “ سے ہماری والہانہ عقیدت اور احترام کو ٹارگیٹ کرنے کا ایک اورموقع ملا ہے۔؟ مجھے مغرب کے سازشی ذہن اور ” عملی دوہرے پن“ سے کوئی گلہ نہیں ¾ گلہ مجھے اُن ” اپنوں“ سے ہے جو اپنی بندوقوں کا رخ ہماری ” روایات “ کی طرف کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔
میں اِن ” اپنوں“ کے نام بھی یہاں لے سکتا ہوں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ مختلف این جی اوز کے پلیٹ فارمز پر ڈالروں میں تنخواہیں لینے والوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے۔ انہیں صرف یہ جان لینا چاہئے کہ میں ” باریش مولوی “ نہیںہوں۔ انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ پھر بھی میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ اگر تاریخ میں مسلمانوں نے توہین ِ رسالت اور توہین ِ قرآن کے معاملے میں ذرا بھی لچک دکھائی ہوتی تو اب تک ہمارا وجود مٹ چکا ہوتا!

Scroll To Top