ذریعہ معاش دین اور سیاست 29-8-2012

kal-ki-baatمولانا فضل الرحمن نے فرمایا ہے کہ اگر تحقیقات کا دائرہ بڑھایا جائے تو کرپشن کے میدان میں جرنیلوں اور بیورو کریٹس نے بھی کم ” کارہائے نمایاں“ انجام نہیں دیئے ہوں گے مگر برق ہمیشہ سیاستدانوں پر گرتی ہے۔ شاید مولانا نے درست ہی فرمایا ہو پر اُن سے زیادہ بہتر طور پر کوئی نہیں جانتا ہوگا کہ سیاست دان نہ صرف یہ کہ اپنے حصے کی کرپشن کرتے ہیں بلکہ جرنیلوں اور بیورو کریٹس کی کرپشن میں ان کے حصہ دار بھی بنتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن 1990ءکی دہائی میں ایک سیاستدان کے طور پر جس نوعیت کے کارہائے نمایاں انجام دیتے رہے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اُن کی بیش بہا خدمات کے اعتراف میں ان کا ایک عوامی نام بھی رکھا تھا جو ان کی پہچان بن گیا۔ ملک میں ڈیزل کی قیمتیں جب بھی چڑھتی ہیں مولانا کا ”نورانی “ چہرہ نظروں کے سامنے گھومتا ہے۔
2000ءکی دہائی میں مولانا فضل الرحمن جنرل پرویز مشرف کے ” منہ بولے اپوزیشن“ لیڈر بنے رہے۔ جب جنرل صاحب کی ” گّدی“ جناب آصف علی زرداری نے سنبھالی تو مولانا اُن کے دست راست بن گئے۔
آج کل مولانا کے تعلقات ”وردی “ والوں کے ساتھ کچھ زیادہ اچھے نہیں۔ اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ مستقبل قریب میں انہیں پھر کسی جنرل کا ” منہ بولا“ اپوزیشن لیڈر بننا پڑے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ` مولانا نے دیوار کے اوپر اپنی جگہ بنانی شروع کردی ہے۔ حالات کا رخ دیکھ کر وہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں چھلانگ کس سمت میں لگانی چاہئے۔ ان کا ”حجم“ دیکھ کر آپ ” چھلانگ“ کی اصطلاح پر مسکرائے ضرور ہوں گے مگر کیا ہزاروں ٹنوں کا وزن رکھنے والا جہاز بڑے آرام سے لینڈ نہیں کر جاتا ؟ مولانا صاحب کا سارا وزن اُن کے جثے کا نہیں ہوگا۔ اس میں ان کے ” ثواب “ بھی شامل ہوں گے ` گناہ بھی موجود ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ” اثاثے“ بھی ضرور ہوں گے۔
یہ بات کس ریاست کے آئین کا حصہ تھی کہ دین کی تبلیغ کی اجازت صرف ایسے شخص کو دی جائے گی جو پہلے اپنا ذریعہ معاش ظاہر کرے؟
ٹیپو ؒ کی ریاست میسور کے آئین کا ۔
مولانا فضل الرحمن اپنے گوشواروں میں ” ذریعہ معاش “ کے خانے تلے کیا لکھتے ہوں گے ؟
دین اور سیاست !

Scroll To Top