قوم کو رخصتی وزیر اعظم کی نہیں نظام کی چاہیے۔ 27-08-2012

kal-ki-baat

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو سپریم کورٹ نے مزید تین ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ اگر وہ سوئس حکام کو مطلوبہ خط لکھنے کی یقین دہانی کرادیں تو عدالت عظمیٰ چاہے گی کہ انتخابی عمل کے شروع ہونے تک وہی وزارتِ عظمیٰ کے فرائض انجام دیتے رہیں۔ وزیر اعظم نے یہ یقین دہانی تو نہیں کرائی کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدآمد کریں گے مگر یہ ضرور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا کوئی مناسب حل جلد تلاش کر لیں گے۔عدالت سے مزید مہلت کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعظم نے یہ مﺅقف اختیار کیا کہ چین کے دورے پر اگر وہ شو کاز نوٹس کے ساتھ جائیں گے تو بڑی جگ ہنسائی ہوگی۔

میری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آئی کہ حکمران ٹولہ اس حقیقت کو جگ ہنسائی کا باعث کیوں نہیں سمجھتا کہ اس ملک کا صدر ایک ایسا شخص ہے جسے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے بے گناہی کی نہیں استثنیٰ کی ضرورت ہے اور جس نے اپنے آپ کو قانون سے بالا تر ثابت کر نے کی کوشش میں قوم کے تقریباً چار سال ضائع کر دیے ہیں۔
یوں تو اس قوم کی چھ دہائیاں ضائع ہوئی ہیںلیکن گذشتہ چار سال ایسے تھے جن میں اس ملک کا قرضہ دوگنا ہو گیا اور اس کے تمام کمرشل ادارے (پاکستان سٹیل ،پی آئی اے اور ریلوے وغیرہ) کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔
میں نہیں جانتا کہ اس قوم کو سزا کس جرم کی ملی ہے ، موجودہ حکمرانوں کو منتخب کر نے کی یا پھر اس ملک کی عدلیہ اور فوج پر اعتماد کرنے کی ۔۔ مگر ایک امید رکھی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ اگلے انتخابات اس نحوست سے نجات کا باعث بنیں گے جس نے اس ملک میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے عدلیہ کے ساتھ بہت بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ مگر اب ان امیدوں نے دم توڑنا شروع کر دیا ہے۔ اب گیند جلد از جلد عوام کے کورٹ میں واپس آ نا چاہیے۔ راجہ پرویز اشرف کو گھر بھیج کر قوم کچھ حاصل کر نہیں پائے گی۔ یہ نظام اگر چند ماہ مزید بھی قائم رہتا ہے تو رہ لے ۔۔ اب بات وزیراعظم کی تبدیلی تک محدود نہیں رہنی چاہیے، اس نظام کی رخصتی لازمی ہے جس نے ملک کو تباہی و بربادی کی منہ بولتی تصویر بنا رکھا ہے۔

Scroll To Top