جرم کا انگ انگ بولا کرتا ہے 25-8-2012

kal-ki-baat


یہ خبریں نہایت خوش آئند ہیں کہ اے این ایف یعنی اینٹی نارکوٹک فورس نے” ایفیڈرین کوٹا کیس “ کے تمام ملزمان کی جائیدادیں منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقصد اس فیصلے کے پیچھے یہ بتایا گیا ہے کہ ملزمان ان جائیدادوں کو فروخت کرنے یا ” بے نامیوں“ میں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں اور تحقیقات کے ذریعے معلوم کیا جاسکے کہ ایفیڈرین کا غیر معمولی کوٹا ملنے سے پہلے جائیدادوں کی کیا پوزیشن تھی اور اب کیا ہے۔
میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں کسی کو بھی مخدوم شہاب الدین ` جناب حنیف عباسی اورسید موسیٰ گیلانی سے کوئی دشمنی ہے۔ اگر وہ قانونی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں تو صرف اس وجہ سے کررہے ہیں کہ ملک اور معاشرے کے خلاف ایک بڑا جرم سرزد ہوا ہے اور اس جرم کے ارتکاب میں ریاستی اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا ہے۔ قوم کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ریاستی اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال کن حالات میں اور کیسے ہوتا ہے اور اس سے فائدہ کس کس کو پہنچایا جاتا ہے۔
اگر یہ کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچا دیا گیا تو یہ اس قوم پر اُن لوگوں کا احسان ِعظیم ہوگا جو ہر قسم کے ” دباﺅ“ سے بے نیاز ہو کر تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اس قوم کے خلاف گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران بے شمار جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ مگر گزشتہ تین چار برس پچھلے تمام برسوں پر بازی لے گئے ہیں۔
اس خوفناک حقیقت کی نشاندہی خود سرکاری اعداد و شمار چیخ چیخ کر کررہے ہیں۔ تین ساڑھے تین برس قبل ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 38کھرب روپے تھا۔ جو اب 73کھرب روپوں تک پہنچ چکا ہے۔ کل ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حجم 65کھرب کے لگ بھگ تھا جواب ایک سو اٹھائیس کھرب تک پہنچ چکا ہے۔
آج کل ہلال پاکستان اور نشان پاکستان وغیرہ جس فیاضی کے ساتھ ” بٹ“ رہے ہیں اسے پیش نظر رکھتے ہوئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ایک ” ہلال “ یا ایک ” نشان “ اس ” بطل ِ جلیل “ کے لئے بھی وقف کیا جائے جس نے 6دہائیوں کے قرضوں کا بوجھ چار برس میں دوگنا کردینے کا” فقید المثال “ کارنامہ انجام دیا ہے۔
جرم کو بولنے کے لئے زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جرم کا انگ انگ بولا کرتا ہے۔۔۔

Scroll To Top