ہمارے خلاف کتنے حسین حقانی اور کتنے ریمنڈ ڈیوس سرگرم عمل ہیں ؟ 18-08-2012

kal-ki-baat

یہ امر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہئے کہ ہمارے دشمنوں کو ہمار ے خلاف استعمال کئے جانے والے کرائے کے سپاہی ہماری صفوں میں سے ہی مل رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی بھرتی کے لئے سینکڑوں ریمنڈ ڈیوس ملک کے طول و عرض میں گھوم رہے ہوں گے۔ریمنڈ ڈیوس اب محض ایک نام نہیں رہا پاکستان کے خلاف سرگرم عمل اس خفیہ فوج کی علامت بن چکا ہے جسے ہماری سرزمین تک پہنچانے کا کام خود ہمارے ہی ” اکابرین “ نے انجام دیا۔ میں جس قسم کے اکابرین کی بات کررہا ہوں ان کی پہچان کرانے کے لئے ایک ہی نام لینا کافی ہے۔ اور وہ نام ہے حسین حقانی کا۔

ہماری سرزمین سے تعلق رکھنے والے اس طالع آزمانے اپنی ” خدمات “ فروخت کرنے کے کام میں جو کمال حاصل کررکھا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ یہاں قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے کے بعد وہ چند ہی ہفتوں میں پھر ” برسرروزگار “ ہوگیا۔ سی آئی اے جس جس انداز اور طریقے سے اپنے ایجنٹوں کو نوازا کرتی ہے اس پر حسین حقانی ایک کتاب لکھ سکتے ہیں۔
ہمارے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ”کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہماری صفوں میں کتنے حسین حقانی مختلف ناموں کے ساتھ اس سرزمین کے مفادات کے خلاف خدمات انجام دے رہے ہیں؟“
اس سے بھی زیادہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حسین حقانی کی امریکی بیوی قصرِ صدارت میں ایسی حساس ذمہ داریوں پر کیوں فائز ہے جن کے نتیجے میں کامرہ جیسے واقعات زیادہ کثرت کے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔
میں جانتا ہوں کہ اب ” امریکی “ حلقوں سے پروپیگنڈہ یہی ہوگا کہ ” عسکریت پسند اسلامسٹوں“ کاقلع قمع کئے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہوگا۔ کوئی شک نہیں کہ اسلام کے قلعے پاکستان پر اٹھنے والی ہر بندوق اسلام اور پاکستان کے دشمنوں نے ہی تھام رکھی ہوگی مگر ہمارے لئے جاننا یہ ضروری ہے کہ ” کرائے کے ان سپاہیوں سے کام لینے والے ” دماغ“ کہاں بیٹھے ہیں۔۔۔؟“

Scroll To Top