کہاں ہے وہ چشم بینا جو پاکستان کے حقیقی دشمنوں کو پہچان سکے ۔۔۔؟ 17-08-2012

kal-ki-baat

کامرہ ایئر کمپلیکس پر دہشت گردوں کا حملہ اگر ہماری آنکھیں کھولنے میں کامیاب نہ ہوا تو میں اسے اِس ملک کی بھی اور اِس قوم کی بہت بڑی بدقسمتی قرار دوں گا۔
بات جب بھی قومی اثاثوں کی ہوتی ہے ’ تو فوری طور پر ذہن میں نام ایٹمی ہتھیاروں کا آتا ہے جن کی وجہ سے ملک کا دفاع ناقابل ِتسخیر سمجھا جاتا ہے اور جو ایک لحاظ سے ہماری قومی آزادی کی ضمانت بن گئے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہماری قومی اثاثوں میں وہ ادارہ بھی شامل ہے جو خداوندکریم کی بے پایاں رحمتوں کی بدولت آج بھی اس شکست و ریخت سے محفوظ ہے جس کا سامنا ملک کے دیگر شعبوں میں قوم کو ہے۔ میری مراد یہاں ” فوج “ سے ہے ۔ فوج میں بری ¾فضائی اور بحری تمام افواج آجاتی ہیں۔
اس امر میں اب کسی بھی دیانتدار اور باشعور شخص کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہمارے ” دشمن “ ہمارے قومی اثاثوں کو تباہ کرنے یا اُن سے ہمیںمحروم کردینے کے مکروہ عزائم رکھتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ رکھتے ہیں اُن پر عمل پیرا بھی ہیں۔
اگر کسی شخص کو ہمارے ممکنہ دشمنوں کی فہرست میں ” را“ اور ” سی آئی اے “ کے علاوہ اور کسی نام کی موجودگی کا علم یا یقین ہو تو وہ سامنے آئے۔ اگر کوئی اور دشمن ہوگا تو اِن کے ساتھ ہی جڑا ہوگا۔
پاک فضائیہ کے ترجمان نے اپنے ابتدائی بیان میں ہی انکشاف کردیا ہے کہ ” کامرہ “ پر حملہ آور ہونے والے دہشت گرد نہایت جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ اگر کسی شخص کو علم ہے کہ پہاڑوں میں ایسے کھیت ہیں جہاں جدید ہتھیار اُگتے ہیں تو وہ بھی سامنے آئے۔
وہ قومیں اپنی بدقسمتی پر آنسو بہانے کا حق بھی نہیں رکھتیں جو اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہیں۔ اور ان قوموں کی بدقسمتی پر تاریخ بھی اظہار افسوس نہیں کرتی جن کے حکمران اُن کے دشمنوں کے آلہ کار بن جائیں۔
اے رب جلیل۔۔۔ اس ملک میں کسی کو تو وہ چشم بینا دے جو اس قوم کے دشمنوں کو پہچان سکے !

Scroll To Top