مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhot-ka-paigamber-logo-newمصنف غلام اکبر
24-12-2017…
..قسط:48


اور یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ شیخ مجیب الرحمان بھارتی جارحیت کے نتیجے میں قائم ہونے والے بنگلہ دیش پر ایسے بنگلہ دیش کو ترجیح دیتا جو آزاد ہو کر بھی پاکستان کو حصہ ہو۔ شیخ مجیب الرحمان یہ بھی تو کہہ سکتا تھا۔” ہم نے عام انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ پھر بھی ہمیں حکومت بنانے کا حق نہ دیا گیا۔ ہمارے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔ ہمیں طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی جس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ اب ہمارے درمیان فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں۔ پھر بھی متحدہ پاکستان کو قائم رکھنے کی کوئی نہ کوئی صورت نکالی جا سکتی ہے۔ ہم سیاسی طور پر الگ ہو چکے ہیں۔ لیکن نظریاتی طور پر ہم اب بھی ایک جھنڈے تلے زندگہ رہ سکتے۔ آپ مجھ پر اعتماد کا اظہار کریں تو ٹوٹے ہوئے رشتے پھر استوار ہو سکتے ہیں۔“
لیکن بھٹو نے آخر کس مقصد کے لئے اسے چوری چپھے ملک سے باہر نکال دیا؟ اگر شیخ مجیب الرحمان غدار تھا تو بھٹو کو کیا حق تھا کہ عوام کو اعتماد میں لئے بغیر دوسرے لیڈروں سے مشورہ کئے بغیر اس غدار کو رات کی تاریکی میں ہوائی جہاز پر بٹھا کر لندن بھیج دے؟ بھٹو کو کس بات کا خطرہ تھا ؟ کہیں اسے یہ ڈر تو نہیں تھا کہ جو بازی اس نے اتنی تگ ودو کے بعد جیتی تھی۔ وہ شیخ مجیب الرحمان کی وجہ سے خطرے میں پڑسکتی ہے؟ یہ سوال میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں جو آج بھی بھٹو کے جھوٹ پر ایمان رکھتے ہیں؟
غداری کس نے کی تھی؟
اس شخص نے جو گنگا طیارہ اغوا کر کے پاکستان لانے اور لاہور کے ہوائی اڈے پر تباہ کرنے والوں کو قومی ہیرو ثابت کرنے پر تل گیا تھا؟
یا اس شخص نے جس نے قوم خبردار کیا تھا کہ یہ ایک سازش ہے ۔ جس کا مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فضائی رابطے کو دشوار بنانا ہے۔؟
کیا بھٹو کے پاس دماغ نہیں تھ اکہ اسے اس واقعے پر بھارتی ردِ عمل کا اندازہ نہ ہو پایا۔
جو بات شیخ مجیب الرحمان کے ذہن میں آگئی وہ بھٹو کے ذہن میں کیوں نہ آئی حالانکہ بھٹو کو دماغی صلاحیتوں کے اعتبار سے شیخ مجیب الرحمان سے بہت بلند شمار کیا جاتا ہے؟
شیخ مجیب الرحمان سمجھ گیا کہ یہ سارا ڈرامہ بھارت نے اس مقصد کے لئے کھیلا ہے کہ اسے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان پروازوں پر پابندی لگانے کا بہانہ مل جائے۔ لیکن بھٹو کا شاطر دماغ بھارت کی اس حکمتِ عملی کو سمجھنے سے قاصر رہا۔
اگر شیخ مجیب الرحمان غدار ہوتا اور اس کا مفاد مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان فضائی رابطہ ٹوٹ جانے میں ہوتا تو وہ اہلِ پاکستان کو اس بھارتی سازش کے بارے میں خبردار کرنے کی زحمت کیوں کرتا؟
اور اگر بھٹو غدار نہیں تھا تو اس نے عوام کو اس امکان سے باخبر کرنا ضروری کیوں نہ تصور کیا کہ بھارتی طیارے کو اغوا کر کے پاکستان لانے اور اہلِ پاکستان سے خراجِ تحسین حاصل کرنے والے ” کشمیری حریت پسند“ کسی خطرناک بھارتی سازش کے مرکزی کردار بھی ہو سکتی ہیں؟ کشمیری حریت پسندوں سے اس نوعیت کا ” مجاہدانہ“ کارنامہ عین اس وقت کیوں سر انجام دلایا گیا۔ جب بھٹو کی سیاست مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان کے ساتھ تصادم کے راستہ پر لے جارہی تھی؟ کیا یہ محض اتفاقی تھا یا اسی سازش کی کڑی تھی جس کے تحت پاکستان کو توڑا گیا؟
اور اگر بھٹو محض کشمیری عوام کے جذبہ حریت کے ساتھ گہری وابستگی ظاہر کرنے کے جوش میں اپنے شاطر دماغ سے کام نہ لے سکا تو اس نے اپنے دورِ اقتدار میں اس گہری وابستگی اور اس جوش کا مظاہرکرنے سے پرہیز کیوں کیا؟ جس بھٹو نے اپنی لیڈری کی بنیادی کشمیر کو ہر قیمت پر آزاد کرانے کے عزم پر استوار کی تھیں اس بھٹو نے مسئلہ کشمیر کو شملہ سمجھوتے کی قبر میں کیوں دفن کر دیا؟ اور اگر اس نے مسئلہ کشمیر کو شملہ سمجھوتے کی قبر میں دفن نہیں کیا تو پھر اس کے ساڑھے پانچسالہ دورِ اقتدار میں اس مسئلہ کے حل کے لئے کیا کیا کوششیں کی گئیں؟
اگر یہ سوالات بھٹو کے جھوٹ پر ایمان رکھنے والون کے ذہنوں میں نہیں ابھرے تو مجھے کوئی حیرت نہیں۔ ابوجہل نے بھی تو دمِ آخر تک سچائی کی روشنی اپنے دل دماغ میں داخل نہیں ہونے دی تھی اور وہ سرزمین پنجاب بھی تو یہی تھی جہاں انگریزوں نے ایک نبی جنم دیا تو خاتم النبین کی امت میں سے کچھ لوگوں نے اس عظیم جھوٹ کی دہلیز پر سجدے شروع کر دیئے تھے۔ یہاں میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top