یورپی روبوٹ مریخ پر اترنے کے لیے تیار

شیاپیریلی مشن

یورپی خلائی ادارہ (ای ایس اے) اپنا تحقیقاتی خلائی روبوٹ مریخ پر اتارنے کے لیے تیار ہے۔

ای ایس اے کا ‘سکیاپریلی’ نامی روبوٹ زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر کے سفر کے بعد آنے والے چند گھنٹوں میں مریخ کی سرزمین پرقدم رکھنے والا ہے۔

مریخ پر اترنا خطرناک عمل ہے لیکن اسے آنے والے چار برسوں میں ای ایس اے کی بہت قیمتی تحقیقاتی گاڑی بھیجنے کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

چھ پہیوں والا یہ روبوٹ مریخ کی سطح میں سوراخ کر کے وہاں زندگی کے آثار کا کھوج لگائے گا۔

چھوٹے روبوٹ کو مریخ کی سطح پر اتارنا قدرے آسان کام ہونا چاہیے لیکن سائنسی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ مریخ کوئی بہت مہمان نواز سیارہ نہیں ہے اور وہاں انتہائی جدید اور پیچیدہ روبوٹوں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

زمین کے قریبی پڑوسی پر روانہ کیے جانے والے بیشتر مشن ناکام رہے ہیں۔ بہت سے اپنے ہدف سے بھٹک گئے جبکہ بعض سرخ سیارے کی سطح سے ٹکرا کر چور چور ہو گئے۔

یورپ خلائی ادارے کے لیے سکیاپریلی کی کامیابی گذشتہ مشن کی ناکامی کا ازالہ کر سکتی ہے۔ اس سے قبل سنہ 2003 میں ‘بیگل2’ مریخ پر اتر تو گيا تھا لیکن اس کے فوراً بعد ہی اسے تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مریخ مشنImage 
روبوٹ مریخ پر گرینچ مین ٹائم کے مطابق دوپہر دو بج کر 58 منٹ پر اترے گا

سکیاپریلی سے بہتر کارکردگي کی توقعات ہیں۔ یہ وہاں اترنے کے لیے اور اپنی رفتار کو 21 ہزار کلومیٹر فی گھنٹے سے صفر پر لانے کے لیے بہت سے راکٹوں اور پیراشوٹ کا استعمال کرے گا۔

600 کلو وزن کے اس روبوٹ کے لیے آخری دو میٹر اہم ہیں جس کے دوران وہ سطحِ مریخ پر اپنے پیٹ کے بل گرے گا۔

اترنے کے دوران ای ایس اے تحقیقاتی گاڑی یو ایچ ایف سگنل نشر کرے گی جسے ایک انڈین ریڈیو دوربین سے وصول کر کے اسے جرمنی میں اس کے کنٹرولرز تک بھیج دیا جائے گا۔

روبوٹ مریخ پر گرینچ مین ٹائم کے مطابق دوپہر دو بج کر 58 منٹ پر اترے گا۔ اترنے کے بعد بھی اگر سکیاپریلی کی آواز آتی رہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ اٹلی کا تیارہ کردہ یہ روبوٹ مریخ کی سطح پر سلامتی کے ساتھ اتر چکا ہے۔

ای ایس اے کے سینیئر مشیر مارک مک کاگرین نے کہا: ‘ہر کوئی مسکرا رہا ہے اور پرامید ہے لیکن آپ ان کے چہروں پر دباؤ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

‘لیکن میرے خیال میں جب ہم اس کی فضا سے گزریں گے تو ان چھ منٹوں میں بہت ضبط کی ضرورت ہو گی۔’

Scroll To Top