مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhootمصنف غلام اکبر

23-12-2017…

..قسط:47


ہتھیار جنرل اے کے نیازی پاکستان ڈال رہا تھا۔ ہتھیار جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے نہیں بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالے جا رہے تھے۔ یہی وہ بات تھی جسے اہلِ پاکستان کے ذہنوں میں بٹھانے کے لئے بھٹو نے وہ فلم خصوصی انتظامات کر کے منگوائی تھی۔
اور اس وقت جب میں اپنی ذلت اور اپنی قوم کی رسوائی کا تماشہ پاکستان ٹیلی ویژن پر دیکھ رہا تھا تو میری قومی انا کے زخموں نے چیخ کر بھٹو سے کہا تھا۔
” شاہنواز کے بیٹے۔ آج میں بے بس ہوں، میری قوم بے بس ہے اور میرے وطن کے پاسبان بے بس ہیں۔ آج تم ہم سب کی بے بسی پر قہقے لگا سکتے ہو، لیکن یاد رکھو ہمیں ہماری بے بسی کی تصویر دکھا کر تم نے اپنے انجام کو آواز دی ہے ۔ ہم تم سے اس تذلیل کا انتقام ضرور لیں گے۔ تم نے ہماری ہی نہیں صلاح الدین ایوبیؒ اور ٹیپو ؒ کے خون کی تذلیل کی ہے۔ ہماری پوری تاریخ کی تذلیل کی ہے۔ یاد رکھو آج کے بعد میری اور مجھ جیسے لاکھوں قوم پرستوں کی ہر نفرت کا رخ تمہاری طرف ہوگا۔ ۵۱ دسمبر ۱۷۹۱ءکے داغ کو تم ہماری تقدیر بنانا چاہتے ہو، لیکن محمد کے رب کی قسم ہم اس داغ کو اپنی تقدیر نہیں بننے دیں گے۔ آج کے بعد تم ہماری نظروں میں وہ داغ ہو جسے خود ہم ہی نے اپنی تاریخ کے چہرے پر لگایا ہے اور اس داغ کو مٹانا ہمارا نصب العین ہے۔ آج تم طاقتور ہو اور ہم کمزور ہیں ، لیکن وہ دن دور نہیں جب میرا ہاتھ، میری قوم کا ہاتھ اور میرے وطن کے پاسبانوں کا ہاتھ تمہاری گردن پر ہوگا۔“
شملہ سمجھوتہ اور سندھ فسادات
ڈیک
(بھٹو، میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر طفیل شہید جیسے سرفروشوں کی فوج کا تمسخر اڑا رہا تھا اور میں اس سے کہنا چاہتا تھا۔ ”شکستِ پاکستان پر اپنے اقتدار کا محل تعمیر کرنے والے ملت فروش۔ وہ دن ضرور آئے گا۔ جب تمہارا نام پوری قوم کے لئے گالی بن چکا ہوگا۔“)
میرا قلم کئی مقامات پر بہت زیادہ جذباتی ہوگیا ہے۔ لیکن میں شروع میں ہی واضح کر چکا ہوں کہ یہ کوئی تاریخی دستاویز نہیں۔ میرے جذبات کی کہانی ہے۔ میرے ان جذبات کی کہانی ہے جو صرف میرے ہی نہیں میرے لاکھوں ہم وطنوں کے جذبات بھی ہیں یہ سب کچھ لکھتے وقت میں محسوس کر رہا ہوں کہ میں صرف غلام اکبر ہی نہیں پاکستان بھی ہوں۔ یہ صرف میرے جذبات کی ہی نہیں، پاکستان کی بھی کہانی ہے۔ اس پاکستان کی کہانی جسے بھٹو نے کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر پھاڑ ڈالا میرا قلم بھٹو کے بارے میں ہرگز ہرگز غیر جذباتی نہیں ہو سکتا۔ میں اس جھوٹ سے نفرت کیوں نہ کروں جسے کبھی میں سچ سمجھتا تھا اور میری یہی بھول مجھے شاہراہِ تاریخ کے اس مقام پر لے آئی جہاں سے میں پاکستان کی شکست وریخت۔ خود اپنی شکست و ریخت کا تماشہ ایک بے بس تماشائی کی حیثیت سے دیکھنے پر مجبور تھا۔
پاکستان ٹوٹا، بنگلہ دیش قائم ہوا اور باقیماند پاکستان بھٹو کے خوابوں کی تعبیر بن گیا اپنے خوابوں کی اس تعبیر کو بھٹو نے نئے پاکستان کا نام دیا اور وہ جو میرے خواب تھے وہ جنگی قید بن کر بھارتی کیمپوں میں چلے گئے۔
بھٹو نے اپنی پہلی ہی تقریر میں میرے مشرقی پاکستان کا نام بدل کر مسلم بنگال رکھ دیا تھا، لیکن عوام کو دھوکہ دینے کے لئے اس نے اپنے اقتدار کے ابتدائی ایام میںبنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنے کا ڈرامہ کھیلا۔ اس نے اعلان کیا کہ جو ملک بھی بنگلہ دیش کو تسلیم کرے گا اس کے ساتھ پاکستان اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لے گا۔ اس اعلان پر چند روز تک عملدر آمد بھی کیا گیا۔ چند ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع بھی کئے گئے۔ مگر ہاتھی کے یہ دانت محض دکھا وے کے تھے۔ اندر ہی اندر بھٹو نے بنگلہ دیش کو ایک ” اٹل تاریخی حقیقت“ بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ اسی مصوبے کے مطابق اس نے ایک رات کی تاریکی میں شیخ مجیب الرحمان کو رہا کرکے خصوصی طیارے کے ذریعے لندن بھجوا دیا۔ اتنے بڑے تاریخی حادثے کے اتنے اہم کردار کو اتنی پر اسرار خاموشی کے ساتھ اپنے پر اسرار حالات میں یہاں سے کیوں رخصت کیا گیا؟ بھٹو نے اُن لیڈروں کو شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ ملاقات کا موقع کیوں نہ دیا جو عوامی لیگی رہنما کے دیرینہ دوست اور ساتھی تھے؟ شیخ مجیب الرحمان کو پریس کانفرنس سے خطاب کر کے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع کیوں نہ دیا؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا ناکہ شیخ مجیب الرحمان اہلِ مغرب پاکستان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا۔ پاکستانی جارحیت پر زبردست نکتہ چینی کرتا۔ مشرقی پاکستان میں بھارت کی فوجی مداخلت کو جائز قرار دیتا۔ بنگلہ دیش کے قیام کو بنگالیوں کے خوابوں کی تعبیر بتاتا اگر وہ یہ سب کچھ کہتا تو ہم اپنے آپ کو یہ تسلی دے لیتے کہ ایک غدار اور علیحدگی پسند سے اور کس بات کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ہم اس کی باتوں کے زہر کو اسی صبر کے ساتھ پی لیتے جس صبر کے ساتھ ہم نے سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے اور جنرل اروڑہ کے سامنے پاکستانی فوجوں کے ہتھیار ڈالنے کے سانحے کو سہہ لیا تھا۔ اس طرح بھٹو کو اپنی پوزیشن صاف کرنے کا ایک بڑا ہی سنہری موقع ملا جاتا اور وہ بڑے اعتماد کے ساتھ عوام کو یہ بتانے کے قابل ہو جاتا کہ پاکستان میری ہوسِ اقتدار کی وجہ سے نہیں ، شیخ مجیب الرحمان کی غداری کی وجہ سے ٹوٹا ہے۔

(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top