امریکی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے

zaheer-babar-logo

بظاہر پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر مشکلات سے دوچار ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کا تازہ ثبوت امریکی نائب صدر مائک پینس کے بیان کی شکل میں ظاہر ہوا جس میں ان کا کہناتھا کہ ”پاکستان کو دشمنوں اور دہشت گردوں کو پناہ دینے پر بہت کچھ کھونا پڑے گا جبکہ امریکہ کے ساتھ شراکت داری پر پاکستان بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ “
ماہرین کے مطابق افغانستان کی 16سالہ جنگ میں پہلی بار کسی اعلی امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کو یہ خطرناک انتباہ دیکھنے میںآیا ۔ افغانستان میں بگرام ائربیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس پر رکھا ہوا ہے اور میں ان کی بات کو دہراتا ہوں کہ پاکستان سرحد موجود طالبان کے گروہوں کو محفوظ پناگاہیں فراہم نہ کرے۔ پاکستان ان گروہوں کو امریکی فورسز اور افغان فوجیوں کے ساتھ لڑائی سے روکے۔“
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلر نے پاکستان کو خبر دار کیا تھا کہ اگر اس نے حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گردگروہوں سے روابط ختم نہیں کیے تو وہ اپنے علاقوں پر کنڑول کھو دے گا۔ “
پاکستان نے ایک بار پھر امریکی الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب امریکہ صدر کا بیان امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے تفصیلی مذاکرت کے منافی ہے۔ ان کے بعقول اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہ جاری نہیں کیا کرتے۔ ترجمان کے بعقول تنبیہ ان عناصر کو کی جانی چاہے جو منشیات کی پیدوار میں زبردست اضافے ، لاقانونی علاقوں میں توسیع،صنعتی پیمانے پر بدعنوانی،گورنس کے خاتمہ اور داعش کو افغانستان میں موقعہ دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ اصل ضرورت امن اور مصالحت پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے“
یقینا پاک امریکہ کے تعلقات کو ممکن حد تک بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ملک جن مسائل سے دوچار ہے اس کے پیش نظر یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست کے ساتھ کسی قسم کی محاذآرائی کی جائے۔ اعلی امریکی عہدیداروں کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ۔ سمجھ لینا چاہے کہ اب امریکہ ہی پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ جنوبی ایشیاءمیں اس کا دست وبازو بننے کے لیے بھارت اور اففانستان پیش پیش ہیں۔
سمجھ لینا چاہے کہ پاکستان دشمنی میں بھارت سے کسی رعایت کی توقع نہیں۔ ایسے میں جب نئی دہلی میںنریندر مودی کی شکل میں ایسی شخصیت برسر اقتدار ہے جس کی سیاست اسلام ، پاکستان اور اسلام دشمنی کے گر د ہی گھومتی ہے کیا خیر کی توقع ر کھی جائے ۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان کے گھرد گھیرا تنگ ہورہا۔ ہمیں فوری طور پر چین سمیت ان علاقائی اور عالمی قوتوں سے مشاورت کا آغاز کرنا چاہے جو پاکستان کے خیر خواہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس خدشہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ کسی بھی وقت کہیں بھی پاکستان کے خلاف کوئی کاروائی کرسکتا ہے۔ پاک چین دوستی اپنی جگہ مگر اس بات کا امکان کم ہے کہ کسی پاکستان مخالف امریکہ کاروائی کو روکنے کے لیے چین پاکستان کی توقعات پر پورا اترے۔ سمجھ لینا چاہے کہ علاقائی سے بڑھ کر عالمی سطح پر خود کو منواتا چین پاکستان کے لیے اپنے اہداف سے پچھے نہیں ہٹے گا۔
ادھر سینٹ کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کیا امریکہ حافظ سعید کو پکڑنے کے لیے ایبٹ آباد جیسی کاروائی کرسکتا ہے۔ سینیٹر نزہت صادق کی سربراہی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے حافظ سعید کے سر کی قیمت ایک کروڈ ڈالر مقرر کی ہے جبکہ اس سے قبل اسامہ بن لادن کے سر کی قیمت اڈھائی کروڈ ڈالر مقرر کی گی ۔ مذکورہ اجلاس میں سینٹیر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ امریکہ کے نائب صدر اور اعلی حکام نے دھکمی دی ہے کہ اگر پاکستان نے ان کا ساتھ نہ دیا تو پاکستان کو اپنا کچھ علاقہ بھی کھونا پڑ سکتا ہے۔ اس پر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے مذکورہ بیان کو امریکہ کی ہرزہ سرائی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ، ان کے بعقول پاکستان میں دہشت گردوںکی کوئی محفوظ پناگاہیں موجود نہیں۔“
پاکستان کو یقینا حالات کی نزاکت کا احساس کرنا ہوگا ، یقینا امریکہ کے ساتھ خودمختار اور باوقارانداز میں بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔ افغانستان میں انکل سام اور اس کے اتحادی جن حالات سے دوچار ہیں اس کے پیش نظر یہ حیران کن نہیںکہ ناکامی کا ملبہ پاکستان پر لادھ دیا جائے ۔اس تجزیہ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک امریکہ تعلقات میں تناو کا فائدہ وہ قوتیں اٹھا سکتی ہیں جو اس خطہ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے طویل عرصہ سے کوشاں ہیں۔پاک امریکہ موجود تعلقات پر پارلمینٹ میں بحث ہونی چاہے یعنی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھ کر ملک کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہے۔ جب یہ معاملہ پارلمینٹ میںزیر بحث آئیگا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کے سامنے پارلیمان اپنا موقف پیش کریگا تو اس کی بہرکیف اہمیت ہوگی۔ حیرت اور تشویش کا مقام یہ ہے کہ اہل سیاست کے علاوہ قومی میڈیا کا قابل زکر حصہ بھی اعلی امریکی عہدیداروں کی پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں۔

Scroll To Top