آئینہ جھوٹ نہیں بولتا 11-08-2012

kal-ki-baat

چوہدری نثار علی نے ایک اور فکر انگیز انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ الزام تراشی سے کوئی شخص بڑا لیڈر نہیں بن سکتا۔ انہوں نے (ن) لیگ اور تحریک انصاف کی قیادتوں کے درمیان الزام تراشی کے کھیل کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک غیر جانبدارانہ پانچ رکنی میڈیا ٹیم کو امپائرز کا کردار ادا کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔یقینی بات ہے کہ چوہدری صاحب کے ذہن میں مجوزہ پانچ رکنی کمیٹی کے ارکان کے نام بھی موجود ہوں گے۔ اس کمیٹی کی سربراہی وہ یقینی طور پر جنا ب عرفان صدیقی کو سونپنا چاہیں گے۔ نصرت جاوید اور مشتاق منہاس کے نام بھی ان کے ذہن میں ضرور موجود ہوں گے۔ وہ نجم سیٹھی کو اس کمیٹی میں لازماً شامل کرناچاہیں گے۔ ممکن ہے کہ وہ ایک خاتون کو نمائندگی دینا ضرور چاہیں۔ چنانچہ ثنا بُچہ بھی جج قرار پاسکتی ہیں اور یہ اعزاز مہر بخاری کے حصے میں بھی آسکتا ہے۔
تجویز عام حالات میں بہت اچھی سمجھی جاسکتی تھی۔ لیکن عمران خان ایک تاریخی فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ وہ خواجہ آصف کو عدالت میں لے جائیں گے تاکہ قوم یہ جان سکے کہ جھوٹ اور الزام تراشی کی سیاست کو ن کررہا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہوگا کہ عمران خان نے یہ اعلان محض ایک رسمی اقدام کے طور پر کیا ہے اور وہ درحقیقت عدالت کا رخ نہیں کریں گے۔
لیکن یہ خیال غلط ثابت ہونے والا ہے۔ میں نے خان صاحب سے جب پوچھا کہ کیا وہ واقعی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو اُن کا جواب تھا۔
”میں ہر قیمت پر ایک ایک ایسے جھوٹ کا پول کھولوں گا جو )ن( لیگی بول رہے ہیں۔ اور اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ عدالت میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔“
جتنا میں عمران خا ن صاحب کو جانتا ہوں ’ اس کی بنیاد پر پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ عنقریب پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سیاسی مقدمہ عوام کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے۔
ایک صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ ” کیا چیف جسٹس صاحب ایک ایسے مقدمے کو عدالت میں آنے دیں گے جو)ن( لیگیوں کی ہزیمت کا باعث بن سکتا ہو۔؟“ انہیں میرا جواب تھا۔
” عنقریب چیف جسٹس صاحب کے خلاف جاری اس مکروہ پروپیگنڈے کی قلعی بھی کھل جائے گی۔“
آخر میں چوہدری نثار علی کو میں یہ حقائق یاد دلانا چاہوں گا کہ زیڈ اے بھٹو کو جس پارٹی نے ملک توڑنے والا سازشی ` اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو جس قیادت نے سکیورٹی رسک قرار دیا تھا ` وہی پارٹی اب عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
چوہدری نثارعلی کو اگر اس پارٹی کا نام معلوم نہیں توآئینے کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔ وہاں انہیں الزام تراشی کی سیاست کو ملک میں فروغ دینے والا مکروہ چہرہ نظر آجائے گا۔
آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔

Scroll To Top