یہ اس زمانے کی کہانی ہے جب نوازشریف اپنے چھوٹے بھائی کو آگے لانا چاہتے تھے ۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

آج میں حالاتِ حاضرہ سے ہٹ کر ایک کہانی سنا رہا ہوں۔ ویسے اس کہانی کا تعلق حالاتِ حاضرہ سے ہی ہے۔
یہ مارچ 1985ءکے اوائل کی بات ہے۔ میں تب میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ کا سربراہ تھا۔ کچھ بڑے ہی مشہور نام میری کمپنی کے ساتھ وابستہ تھے۔ مثال کے طور پر پروفیسر شعیب ہاشمی ` میڈم سلیمہ ہاشمی ` عظمیٰ گیلانی ` میڈم نوید شہزاد ` آصف رضا میر `منو بھائی او ر توقیر ناصر وغیرہ۔۔۔
اُن دنوں ایک پراجیکٹ پر میڈاس اور روزنامہ نوائے وقت کا اشتراک ہوا۔ مئی1985ءمیں صدر جنرل ضیاءالحق جنوبی کوریا کا دورہ کرنے والے تھے۔ اس سے پہلے روزنامہ نوائے وقت نے جنوبی کوریا پرایک خصوصی اشاعت کا پروگرام بنایا۔ اور طے یہ پایا کہ متذکرہ خصوصی اشاعت کے ساتھ ایک کورین ثقافتی طائفہ پاکستان آئے گا اوربڑے شہروں میں ثقافتی شو کرے گا۔ اس ثقافتی پراجیکٹ کی ذمہ داری میڈاس نے قبول کی۔ میرے ایک پرانے دوست طارق خان تب روزنامہ نوائے وقت کے جنرل منیجر تھے۔ ہم دونوں نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا۔ ایک ثقافتی گروپ کے ساتھ ہمارا رابطہ ہوچکا تھا۔ اس کا سربراہ کم ہمارے دورے کے دوران ہماری میزبانی کررہا تھا۔ اس پراجیکٹ میں ہمیں پاکستان میں مقیم جنوبی کوریا کے سفیر کی سرپرستی حاصل تھی۔ مقصد یہ تھا کہ صدر جنرل ضیاءالحق کے دورے سے پہلے جنوبی کوریا کے بارے میں زیادہ آگہی حاصل ہوجائے۔ جنوبی کوریا کے سفیر کا مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان آنے والے کورین طائفے کا جو شو راولپنڈی میں ہو اس کے مہمانِ خصوصی جنرل ضیاءالحق ہوں۔ ثقافتی شو لاہور میں بھی ہونے تھے اور کراچی میں بھی۔جنوبی کوریا کے سفیر کی خواہش یہ بھی تھی کہ ہر شو میں ایک معروف حکومتی شخصیت مہمان خصوصی کے طور پر موجود ہو۔
میں نے تمام شوز کے انتظامات کی ذمہ داری عظمیٰ گیلانی اور آصف رضا میر کے سپرد کی۔ سٹیج اینکر کے لئے ہم نے معین اختر کا انتخاب کیا۔ میرے لئے پریشانی کی بات یہ تھی کہ جنرل ضیاءالحق کے ساتھ میرا کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ انہیں مہمانِ خصوصی بنانے کی کوئی صورت مجھے نظر نہیں آرہی تھی۔ اور وہ بھی ایک ثقافتی شو میں جہاں کوریا کے رقص پیش کئے جانے تھے!
میرا یہ مسئلہ یوں حل ہوا کہ ایک روز میں پریشان بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر بشارت الٰہی میرے دفتر تشریف لائے۔ وہ ایک کاروباری منصوبے کے حوالے سے میرے ایک کلائنٹ تھے۔ بڑے ہی اچھے آدمی تھے اور میرے ساتھ ہمیشہ بڑی محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ انہو ں نے مجھے پریشان دیکھا تو پوچھا کہ کیا بات ہے ۔ میں نے اپنا مسئلہ بیان کردیا۔ اس پر وہ مسکرائے اور بولے۔ ” بس ؟ یہ کوئی پریشان ہونے کی بات ہے۔؟ میں ابھی یہ مسئلہ حل کئے دیتا ہوں۔“
تب مجھے یاد آیا کہ وہ جنرل ضیاءالحق کے برادرِ نسبتی تھے۔ انہوں نے وہیں بیٹھے میرے فون پر جنرل ضیاءالحق کے ملٹری سیکرٹری سے رابطہ کیا۔ معلوم ہوا کہ جنرل ضیاءالحق دورے پر سکھر گئے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ملٹری سیکرٹری سے کہا کہ صدر صاحب سے ان کی بات کرائی جائے۔
قصہ مختصر یہ کہ ڈاکٹر بشارت الٰہی مرحوم کی بدولت صدر جنرل ضیاءالحق لیاقت ہال راولپنڈی میں منعقد کئے جانے والے ثقافتی شو میں مہمان خصوصی بننے پر آمادہ ہوگئے۔
اب مسئلہ لاہور کے شو میں کسی بڑی شخصیت کو لانے کا تھا۔ اتفاق سے ان ہی دنوں میاں نوازشریف وزیراعلیٰ بنائے گئے تھے۔ میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ ہم تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی میں اکٹھے کام کرچکے تھے۔ اس کے علاوہ میڈاس کا افتتاح بھی میاں صاحب کے ہاتھوں ہوا تھا۔
میں نے لاہور کے بڑے شو کے لئے میاں صاحب کو دعوت دینے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ بننے پر انہیں مبارکباد بھی دینی تھی۔ چنانچہ میں ان سے ملنے کے لئے ماڈل ٹاﺅن گیا۔
وہ بڑے تپاک سے ملے۔ وہاں اس وقت چوہدری شجاعت حسین بھی موجود تھے۔ میاں صاحب نے میرا تعارف کراتے ہوئے چوہدری صاحب سے مذاق میں کہا”مجھے وزیراعلیٰ بنوانے میں اکبر صاحب کا بڑا ہاتھ ہے۔۔۔“ جواب میں چوہدری شجاعت ہنس کر بولے۔ ” اکبر صاحب سے ہماری تو برسوں کی شناسائی ہے۔ ہمیں تو انہو ں نے وزیراعلیٰ نہیں بنوایا۔۔۔“
تھوڑی دیر بعد میں نے میاں صاحب کو ایک طرف لے جاکر انہیں جنوبی کوریا سے آنے والے طائفے کے ثقافتی شو میں مہمان خصوصی کے طورپر آنے کی دعوت دی۔
وہ ایک دم گھبرا گئے۔ ” ثقافتی شو ! ابھی ابھی تو میں وزیراعلیٰ بنا ہوں۔ جماعت اسلامی والے میرا حشر نشر کردیں گے ۔۔۔“
میں نے انہیں بتایا کہ مرکزی شو میں مہمان خصوصی کے طور پر صدر جنرل ضیاءالحق تشریف لارہے تھے۔
” واقعی ؟“ میاں صاحب اچھل بڑے۔ پھر بولے۔۔۔ ” مجھے آپ چھوڑیں۔ میں اپنے چھوٹے بھائی شہباز کو آگے لاناچاہتا ہوں۔ آپ اسے مہمان خصوصی بنائیں۔“
پہلے تو میں ہچکچایا ۔۔۔ مگر پھر طے پا گیا کہ لاہور کے پہلے دن کے شو میں مہمان خصوصی شہبازشریف ہی ہوں گے۔
جس روز لاہور میں شو ہونا تھا اس سے ایک دن پہلے ڈاکٹر بشارت الٰہی نے مجھے فون کیا۔
” نوازشریف نے مجھ سے کہا ہے کہ کسی طرح ثقافتی طائفے کے سربراہ کے ساتھ شہبازشریف کی خصوصی ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ مقصد جنوبی کوریا کے ساتھ کاروباری اشتراک کی کوئی صورت نکالنا ہے۔۔۔“
” یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ۔ “ میں نے جواب دیا۔ چنانچہ شو کے روز الحمراءآرٹ کونسل میں میاں شہبازشریف کی ملاقات کورین طائفے کے سربراہ کم کے ساتھ طے پا گئی ۔
آپ کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ چند برس بعد موٹر وے کا جو منصوبہ تیار ہوا اس میں مرکزی حیثیت جنوبی کوریا کی کمپنی ” ڈائیوو“ کی تھی۔
یہ کہانی بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ میاں نوازشریف تب کتنی چاہت کے ساتھ اپنے بھائی کو ” لائم لائٹ“ میں لانا چاہ رہے تھے۔۔۔

Scroll To Top