مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhoot

مصنف غلام اکبر

22-12-2017… …

…..قسط:46


مشرقی پاکستان پر بھارت کا قبضہ ہو گیا۔ پاکستانی فوجی بھارت کے قیدی بن گئے اور بھٹو امریکی صدر سے آشیرواد حاصل کرنے کے بعد فاتحانہ شان کے ساتھ امریکہ سے اسلام آباد پہنچا اور بڑے اطمینان کے ساتھ اس کرسی پر بیٹھ گیا جس کی خاطر اس نے اتنے جھوٹ بولے تھے۔ اتنے تماشے کئے تھے۔ اتنے ناٹک رچائے تھے۔ اتنے کھیل کھیلے تھے۔ اتنے بہروپ اپنائے تھے، اتنے پاپڑ بیلے تھے اور اتنے جرائم کئے تھے۔

میر صادق نے اقتدار کے لئے فتح علی ٹیپو (رحمتہ اللہ علیہ)   کے سرنگا پٹم کے دروازے انگریزوں پر کھول دیئے تھے۔ میر جعفر نے اقتدار کے لئے پلاسی کے میدان کو بنگالی مسلمانوں کی آزادی کا مدفن بنا دیا تھا۔ ابو عبداللہ نے اقتدار کے لئے اندلسی مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ غرناطہ میں فرڈی نند کے لشکر کا استقبال کیا تھا اور بھٹو نے اقتدار کے لئے اس پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جو مسلم قوم کی نشاہ ثانیہ کا چراغ بن کر ۴ اگست ۷۴۹۱ءکو دنای کے نقشے پر روشن ہوا تھا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک فرد کی غداری کی سزا پوری قوم کو کیوں بھگتنا پڑتی ہے۔ اگر میر صادق نہ ہوتا تو شاید ٹیپو (رحمتہ اللہ علیہ)    کی تلوار باطانوی سامراج کو کاٹ کر پھینک اگر میر جعفر نہ ہوتا تو شائد سراج الدولہ کا جذبہ حریت پلاسی کےمیدان کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی قبر بنا ڈالتا۔ اگر ابو عبداللہ نہ ہوتا تو شایدفرزندانِ اسلام غرناطہ سے بلند ہونے والی تکبیروں کو پھر قرطبہ، اشبیلیہ اور طلیطکہ کی فضاو¿ں میں لے جاتے اور اگر بھٹو نہ ہوتا تو شاید ۴۱ اگست ۷۴۹۱ءکو قائم ہونے والے پاکستان کی سرحدیں سکڑنے اور سمٹنے کی بجائے سری نگر تک پھیل چکی ہوتیں۔ جو پاکستان ۵۶۹۱ءمیں اپنے سے پانچ گنا بڑے بھارت کے لئے ایک طاقتور چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا آج کوئی ایسا اقدام کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جس سے بھارت کے ناراض ہونے کا خدشہ ہو۔ تاریخ کے سفر میں پاکستان ۱۷۹۱ءکے دوران بہت پیچھے رہ گیا اور بھٹو آگے بڑھتا چلا گیا۔
O O
بر سراقتدار آنے کے بعد بھٹو نے پہلا کام یہ کیا کہ مشرقی پاکستان کا نام اپنی لغت میں سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔ اپنی پہلی ہی تقریر میں اس نے مشرقی پاکستان کی بجائے مسلم بنگال کی اصطلاح استعمال کی جو آہستہ آہستہ بنگلہ دیش کا روپ دھار گئی۔
دوسرا کام بھٹو نے یہ کیا کہ ان تمام جنرلوں کو قربانی کا بکر ا بنا کر الگ کردیا جنہوں نے اسے مسندِ اقتدار تک پہنچانے کے لئے راستہ ہموار کیا تھا۔ جو شخص اقتدار کی خاطر ملکی سا لمیت کو پارہ پارہ کر سکتا تھا۔ وہ ایسے جنرلوں کی دوستی کی پرواہ کیسے کرتا جو عوام کی نظروں سے گرچکے تھے؟
بھٹو کا تیسرا کام یہ تھا کہ جنرل یحییٰ خان کو سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیہ کا واحد ذمہ دار ثابت کرنے کے لئے اس نے پوری سرکاری پروپیگنڈہ مشینری کی توپوں کا رخ سابق صدر کی بدکاریوں اور سیہ کاریوں کی طرف کر دیا۔ قوم کے دماغ میں یہ بات ڈالی گئی کہ مشرقی پاکستان اس لئے ہاتھ سے گیا کہ جنرل یحییٰ خان شراب بے تحاشہ پیتے تھے اور نور جہاں اور جنرل رانی جیسی عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے۔
بھٹو کا چوتھا کام یہ تھا کہ اس نے انٹیلی جنس کے دفتر کو سر بہر کر کے پورے ریکارڈ کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ایسی تمام دستاویزات نذر آتش کردی گئیں جن کا تعلق بھٹو کی اپنی سازشوں ، سرگرمیوں اور سیہ کاریوں سے تھا۔
بھٹو کا پانچواں کام یہ تھا کہ اس نے خصوصی انتظامات کر کے ڈھاکہ سے وہ گلم منگوائی جس میں پاکستانی افواج کو بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ یہ فلم کئی بار پاکستان ٹیلی ویژن سے ٹیلی کاسٹ کی گئی تا کہ قوم خود اپنی نگاہوں سے اپنے محافظوں کی ذلت و رسوائی کا منطر دیکھے اور بھارت پر اپنی برتری ثابت کرنے کی امنگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردے۔
اور جس روز میں نے یہ فلم دیکھی تو وہ شخص جسے میں نے اپنی ملی تمناو¿ں کا نقیب اور اپنے جذبہ ءحب الوطنی کا جیتا جاگتا پیکر بنا رکھا تھا اچانک اپنے اصلی روپ میں میرے سامنے کھڑا تھا۔ یہ روپ اتنا بھیانک تھا کہ وہ تمام چاہتیں اور وہ تمام عقیدتیں جو میں نے اس شخص سے وابستہ کر رکھی تھیں نفرت کے اس طوفان میں تنکوں کی طرح اڑ گئیں جو میرے دل اور میرے روح کی گہرائیوں سے اٹھا۔ وہ شخص جس نے یکم دستمبر۵۶۹۱ءکی رات کو کہا تھا کہ صلاح الدین ایوبی (رحمتہ اللہ علیہ)    کے جانشین برہمنی سامراج کے جبڑے توڑ کر اپنی عظیم الشان تاریخ میں جرا¿ت و  شجاعت کے ایک نئے باب کا اضافہ کر یں گے۔ وہ شخص کتنی بے دردی اور کتنی بے رحمی کے ساتھ صلاح الدین ایوبی (رحمتہ اللہ علیہ)  کے جانشینوں کو برہمنی سامراج کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے دکھا رہا تھا۔ ایک ذلت آمیز شکست کے زخموں سے چور جسمِ ملت پر کیسی درندگی اور کیسی سفاکی کے ساتھ تازیا نے برسائے جا رہے تھے۔ تازیانے برسانے والا ہاتھ کیسی سفاکی کے ساتھ تازیانے برسائے جا رہے تھے۔ تازیانے برسانے والا ہاتھ کسی اور کا نہیں اسی شعلہ نوالیڈر کا تھا جس نے بھارتی استعمار کے خلاف ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا حوصلہ قوم کو دیا تھا۔ اب اس لیڈر کو اپنی منزل مل گئی تھی اور اسے اس حوصلے کی ضرورت نہیں تھی اب اس کا مفاد اس بات میں تھا کہ اس حوصلے کو احساسِ شکست کی چکی میں پیس ڈالا جائے۔ چنانچہ وہ قوم کو دکھا رہا تھا کہ جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے اے کے نیازی نے اور جگجیت سنگھ اروڑہ کے سپاہیوں کے سامنے اے کے نیازی کے سپاہیوں نے کیسی بے بسی کے ساتھ ہتھیار ڈالے۔
شکست کے زخم کو گہرا کرنے اور احساسِ شکست کو دوام بخشنے کے لئے بھٹو اس سے بہتر نفسیاتی حربہ اور کونسا اختیار کر سکتا تھا کہ قوم اپنی آنکھوں سے اپنی ذلت و رسوائی کا منظر دیکھے۔

(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top