شہدا کے ورثاءکو شکایت کا موقعہ نہ دیں

zaheer-babar-logo

پشاور ہائی کورٹ میںدائر درخواست میںموقف اختیار کیا گیا کہ شہید کا رتبہ اعلی ہے مگر پولیس کے شہدا پیکج میں تفریق برتی جارہی ہے، اس لیے عدالت کو بتایا جائے کہ کیا پولیس اہکاروںکو شہدا کے پیکجیز دیے جارہے ہیں، مزید یہ سرکاری طور بتایا جائے کہ شہدا میں کوئی امتیاز نہیں برتا جارہا۔درخواست گزارکے مطابق ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سپاہی رینک کے بعض شہید اہلکاروں کی بیوائیں مسلسل دفاتر کے چکر لگاتی ہیں تاکہ انھیں رقوم کی ادائیگی ہوسکے۔ اس پر عدالت نے انسپکڑ جنرل پولیس خبیر پختوانخواہ اورصوبائی سیکرٹری فنانس کو نوٹس جاری کیے ہیں کہ وہ 15دن کے اندر جواب دیں۔“
نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلا ف ہونے والی جنگ میں عام شہریوںکے علاوہ سیکورٹی فورسز کے افسران اور جوان قربانیاں دے رہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ات تک کم وبیش ستر ہزار سے زائد پاکستانی مادر وطن پر قربان ہوچکے۔ ایسا نہیں کہ عوام ان شہدا کی قربانیوں کو بھلا چکے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ جوں جوں وقت گزر رہا شہدا کی قربانیوں کو مذید سراہا جارہا ۔ ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کرنے والے ایسے عظیم پاکستانی ہیں جن کو خراج تحسین پہنچانے کا سلسلہ ہرگز نہیں تھمنا چاہے۔ اپنی جان ملک وملت پر قربان کرنے والوں کو دلوں میں زندہ رکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے گھروالوں کو بھرپور عز ت وتکریم سے نوازا جائے، شہید کا تعلق چاہے کسی بھی شعبے سے اس کے ورثاءکی ہر ضرورت پوری ہونی چاہے۔ اس ضمن میں تینوں مسلح افواج کا نظام یقینا قابل رشک ہے، ان محکموں میں اب تک شائد ہی کوئی ایسی شکایت سامنے آئی جس میں شہدا کے ورثاءکسی قسم کی شکایت کرتے ہوئے دکھائی دیں ، سوال یہ ہے کہ کیا سیویلین اداروں میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے یقینا جواب اثبات میں نہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سیاسی حکومتیں بشیتر محاذوں پر قابل رشک کارکردگی کامظاہرہ کرنے میں ناکام ہیں۔ یہ تاثر عام ہے کہ وفاق اور صوبوں میں براجماں حکومتیں تاحال اپنی ترجیحات درست نہیں کرسکیں۔ذاتی اور گروہی مفاد میں الجھے اہل سیاست کو اس سے کوئی سروکار نہیںکہ بعض شعبوںمیں لاپرواہی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔حقائق کی روشنی میںیہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلافج جنگ کو ہماری سیاسی ومذہبی قوتوں نے دل وجان سے تسلیم نہیں کیا۔ کچھ حلقے تو یہاں تک دعوی کرتے ہیں کہ جاری لڑائی کو محض عسکری اداروں کی زمہ داری قرار دے کر ارباب سیاست محض زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا کررہے۔
سانحہ پشاور کے بعد یہ سمجھا گیا کہ اب اہل سیاست اس سرزمین کو مقتل بننے سے بچانے کے بھرپور کردار ادا کریں گے، ان دنوں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے رہنما جس طرح بلند وبانگ دعوے کرتے رہے وہ بھی ریکارڈ پرہیں ۔ آرمی پبلک سکول میں رونما ہونے والے دلخراش واقعہ کے بعد قومی ایکشن پلان بھی تشکیل دیا گیا مگر اس پر باجوہ عمل نہ ہوسکا، انتہاپسندی کے خلاف متبادل بیانیہ کی دہائی بھی دی جاتی رہی مگر تاحال معاملہ تشنگی طلب ہے۔
کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر سچ یہی ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ نہ نظر آنے والا دشمن کبھی بھی کہیں بھی ایسی کاروائی کرسکتا ہے جو جانی ومالی نقصان کا باعث بن جائے۔بطور قوم ایک طرف سیکورٹی نظام میں موجود نقائص کو دور کرنا ہءتو دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہکاروں کے عزم وحوصلے کو مسلسل بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سرفروشی کا جذبہ ایسا قمتی جذبہ ہے جس کو مال ودولت کے ترازو میں ہرگز نہیں تو لا جاسکتا۔ دراصل اپنے ملک کے لیے جان قربان کرنے والا شخص صرف تحسین و احترام کا طلب گار ہوتا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں دائر ہونے والی درخواست یقینا لمحہ فکریہ ہے۔ یہ امید کرنا غلط نہ ہوگا کہ ایک طرف عدالت اور دوسری انتطامیہ اس معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچائے ۔ درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے جانے والے نکات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہے تاکہ قوم کے ہیرو کے ورثاءکسی مشکل کا شکار نہ ہوں۔ درخواست میں دی جانے والی یہ تجویز بھی صائب ہے کہ سپاہی رینک کے شہیدوں کی بیوہ اور دیگر ورثاءکے مسائل فوری طور پر حل کرنے کے لیے محکمہ پولیس کے ایک آفیسر کی تعیناتی کی جائے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ حکومت سرکاری محکمہ سے وابستہ افراد کے اہل خانہ کی داد رسی تو کرتی ہے مگر ان عام شہریوںکے ورثاءکی مشکلات کم کرنے والا کوئی نہیں جن کی تعداد یقینا ہزاروں میں ہے۔ ہم اپنے ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔ ہمارے زمہ داروں کو اس سوال کو جواب بھی دینا چاہے کہ کیا ریاست کی زمہ داری نہیںکہ وہ مساوی طورپر شہریوںکی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یقینی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں جان سے جانے والے ہر شخص کا مساوی احترام کیا جائے، زخمیوں کا سرکاری خرچ پر بہترین علاج کیا جائے اور شہید کے ورثاءکی معقول حد تک کفالت کی جائے۔ ان دنوں کہنے کو ہمارے ہاں جمہوری نظام رائج ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی طور پر نقائص سے خالی نہیں۔ پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں طاقت ور اور کمزور برابر نہیں،یہی وجہ ہے کہ جاری جنگ میں متاثر ہونے والے غریب طبقہ کی داد رسی ہرگز مثالی انداز میں نہیں کی جارہی۔

Scroll To Top