ٹی وی سکرین پر دین کی خدمت 10-08-2012

kal-ki-baat

ٹیلی ویژن نے ” علمائے “ دین کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا ہے جو اپنی پرفارمنس کے زور پر قوم کی دینی رہنمائی کرنے میں مصروف ہے۔ اس طبقے میں صرف علماءہی نہیں ” عالمات “ بھی خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ فی الحال وینا ملک اس طبقے میں شامل نہیںہوئیں کیوں کہ انہیں ابھی اپنی ” دیگر صلاحیتوں “ کو اجاگر کرکے ” نام و مال “ کمانے سے فرصت نہیں ملی۔ جب اُن کی دیگر صلاحیتیں ماند پڑ جائیں گی تو وہ ” دین کی خدمت “ کے مقدس کام کی طرف توجہ دے سکیں گی۔
ہمارے ٹی وی چینلز نے جس مہارت اور لگن کے ساتھ دین اور سیاست دونوں کو گلیمرائز کیا ہے اس پر انہیں خراج تحسین پیش نہ کرنا اول درجے کی بخیلی ہوگی۔
” علامہ “ عامر لیاقت حسین دین کے سب سے مہنگے ” گلیمربوائے “ بن کر ابھرے ہیں۔ اپنی پرفارمنس میںنکھار لانے کے لئے انہیں گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا پڑا ہے۔ اب وہ پھر ” جیو گھاٹ “ کا پانی پینے کے لئے واپس آچکے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح ڈاکٹر شاہد مسعود واپس اے آر وائی کے گھاٹ پر جاچکے ہیں۔ کچھ فرق یہاں ضرور پڑا ہے ۔ پہلے ڈاکٹر صاحب سیاست کے میدان میں قوم کی رہنمائی کررہے تھے ` اب رہنمائی کے لئے انہیں دین کا میدان دے دیا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ شاید یہ ہو کہ اداکار شان جیسے مانے ہوئے اور جانے پہچانے پر فارمرز نے قوم کو سیاست سمجھانے کا فریضہ سنبھال لیا ہے۔
آپ پرفارمنس اور پرفارمر جیسی اصطلاحوں سے کنفیوز نہ ہوں۔ اپنی زبان میں آپ انہیں اداکار کہہ سکتے ہیں۔ اگر آپ سکرین پر علامہ عامر لیاقت حسین کی ادائیں دیکھیں تو آپ اُس شاندار پرفارمنس کو بھول جائیں گے جو پرتھوی راج نے سکندر اعظم کے کردار میں دی تھی۔
کسی نے کسی سے پوچھا۔ ” عالم دین کیسے بنا جاسکتاہے ؟“
جواب ملا۔ ” اگر آپ بٹن دبا کر اپنے آپ کو آہوں اور سسکیوں میں تبدیل کرسکتے ہیں تو آپ کے لئے عالم دین بننا بالکل مشکل نہیں۔“

Scroll To Top