اگر جرم قوم کی نظروں کے سامنے ہوا ہو !

aaj-ki-bat-logo

 

نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کو ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔۔۔ یہ چیلنج دو طرف سے ہے۔۔۔ ایک تو یہ کہ انہیں اُن افسوسناک اور ناقابلِ رشک روایات کو قصہ پارینہ بناکر نئی تابندہ اور قابل ِ فخر روایات قائم کرنا ہے جو پچھلے چیئرمین قمرالزمان چوہدری نے اپنے ” دورِ اقتدار“ میں قائم کیں۔۔۔ اور اس کے علاوہ یہ کہ انہیں ان تمام مقدمات میں نیب کو ایک ” مثالی استغاثہ “ ثابت کرکے قوم کی توقعات پر پورا اترنا ہے جن میں تمام کے تمام ملزمان غیر معمولی اثر ورسوخ کے حامل ہیں اور جنہیں ایک لحاظ سے ” حکومت ِ وقت “ کا ” پرتو“ کہا جاسکتا ہے۔۔۔
پوری قوم کی نظریں ” پاناما“ نام کے ساتھ منسلک ریفرنسز اور ” حدیبیہ “ نام کے بدنامِ زمانہ کیس پر جمی ہوئی ہیں۔۔۔ عام تاثر یہ ہے کہ اگر ان تمام معاملات میں نیب نے ” دانستہ تساہل“ کا سلسلہ جاری رکھا اور پچھلے چیئرمین کے رویوں کو ان کے متعین کردہ ” افسران “ کے ذریعے اپنائے رکھا تو تمام کے تمام ملزم اپنی گردنیں بچا کر نکل جائیں گے۔۔۔
گزشتہ دنوں عدلیہ کے دو فیصلے نیب کے کمزور استغاثے کی وجہ سے قوم کی توقعات کے برعکس آئے ہیں۔۔۔مجھ جیسے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیا ”قانون“ انصاف سے بالاتر ہے۔۔۔؟ کیا قانون کی باریکیاں انصاف کے قتل کا جواز بن سکتی ہیں؟
اگر ” جرم “ قوم کی نظروں کے سامنے ہوا ہو تو پھر مجرم کو صرف اس بنیاد پر ریلیف نہیں ملنا چاہئے کہ اس کے خلاف مقدمہ جان بوجھ کر کمزور کھڑا کیا گیا ہے۔۔۔

Scroll To Top