مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhot-ka-paigamber-logo-new۔مصنف غلام اکبر

21-12-2017… …

…..قسط:45


صرف یہی نہیں بھٹو نے جنرل یحییٰ خان پر یہ دباو¿ بھی ڈالا کہ وہ روس کی بھارت نوازی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کریں اور سوویت حکومت پر واضح کردیں کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز آجائے۔ اس سے پہلے سوویت حکومت نے حکومت پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ عوامی لیگ کے لیڈروں کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ کر کے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کرے۔ جنرل یحییٰ خان نے بھٹو کے مشورے کو قبول کر تے ہوئے سوویت وزیر اعظم کو ایک ایسا خط لکھا جو اپنے سخت لب ولہجے کی وجہ سے الٹی میٹم کی حیثیت رکھتا تھا۔
اب پاکستان پوری دنیا میں تنہا کھڑا تھا۔
چین اپنے اندرونی حالات کی وجہ سے اس کی عملی امداد کرنے سے قاصر تھا۔
روس کو ایسا الٹی میٹم دے دیا گیا تھا کہ اب اسے کھل کر بھارت کی پشت پناہی کرنے میں کوئی باک نہیں تھا۔
عالمی رائے عامہ پاکستان کے اکثریتی صوبے کے عوام کے خلاف فوجی قوت کے بھرپور استعمال کے نتیجے میں اسلام آباد کے حکمرانوں کے خلاف ہو چکی تھی۔ اور امریکہ کوئی ایسی پالیسی اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا جو عالمی رائے عامہ کے خلاف ہو۔
ان حالات میں پاکستان پر وہ جنگ مسلط کر دی گئی جو شروع ہونے سے پہلے ہی ہاری جا چکی تھی۔
وہ دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب جنرل یحییٰ خان نے اپنے ” فوجی مشیروں“ کے دباو¿ میں آکر مغربی پاکستان کے محاذ سے بھارت پر حملہ کر دیا۔ ہماری عظیم فوج ایک ایسی سازش کا شکار ہو گئی تھی جس کا مقصد اس کے مقدر میں مسلم تاریخ کی بد ترین شکست لکھنا تھا۔
میں اس تیرہ روز جنگ کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا، لیکن یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کئے تھے۔ ایک طرف تو اس نے سقوط مشرقی پاکستان کو یقینی بنا کر باقیماندہ پاکستان میں اقتدار کے دروازے اپنے آپ پر کھول لئے تھے اور دوسری طرف ستمبر۵۶۹۱ءکی جنگ کے دوران جرا¿ت و شجاعت کی غیر قانونی داستانوں کو جنم دینے والی فوج کا وقار خاک میں ملانے کا مکمل بندوبست کر دیا تھا۔
بھٹو کے حق میں یہاں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ وہ تو محض ایک بے بس تماشائی تھا اور اقتدار جنرل یحییٰ خان اور ان کے فوجی ٹولے کے ہاتھ میں تھا۔
دوسرے الفاظ میں وہ فیصلے جنہوں نے پاکستان کی شکست و ریخت کی بنیاد رکھی انہیں بدلنے کا اختیار بھٹو کے پاس نہیں تھا۔
اس دلیل میں کوئی وزن نہیں۔۰۷۹۱ءکے عام انتخابات کے بعد جو بھی اہم فیصلے ہوئے وہ بھٹو کی مرضی کے مطابق ہوئے۔ ابتداءمیں اس نے اپنی عوامی طاقت کا حربہ استعمال کر کے جنرل یحییٰ خان کو بلیک میل کیا اور ان سے ایسے فیصلے کروائے جو ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے اور اس کے بعد اس نے اپنے حامی جنرلوں کی مدد سے جنرل یحییٰ خان کو اپنے عزائم کا قیدی بنا لیا۔ دسمبر۱۷۹۱ءکی جنگ کے دوران اصل اقتدار جنرل یحییٰ خان کے ہاتھ میں نہیں ان جنرلوں کے ہاتھ میں تھا جو اپنا مستقبل اور ملک کی تقدیر بھٹو کے ساتھ وابستہ کر چکے تھے۔
اگر بھٹو نیک نیت ہوتا اور اپنی ہوسِ اقتدار پر جذبہ حب الوطنی کو ترجیح دیتا تو وہ جنرل یحییٰ خان کو پاکستان پر ایک ایسی جنگ مسلط کرنے سے روکنے کی پوری قوت رکھتا تھا جس کے نتائج قوم کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے۔ میں یہ بھی تسلیم نہیں کرتا کہ بھٹو بے خبر تھا، بے وقوف تھا اور نہیں جانتا تھا کہ دمادم مست قلندر کا نعرہ لگا کر قوم کو جنگ کی بھٹی میںجھونکنے کے نتائج کیا ہوں گے۔ بھٹو سب کچھ جانتا تھا اور اس نے جو کچھ بھی کہا کیا کروایا ایک جامع اور طے شدہ منصوبے کے مطابق کہا کیا اور کروایا۔اسے پوری طرح معلوم تھا کہ تمباکو کاشت کر کے گندم کی فصل نہیں اگائی جاسکتی ۔ جب سلامتی کونسل میں وہ پولینڈ کی اس قرار داد کو پھاڑ رہا تھا۔ جسے تمام بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی تو وہ ایک جذباتی قوم پرست کے مجروح احساسات کا اظہار نہیں کر رہا تھا بلکہ برے اطمینان اور بڑی بے دردی کے ساتھ اس پاکستان کے ٹکڑے کر رہا تھا جس پر حکومت کرنا اسکی پہنچ سے باہر تھا۔ اس قرار داد میں فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا تھا اور فریقین سے کہا گیا تھا کہ وہ تصفیہ طلب امور مذاکرات کے ذریعے طے کریں اگر یہ قرار داد منظور ہو جاتی اور بھارت کو اس پر عمل کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا تو عساکرِ پاکستان کو ہتھیار ڈالنے اور جنگی قیدی بننے کی ذلت سے بچایا جا سکتا تھا۔ فتح پھر بھی بھارت کی ہوتی ، لیکن دیسی فتح نہیں جیسی فتح بھارت چاہتا تھا۔ جن طاقتوں نے اس جنگ میں بھارت کا ساتھ دیا تھا۔ وہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ مشرقی پاکستان میں بھارت کو اپنی من مانی کرنے کی پوزیشن حاصل ہو جائے۔ صرف بھٹو کا مفاد اس بات میں تھا کہ پاکستان کی فوجوں کو ہتھیار ڈالنے پڑیں تا کہ وہ سپاہی جن جرا¿توں پر پوری قوم کو ناز تھا بھارت کے جنگی قیدی بن کر ہماری ملی تاریخ پر ایسا داغ لگائیں کہ کروڑوں آنکھوں سے بہنے والے آنسو بھی اسے نہ دھوسکیں۔ پاکستان کی سرحدوں کے محافظوں کو ذلت و رسوائی کی پستیوں میں دھکیلے بغیر بھٹو یہ ثابت نہیں کر سکتا تھا کہ ملک و ملت کا حقیقی محافظ و نجات دہندہ وہ خود ہے۔ عساکر پاکستان کے ناقابل تسخیر ہونے کا جو یقین ِ محکم پوری قوم کو تھا اسے پاش پاش کئے بغیر بھٹو بلا شرکتِ غیر ملک و وقوم کی قسمت کا مالک نہیں بن سکتا۔ دسمبر۰۷۹اءکے عام انتخابات کے بعد اس نے کہا تھا کہ ملک میں تین طاقتیں ہیں۔ ایک فوج ۔ دوسری عوامی لیگ اور تیسری پیپلز پارٹی ، عوامی لیگ کی طاقت کو اس نے فوج کے ہاتھوں ختم کروادیا اور فوج کی طاقت کو اس نے بھارت کے ہاتھوں ختم کروادیا اور باقی صرف پیپلز پارٹی کی طاقت رہ گئی۔ اس کی اپنی طاقت۔ بھٹو کی طاقت۔

(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top