منشائے الٰہی 09-08-2012

kal-ki-baat

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو انیس دن کی مزید مہلت مل گئی ہے۔ اس دوران انہیں یہ فیصلہ کرلینا ہوگا کہ وہ سید یوسف رضا گیلانی کے راستے پر چل کر تاریخ کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرکے ملک کو اس بحران سے نکال لینا بہتر سمجھتے ہیں جس نے کاروبارِ مملکت کو برُی طرح مفلوج کررکھا ہے۔
زمینی حقیقت یہ ہے کہ فیصلے کا اختیار اُن کے پاس نہیں ہے ۔ اگر وہ عدالت کا حکم مانتے ہیں تو اپنی پارٹی کے باغی تصور کئے جائیں گے ` اور اگر پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں تو تو ہین ِ عدالت کے مرتکب قرار پائیں گے۔
پارٹی سے مراد یہاں صدرآصف علی زرداری کی ذات ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ زرداری صاحب ہی درحقیقت پاکستان پیپلزپارٹی ہیں۔ اور یہ سارا کھیل جو عدالت عظمیٰ میں چل رہا ہے اس کے پیچھے ایک طرف چیف جسٹس صاحب کا یہ عزمِ صمیم ہے کہ وہ این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر عملدرآمد کرا کر رہیں گے اور دوسری طرف صدر زرداری صاحب کا یہ آہنی ارادہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی بقاءکو یقینی بنانے کے لئے سرد ھڑ کی بازی لگا دیں گے۔
چیف جسٹس صاحب کو اپنے عزم ِ صمیم پر قائم رہنے کی جو قیمت ادا کرنی پڑی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جو لوگ بھی جناب ملک ریاض حسین اور سید فیصل رضا عابدی کے ناموں سے شناسائی رکھتے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ چیف جسٹس کے عزمِ صمیم کو کتنے بڑے امتحانوں کا سامنا ہے۔
حکمران جماعت کا یہ کہنا کہ طاقت کے ہر متوازی مرکز کے ابھرنے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی آنے والے حالات کی بڑی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
جب بندگلی میں دو سانڈ ایک دوسرے سے سینگ اڑا لیں تو جو صورتحال پیدا ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ لیکن قوم کو یہ فیصلہ بہرحال کرنا ہوگا کہ حق پر کون ہے۔ اس فیصلے کے لئے اسے اپنے آپ سے بس صرف ایک سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا خدا اپنے کسی بھی بندے کو کسی بھی جرم میں استثنیٰ کی رعایت فراہم کرتا ہے۔ اگر نہیں تو اس کھیل کا انجام منشائے الٰہی کے مطابق ہی ہوگا۔۔۔

Scroll To Top