شامتِ اعمالِ ما۔۔۔ صورتِ ثاقب گرفت

aaj-ki-bat-logo

گزشتہ روز احتساب عدالت سے نکلتے وقت میاں نوازشریف نے عدالتی فیصلوں کو نہ ماننے پر ` اور ان کے خلاف فیصلے دینے کی جرات کرنے پر عدلیہ کو مزہ چکھانے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ اگر توہین عدالت کے جرم میں انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے کافی نہیں تو پھر اِس ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔۔۔
میاں نوازشریف کی ایماءپر مسلم لیگ (ن)کے بہت سارے دوسرے لیڈر بھی اپنے اپنے انداز میں عدلیہ کو للکار رہے ہیں۔۔۔ صرف عدلیہ کو ہی نہیں فوج کو بھی للکار رہے ہیں۔۔۔ طلال چوہدری اور مریم اورنگزیب وغیرہ وغیرہ تو قابلِ ذکر بھی قرار نہیں پاسکتے۔۔۔ خواجہ سعد رفیق جیسے کچھ سینئر نون لیگی بھی عدلیہ کے خلاف برا ہ راست اور فوج کے خلاف بالواسطہ طور پر نہایت تضحیک و توہین آمیز بیانات دے رہے ہیں۔۔۔ اِن بیانات کا نچوڑ اُس ایک جملے میں سمویا نظر آتا ہے جو خواجہ سعد رفیق نے بولا ہے۔۔۔”احتساب کا یہ مذاق ختم ہونا چاہئے۔۔۔“ اگر خواجہ صاحب آگے یہ بھی کہہ دیتے تو مناسب ہوتا کہ قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کو ہر سیاستدان اور ہر حکمران کا ” منصبی “ حق تسلیم کرلیا جانا چاہئے۔۔۔
حکمران طبقے کو کچھ عرصہ قبل تک یہ بات خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگی کہ پاکستان جیسی طالع آزماﺅں کی شکارگاہ میں یکایک احتساب نام کی کوئی چیز داخل ہوجائے گی۔۔۔اس ملک کے عوام کو بالخصوص اور عمران خان کو بالعموم اس ضمن میں بین الاقوامی تشخص رکھنے والے صحافیوں کی اس عالمی انجمن کا شکرگزار ہونا چاہئے جس نے ” پاناما “ کا نام کرپشن کے ایک استعارے کے طور پر دریافت کیا۔۔۔
اس نام میں نجانے کیا تاثیر تھی کہ میاں نوازشریف نے بدحواس ہو کر قوم سے خطاب کر ڈالا اور اس خطاب میں یہ اعلان بھی کر ڈالا کہ اُن کا دامن بالکل صاف ہے اور لندن کے جن قیمتی فلیٹس کی وجہ سے ان کے خاندان کا نام ” پاناماپیپرز “ میں آیا ہے وہ ان کے فرزندوں نے حق حلال کی کمائی سے خریدے ہوں گے ۔۔۔
” حرام کی کمائی کون بے وقوف اپنے نام پر رکھتا ہے۔۔۔؟“ یہ سوال بھی میاں صاحب نے قوم سے کرڈالا۔۔۔ بات درست تھی۔۔۔ لندن کے فلیٹ میاں صاحب کے نام پر نہیں تھے ` ان کی نہایت قابل اولاد کے نام پر تھے جس نے حیرت انگیز کا روباری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے راتوں رات دولت کے انبار کمالئے تھے۔۔۔
معاملہ جب تحقیقات اور عدالتی کارروائی تک پہنچا تو میاں صاحب کو یکایک قطر کا وہ شہزادہ یاد آگیا جس کے والد نے کمال فیاضی سے شریف خاندان پر دولت کی بارش کردی تھی۔۔۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ساری دنیا جانتی ہے ۔۔۔ بالآخر میاں صاحب کو سڑکوں پر آکر نہایت قابلِ رحم انداز میںقوم سے یہ سوال کرنا پڑا کہ ” مجھے کیوں نکالا۔۔۔؟“
اب صورتحال یہ ہے کہ جیسے جیسے احتساب عدالت میں کارروائی آگے بڑھ رہی ہے میاں صاحب کو نہایت شرمناک حقائق کا پھندا اپنے گلے میں پڑتا نظر آرہا ہے اور وہ پھر اس دلیل کی آڑ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ” بات تو پاناما کی تھی۔۔۔ مجھے اقامہ پر کیوں نکالا۔۔۔؟
میاں صاحب اتنے بھولے نہ بنیں۔۔۔
آپ کو اقامہ لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟۔۔۔ اقامہ تو ایک راستہ تھا۔۔۔ اِدھر کا مال اُدھر کرنے کا !
اب آپ نے ” مجھے کیوں نکا لا۔۔۔؟“ اور ” پاناما سے کچھ نہ ملا تو اقامہ میں دھرلیا“ کی تھیم میں نیا اضافہ یہ کیا ہے کہ ” گلی گلی میں شور ہے ۔۔۔ فیصلوں کے پیچھے کوئی اور ہے ۔۔۔“
” کوئی اور “ سے آپ کی مراد ظاہر ہے کہ فوج ہے۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیصلوں کے پیچھے ” اللہ تعالیٰ کی پکڑ“ہے۔۔۔ یہ بات آپ کے نامزد کردہ صدر جناب ممنون حسین نے گزشتہ برس ہی ساری دنیا کو بتا دی تھی۔۔۔
یہاں میں ایک مشہور مصرعہ ترمیم کے ساتھ پیش کروں گا۔۔۔
” شامتِ اعمالِ ما
صورتِ کھوسہ گرفت“
ویسے اس مصرعے کو یوں بھی پڑھاجاسکتا ہے۔۔۔
” شامتِ اعمالِ ما ۔۔۔
صورتِ ثاقب گرفت“
آپ کو میاں صاحب ثاقب میںیقینا ” نادر “ نظر آرہا ہوگا۔۔۔
میری مراد نادر شاہ درانی سے ہے۔۔۔
ویسے آپ محمد شاہ رنگیلا سے کم نہیں۔۔۔

Scroll To Top