مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhot-ka-paigamber-logo-new

۔۔مصنف غلام اکبر

20-12-2017…

……..قسط:44


جنرل یحییٰ خان کو بہت دیر کے بعد احساس ہوا کہ فوجی کارروائی نے اہلِ مشرقی پاکستان کے حوصلوں کو پست کرنے کی بجائے آزادی کی ناقابلِ تسخیر تڑپ اور تمنا ئیں بدل دیا ہے۔ حالات کو سنبھالنے کے لئے جنرل ٹکا خان کو واپس بلا لیا گیا اور مشرقی کمان جنرل نیازی کے سپرد کر دی گئی۔ عام معافی کا اعلان بھی کیا گیا اور سیاسی تصفیہ کے لئے نئی راہیں بھی کھولی گئیں۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ بھارت نے ”مظلوم“ مشرقی پاکستانیوں کے لئے اپنی سرحد یں کھول دیں تھیں اور پھر خود ہی بین الاقوامی سطح پر یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کہ پاکستان کے فوجی حکمران ہندوو¿ں کو بھارت میں دھکیل رہے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی حکومت زبردست مسائل کا شکار ہوگئی ہے۔ ان ”زبردست مسائل“ کو حل کرنے کے لئے بھارت نے اپنی سرحدوں پر گوریلا جنگ کی تربیت کے لئے جو بے شمار مراکز قائم کئے ان کی باگ ڈور بھارتی فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ پاکستانی “غاصبوں“ کو بنگلہ دیش سے نکالنے کے لئے جو مکتی باہنی قائم ہوئی اس میں مشرقی پاکستانیوں سے کہیں زیادہ تعداد بھارتی فوجیوں کی تھی۔ پاکستان کی سا لمیت پر کاری وار کرنے کا جو خواب بھارت برسہا برس کے دیکھ رہا تھا۔ اس کی تعبیر کی راہیں بھٹو کی ہوسِ اقتدار نے ہموار کر دی تھیں۔
اب جنرل یحییٰ خان مکمل طور پر بھٹو کے عزائم کا قیدی بن چکا تھا۔ اس وقت بھی اگر ہوش مندی، دور اندیشی اور حقیقت پسندی سے کام لیا جاتا تو اس تباہی اور شکست وریخت کو ٹالنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکتا تھا جس کی ظلمت بھری گھٹائیں بڑی تیزی کے ساتھ پاکستان کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ لیکن بھٹو کا مفاد اس بات میں تھا کہ ہوش پر جوش غالب آجائے۔ چنانچہ جب جنرل یحییٰ خان نے اسے چینی لیڈروں کے خیالات معلوم کرنے کے لئے پیکنگ بھیجا تو واپس آکر اُس نے اعلان کیا۔ ” اگر بھارت نے مشرقی پاکستان کے تخریب کاروں کو امداد فراہم کرنے کی پالیسی جاری رکھی تو پھر دمادم مست قلندر۔ جنگ ہوگی اور اس جنگ میں چین عملی طور پر ہماری امداد کرے گا۔“
اہل پنجاب کے لئے جنگ کے نعرے میں جو کشش تھی اس کا اندازہ بھٹو سے زیادہ کسے ہو سکتا تھا۔ اہل پنجاب کے لئے پاک بھارت جنگ کا درجہ حق و باطل کی جنگ جیسا تھا اور بھٹو جانتا تھا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے ہر موقع کو اہل پنجاب باطل پر حق کی فیصلہ کن برتری ثابت کرنے کا موقع قرار دیں گے۔ اہلِ پنجاب کی اسی نفسیات سے کھیلتے ہوئے بھٹو نے دمادم مسند قلندر کا نعرہ لگایا۔ اسے خطرہ تھا کہ کہیں جنرل یحییٰ خان عوامی لیگ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی راستہ نہ تلاش کر لیں۔ اس قسم کے ہر امکان کو روکنے کے لئے وہ اہلِ پنجاب کے عسکری جذبات کو پوری شدت کے ساتھ ابھارنا ضروری سمجھتا تھا۔ اسے جنرل پیر زادہ کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ جنرل یحییٰ خان امریکہ کی وساطت سے کلکتہ میں مقیم جلا وطن عوامی لیگ کی حکومت کے ارکان سے خفیہ روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھٹو امریکی مفادات کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کر چکا تھا اس لئے وہ سمجھتا تھا کہ عوامی لیگ کے ساتھ جنرل یحییٰ خان کی مصالحت امریکہ کے بہترین مفاد میں تھی حالات نے عوامی لیگ کو امریکہ کے دائرئہ اثرو رسوخ سے نکال کر سوویت یونین کی گود میں پھینک دیا تھا۔ اب امریکہ ان حالات کو بدلنے کے لئے کسی ایسے فارمولے کی تلاش میں تھا جو جنرل یحییٰ خان کے لئے قابلِ عمل اور عوامی لیگ کے لئے قابل قبول ہو۔
بھٹو نے اس صورت حال کا توڑ جنگ کا نعرہ لگا کر کیا۔یہ ایک ایسا جھوٹ تھا جس کی تردید چینی حکومت علانیہ طور پر نہیں کر سکتی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ چینی لیڈروں نے بھٹو پر واضح کر دیا تھا کہ جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں ہی پاکستان کا بہترین مفاد ہے۔
یہ وہ وقت تھا جب ماو¿زے تنگ کا چین اپنی تیئس سالہ تاریخ کے بد ترین سیاسی بحران سے گزرر ہا تھا۔ وزیر دفاع اور ماو¿زے تنگ کے نامزد جانشین لن پیاو¿ نے حکومت پر قبضہ کرنے کا بڑا جامع منصوبہ تیار کیا تھا جسے سوویت یونین کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اگر چہ ماو¿ کے حامیوں نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا تھا اور خود لِن پیاو¿ لقمئہ اجل بن چکا تھا۔ پھر بھی کچھ صوبوں میں خانہ جنگی کی سی کیفیت تھی اور تمام چینی لیڈروں کی توجہ اندرونی حالات پر تھی۔ یہ ایسی صورت حال تھی کہ چینی حکومت کسی طرح بھی بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کو عملی اور مﺅثر امداد دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ پھر بھٹو نے پاکستان کے عوام کے سامنے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا؟

Scroll To Top