کیا ریاستی ڈھانچے میں ایک کنیز کو بالادستی دی جاسکتی ہے ؟ 08-08-2012

kal-ki-baat

حکومت کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے ` تمام ادارے اس کے ماتحت ہیں اور سپریم کورٹ ماورائے آئین فیصلے صادر نہیں کرسکتی۔
عدلیہ کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے کام میں پارلیمنٹ سپریم ہے مگر عدلیہ اس کے ماتحت نہیں ` اور سپریم کورٹ ہر ایسے قانون کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے جو آئین کی روح سے متصادم ہو۔
جہاں تک عدلیہ کے پارلیمنٹ کے ماتحت ہونے کی بات ہے تاریخ اور قانون کا کوئی بھی طالب علم اس سے اتفاق نہیں کرے گا۔ ریاست کے ڈھانچے میں عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ کو کسی کے بھی ماتحت نہیں بنایا گیا۔ یہ ایک تکون ہے جو کاروبارِ مملکت کو چلاتی ہے اور جس کے تینوں ستون اپنی اپنی جگہ اہم مضبوط اور فعال ہوتے ہیں۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس کے لئے ایک ایسا نظام اختیار کیا گیا ہے جس میں مقننہ میں سے ہی انتظامیہ جنم لیتی ہے ` چنانچہ دونوں ادارے اپنی اجتماعی طاقت سے عدلیہ پر برتری حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ آج کا پاکستان اس افسوسناک صورتحال کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اگر یہ کہاجائے کہ مقننہ انتظامیہ کی کنیز کا کردار ادا کررہی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ اور ایک کنیز کو ریاستی ڈھانچے میں بالادستی دینا ہوشمندی کی بات ہرگز نہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سپریم کورٹ کو جن حالات میں کام کرنا پڑ رہا ہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ گزشتہ دنوں اس پر دو بڑے شرمناک حملے ہوئے ہیں۔ ایک کا مرکزی کردار ملک کا ایک بڑا پراپرٹی ڈیلر اور ٹاﺅن ڈیولپر ہے اور دوسرے کا ایک بدگفتارسنیٹر جس کی صد ر مملکت کے ایک حواری کے علاوہ اور کوئی پہچان نہیں۔ یہ امر کسی حد تک باعثِ اطمینان ہے کہ فیصل رضا عابدی کو سپریم کورٹ پر بڑے شرمناک انداز میں حملہ آور ہونے کی پاداش میں حکومت نے الزام کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ اسے یہ حملہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی اور سہولت بھی فراہم کی گئی۔
بہرحال حالات تیزی سے ایک ایسی سمت میں بڑھ رہے ہیں جس کا تعین شاید کوئی بھی نہیں کررہا۔
یہ صورتحال جمہوریت کے لئے نیک فال ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ جب تک ہم جمہوریت کے نام پرقائم اس بوسیدہ نظام سے چمٹے رہتے ہیں تب تک جمہوریت پر منڈلاتے رہنے والے سیاہ بادل چھٹیں گے۔
جب تک انتظامیہ اور مقننہ کی” بغلگیری“ ختم نہیں ہوتی اس ملک میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوگی۔

Scroll To Top