بے شرمی کے ساتھ جھوٹ بولنا اب میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کا واحد آپشن ہے !

aaj-ki-bat-logo

میاں نوازشریف جانتے ہیں کہ اُن کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کے امکانات اسی قدر روشن ہیں جس قدر روشن آدھی رات کو آسمان ہوتا ہے۔۔۔ ان کی سب سے بڑی طاقت اب یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن)کے سربراہ ہیں۔۔۔ صرف سربراہ ہی نہیں مالک و مختار بھی ہیں۔۔۔ مسلم لیگ (ن)کی حیثیت ایک ایسی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی ہے جس کے سو فیصد شیئرز میاں صاحب کے پاس ہیں۔۔۔ اِن شیئرز کا وہ ایک چھوٹا سا حصہ بھی اپنے وفادار چھوٹے بھائی میاں شہبازشریف کو منتقل کرنے کے لئے تیار نہیں کیوں کہ ایسا کرنے سے میاں شہبازشریف کے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔۔۔ اُن کی ساری جدوجہد اب اپنی صاحبزادی مریم کو ملک کی اگلی وزیراعظم بنانے کے لئے ہے۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ اس منصب کے دو دوسرے مضبوط امید وار عمران خان اور میاں شہبازشریف ہیں۔۔۔ عمران خان کی تحریک انصاف نے اپنی مقبولیت میں جو زبردست اضافہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کیا ہے وہ میاں نوازشریف کے لئے وجہ ءفکر یہ ضرور ہے لیکن وہ تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن)کا ووٹ بنک بہرحال اپنی صاحبزادی مریم کے سپرد کریں گے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے محترمہ کو اپنی پارٹی کا ڈاکٹر گوبلز بنا دیا ہے۔۔۔
یہ صورتحال مجھے شاہ حسین مرحوم کی یاد دلاتی ہے۔۔۔ اردن کے مرحوم حکمران نے اس وقت تک اپنے چھوٹے بھائی شہزادہ حسن کو اپنا ولی عہد بنائے رکھا جب تک انہیں اپنی زندگی کا یقین رہا۔۔۔ جب ان پر انکشاف ہوا کہ زندگی اُن سے روٹھنے والی ہے تو انہوں نے نہایت ڈرامائی انداز میں اپنے چھوٹے بھائی کی ” ولی عہدی “ ختم کرکے اپنے فرزند شہزادہ عبداللہ کو اپنا جانشین مقرر کردیا تھا۔۔۔
یہی کام میاں نوازشریف کرناچاہتے ہیں لیکن ڈرا نہیں اِس بات کا ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف یہ کہ میاں شہبازشریف باغی ہوجائیں گے اور اس بغاوت میں میاں شہبازشریف کے صاحبزادے حمزہ پیش پیش ہوں گے ` بلکہ پارٹی کے دیگر سینئر ارکان بھی اپنی وفاداریوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔۔۔
جہاں تک مریم نواز کا تعلق ہے انہو ں نے ” ڈاکٹر گوبلز “ کا رول پوری شدت کے ساتھ اپنے اوپر طاری کرلیا ہے۔۔۔
فرق صرف یہ ہے ڈاکٹر گوبلز ایک جینئیس تھا۔۔۔ اس کی غیر معمولی ذہانت ایڈولف ہٹلر کا بہت قیمت اثاثہ تھی۔۔۔ گوبلز جب بھی کوئی ” جھوٹ “ بولتا تھا تو اس کی تیاری پر بڑا وقت صرف کرتا تھا۔۔۔مریم نوازشریف ہر جھوٹ بغیر سوچے سمجھے بول رہی ہیں اور اس فراوانی کے ساتھ بول رہی ہیں کہ انہیں نیا جھوٹ بولنے سے پہلے اپنا پرانا جھوٹ یاد نہیں رہتا۔۔۔ ویسے بھی ان کا ہر جھوٹ ایک نیا الزام ہوتا ہے۔۔۔ اور اُن کے الزامات کی زد میں کبھی عمران خان آتے ہیں ` کبھی عدلیہ آتی ہے اور کبھی فوج۔۔۔
اس وقت میاں نوازشریف اور مریم نواز کی حکمت عملی یہ ہے کہ اپنے ووٹ بنک کی وفاداریاں قائم رکھنے کے لئے ہرجھوٹ اس اعتماد کے ساتھ بولے جائے کہ آسمان بھی انگشت بدنداں ہو کر رہ جائے۔۔۔

Scroll To Top