مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhot-ka-paigamber-logo-new

  • ۔۔مصنف غلام اکبر
  • 19-12-2017…
  • ……..قسط:43

حسن بن صباح جھوٹا پیغمبر تھا اور اس نے ایک جھوٹی جنت کا جال پھیلایا تھا۔ بھٹو جھوٹا پیغمبر تو نہیں جھوٹ کا پیغمبر ضرور ہے اس نے جس جھوٹی جنت کا جال پھیلایا اس کے خواہشمند آج بھی اس سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ یہی جھوٹی جنت ۰۷۹۱ءکے عام انتخابات میں بھٹو کی فقیدالمثال کامیابی کی وجہ بنی۔ اس کامیابی کا گڑھ پنجاب تھا۔ جس کے بارے میں بھٹو نے ااپنے معتمد خاص سے کہا تھا۔
” پنجاب کے لوگ تماشبین ہیں۔ انہیں خوش کرنے کے لئے اچھا تماشا چاہیئے اور میں اتنا اچھا تماشہ پیش کروں گا کہ پنجابی تالیاں بجانے پر مجبور ہو جائیں گے“
اور پنجابیوں نے جی کھول کر بھٹو کے لئے تالیاں بجائیں۔
ایک جلسہ عام میں بھٹو نے کہا۔
” یہ اسلام پسند جو غریب عوام کے دشمن ہیں مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں شراب پیتا ہوں، ہاں میں شراب پیتا ہوں۔ غریبوں کا خون تو نہیں پیتا۔“
اس بات پر زندہ دلانِ پنجاب نے خوب تالیاں بجائیں اور ان تالیوں کی گونج میں بھٹو اقتدار کی منزل کی طرف بڑھتا گیا۔
خُون کے آنسو
ستمبر ۵۶۹۱ءکی جنگ کے دوران مسلم تاریخ میں جرا¿ت وشجاعت کی نئی داستانوں کا اضافہ کرنے کرنے والی فوج کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا جو قوی یقین پوری قوم کو تھا۔ اسے پاش پاش کئے بغیر بھٹو بلاشرکتِ غیر اس کُرسی پر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ جس کی خاطر اس نے اتنے جھوٹ بولے تھے۔ اتنے ناٹک رچائے تھے اور اتنے بہروپ اختیار کئے تھے۔
۳۲مارچ ۱۷۹۱ءکو جب مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف بھٹو کے حامی جنرلوں نے فوجی کارروائی کی تو بہت کم لوگوں کو احساس تھا کہ اس اقدام سے بھٹو کا پاکستان تو اس کے اقتدار کا قلعہ بننے کے لئے بچ گیا ہے، لیکن قائد اعظم ؒ کے پاکستان کے زندہ رہنے کی آخری امید بھی ختم ہوگئی ہے۔ وہ شیخ مجیب الرحمان جسے ہم غدار قرار دیا کرتے تھے اس کے قومی کردار کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ ڈھاکہ سے راہ ِفرار اختیار کرنے پر اپنے گھر میں سنگینوں اور بندوقوں کا انتظار کرنے کو ترجیح دی۔ جو کچھ ہوا تھا جو کچھ ہونے والا تھا وہ سارے پاکستان کی شکست تھی۔ حتیٰ کہ علیحدگی پسندی اور غداری کے ملزم شیخ مجیب الرحمان کی بھی شکست تھی۔ فتح صرف ایک شخص کی تھی ۔کامران صرف ایک شخص ہوا تھا اور اس شخص کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔
لیکن اس وقت ہم سب ” ملکی سا لمیت“ کے دشمن شیخ مجیب الرحمان اور اس کی عوامی لیگ کو ایسا سبق سکھانے کے موڈ میں تھے کہ پھر کوئی ماں کا لال چھ نکات کی بات کرنے کا حوصلہ پیدا نہ کر سکے۔ صرف ایک لیڈر ایسا تھا جس نے اس وقت اہل پنجاب کے موڈ کی پرواہ کئے بغیر زبانِ ہوش سے بات کرنے کی جرا¿ت دکھائی۔ اُس نے کہا مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی نے پاکستان کی سا لمیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ وہاں کے عوام پر چلنے والی ہر گولی سا لمیت ِ وطن میں چھید ڈال رہی ہے اب ابھی وقت ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام کو ان کا وہ حق دے دیا جائے جو انہوں نے عام انتخابات میں حاصل کیا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو میری نظریں پاکستان کے نقشے کو دو حصوں میں تقسیم ہوتا دیکھ رہی ہیں۔“
یہ صدائے ہوش اصغر خان کی تھی جن پر اس وقت گندے انڈوں اور ٹماٹروں کی بارش کی گئی۔
بھٹو ان حالات کا جائزہ بڑی فاتحانہ نظروں سے لے رہا تھا۔جس پاکستان کو بچانے کے لئے اس نے قومی اسمبلی کا اجلاس منعقدنہیں ہونے دیا تھا۔ اس پاکستان کو بچانے کے لئے اب ٹِکا خان کے ٹینک حرکت میں آچکے تھے۔ یہ وہی ٹینک تھے جن سے بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ لڑی جانی تھی۔ بھارت ان ٹینکوں کی زد سے دوچار تھا۔ مشرقی پاکستان کے عوام ان ٹینکوں کی زد میں تھے۔ جنرل ٹِکا خان پاکستان کی سا لمیت کو بچانے کے جذبے سے اس قدر سرشار تھے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا۔ ” مجھے عوام نہیں چاہئیں۔ زمین چاہیئے۔ جس کا نام پاکستان ہو۔“
یہی جنرل ٹکا خان بعد میں بھٹو کے دست راست بنے۔ انہوں نے ہی اس سال بھٹو استبداد کے خلاف چلنے والی عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے کہا۔” دس بیس ہزار افراد کو اگر ختم بھی کرنا پڑے تو کوئی بڑی بات نہیں۔“
یہ بھٹو کی خوش قسمتی تھی کہ مشرقی پاکستان کے عوام کا مزاج درست کرنے کی ذمہ داری ٹکا خان جیسے سفاک محبِ وطن کے سپرد کی گئی تھی۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ٹکا خان نے بندوق اور گولی کا استعمال اتنی فیاضی کے ساتھ کیا کہ مشرقی پاکستان کے عوام کو یقین ہو گیا کہ وہ پاکستان کے شہری نہیں پاکستان کی ایک نو آبادی کے شہری ہیں۔ جس پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کی افواج نے اپنی توپوں کے دہانے کھول دیئے ہیں۔
(جاری ہے۔۔۔۔)

Scroll To Top