ہر ایک کو کردار اداکرنا ہوگا

zaheer-babar-logo

چیف آف آرمی سٹاف کا سینٹ کو قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال اور حالیہ غیر ملکی دوروں کے حوالے سے بریفنگ دینا یقینا غیر معمولی پیش رفت ہے۔ سینٹ سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے تحریری بیان کے مطابق آج منگل 19نومبر کو ایوان بالا کو سینٹ کمیٹی میں تبدیل کردیا جائیگا اور سپہ سالار بریفنگ دیں گے۔
ملکی سپاہ ان دنوں جن چیلنجز کا مقابلہ کررہی وہ کسی بھی باخبر پاکستانی سے ڈھکے چپھے نہیں۔ ایک طرف روایتی دشمن اور افغانستان کا گٹھ جوڈ ہے تو دوسری امریکہ جو پاکستان پر مسلسل دباو رکھنے کی پالیسی پر مسلسل کاربند ہے۔ گزرے ماہ وسال کے برعکس پاکستان کو آج اندرونی اور بیرونی محاذ پر جن مسائل کا سامنا وہ بڑی حد تک غیر معمولی ہیں۔ مثلا ماہ جولائی میں سابق وزیر اعظم کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا ، شاہد خاقان عباسی نے نئے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سنبھال لیا مگر میاں نوازشریف قومی اداروں کے خلاف مسلسل مورچہ زن ہیں۔ مبصرین کے مطابق ریاست کے اہم ستونوں کو نشانہ بنا کر سابق وزیر اعظم کسی نہ کسی حد تک سیاسی فائدہ تو ضرور اٹھا لیں گے مگر آنے والے ماہ وسال میں ان کی سیاست اور سب سے بڑھ ملک وملت کے لیے جاری حکمت عملی بہتر نہیں ثابت ہونے والی۔
وطن عزیز کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے لازم ہے کہ سیاسی قوتیں باہم اتفاق واتحاد کا مظاہرہ کرے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر معاملات کو اس حد تک لے جانے سے گریز کیا جائے جہاں دشمن فائدہ اٹھا لے۔ یہ سمجھنے کے لیے سقراط ہونا لازم نہیں کہ عدلیہ اور فوج کو نشانہ بنانا کس کو فائدہ دے سکتا ہے۔ دراصل پاکستان کا ہر بدخواہ میاں نوازشریف کے بیانات کو اپنے موقف کی سچائی کے لیے دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے۔ دور کیوں جائیں سابق وزیر اعظم کے ہر متنازعہ بیان کو بھارتی پرنٹ والیکڑانک میڈیا جس طرح لے رہا اس سے ہر باخبر شخص آگاہ ہے۔
پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ اس حقیقت کو کوئی تسلیم کرے یانہ کرے مگر سچ یہی ہے۔حال ہی میں کوئٹہ چرچ میں خودکش حملے یہ سمجھانے کے لیے بہت کافی ہے کہ دشمن کبھی بھی کہیں بھی کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہوشمندی کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے انتہاپسند قوتوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون بڑھائیں۔کشت وخون کا واقعہ پشاور میں ہو یا لاہور میں کراچی نشانے پر آئے یا کوئٹہ نقصان بہرکیف اہل پاکستان کا ہے۔
عسکری قیادت باخوبی جانتی ہے کہ کوئی بھی جنگ عوام کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی ۔ ضروری ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ اپنے سپاہ کے شانہ بشانہ موجود رہے۔جمہوریت میں سیاسی جماعتیں عوام کے جذبات کی ترجمانی کیا کرتی ہیں لہذا پارلمینٹ کو قومی اتفاق رائے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ چیف آف آرمی سٹاف کا سینٹ میں جاکر بریفینگ دینا بتا رہا کہ عسکری قیادت یقین رکھتی ہے کہ دراصل جمہوریت ہی درپیش تنازعات کا حل ہے ، بظاہر جنرل قمر جاوید باجوہ یہی سوچ کر پارلمینٹ میں آنے پر تیار ہوئے کہ قومی مسائل پر مل جل کر ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ جب تک ریاست کے سب ہی اہم ستون ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھ کر مسائل حل کرنے کے لیے کسی متفقہ پالیسی کو سامنے نہیںلاتے مشکلات نہیں ختم ہونگی۔ سمجھ لینا چاہے کہ ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ملکوں میں مسائل حل کرنے کے لیے اداروں پر اختلاف رائے سامنے آنا حیران کن نہیں۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ اہم عہدوں پر براجمان شخصیت میں کوئی ایک بھی ملک وملت بارے سنجیدہ نہیں لہذا بہترین حکمت عملی یہی ہوسکتی ہے کہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے کسی متفقہ لائحہ عمل کی جانب بڑھا جائے۔
دور اور نزدیک کا دشمن تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فارمولے پر عمل کررہا۔قومی اداروں کو ایک دوسرے سے بدگمان کرکے ہی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی کوشش مسلسل جاری وساری ہے۔ پاکستان دشمن قوتیں اہل سیاست ، میڈیا اور دانشوروں میں سے ایسے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر آگے لارہیں جو ملک کا منفی تاثر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہوں۔
سینٹ سے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ وہاں تجربہ کار ، سیاسی پختگی کے حامل اور دور اندیش افراد کی اکثریت ہوا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بشیتر سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں سے سنجیدہ لوگوں کو ایوان بالا کی رکنیت کے لیے سامنے لاتی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ وہ پہلے سپہ سالار ہیں جو ایوان بالا میں جاکر قومی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق امور پراظہار خیال کریں گے۔ یہ امید رکھنا غلط نہ ہوگا کہ مسقبل قریب میں قومی اداروں کے درمیان اتفاق واتحاد کی فضا کو مذید بہتر بنایا جائیگا۔
پاکستان سب کا ہے لہذا اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں میں بھی ہم سب ہی زمہ دار ہیں۔ تعمیر وترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھوں میںہاتھ دیا جائے۔ ہم سب کو مثبت کردار ادا کرتے ہوئے تاریخ میں ایسے نام سے امر ہونا ہوگا جو نئی نسل کے لیے قابل رشک کے علاوہ باعث تقلید بھی ٹھرے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب وکامران قرار پائے جو ذاتی کی بجائے قومی اہداف کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ آج ہمارے ارباب اختیار کو بھی تاریخ میں زندہ وجاوید رہنے کے لیے پوری قوت صرف کرنا ہوگی۔

Scroll To Top