محض سکینڈل یا پھر۔۔۔؟ 7-8-2012

kal-ki-baat

مسلم لیگ (ن)کے شعلہ صفت رہنما خواجہ آصف نے گزشتہ دنوں جو گولہ باری شوکت خانم میموریل ہسپتال اور اس کے بانی عمران خان پر کی تھی اس کے جواب میں میاں نوازشریف کے ساتھ منسوب کرپشن کی داستانیں بھی بڑے بھرپور انداز میں اخبارات کی زینت بنیں۔
یہ صورتحال میاں نوازشریف کے لئے یقینا ناقابل ِ قبول ہے ` چنانچہ ” یادِ الٰہی “ میں غرق ہونے کی خاطر سفرِ حجاز اختیار کرنے سے قبل انہوں نے ایک ” ہوشمندانہ “ بیان دینا مناسب سمجھا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ” جو کرپشن سکینڈلز روزانہ میڈیا کی زینت بن رہے ہیں ان کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔“
اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا کہ جب سیاستدان اپنے آپ کو پاک صاف اور باقی سب کو ” مجسّم ابلیسیت“ ثابت کرنے کے چکر میں پڑجاتے ہیں تو گندگی کے چھینٹوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہتا۔ اگر میاں صاحب دیانتداری کے ساتھ اپنی پارٹی کے عروج کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ جاننا ان کے لئے کوئی زیادہ خوشگوار اور قابل ِ فخر تجربہ نہیں ہوگا کہ مخالفوں کے گھروں پر پتھر پھینکنے کی روایت کو فروغ خود انہوں نے ہی دیا۔ اور یہ مثل خاصی مشہور ہے کہ دوسروں کے گھروں پر پتھر پھینکیں گے تو جواب میں پتھر ہی پھینکیں جائیں گے ۔ اگر آپ خود شیشے کے گھر میں رہتے ہیں تو کیا ہوگا آپ سمجھ سکتے ہیں۔
اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کرپشن کی جتنی بھی داستانیں میڈیا کی زینت بنی ہیں وہ محض الزامات اور سکینڈل ہی ہوں ۔ لیکن اس حقیقت کو بھی کون جھٹلائے گا کہ جتنی کرپشن گزشتہ ربع صدی کے دوران ہمارے ملک میں ہوئی ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی؟ اور اگر کرپشن ہوئی ہے تو کرپشن کرنے والے بھی ہوں گے۔ اور اگر کرپشن کرنے والے ہیں تو انہیں کرپشن کرنے کے لئے ” اقتدار “ کی ضرورت بھی رہی ہوگی۔
اس دوران اقتدار میں کون کون رہے ہیں سب جانتے ہیں۔

Scroll To Top