پاکستان میں سیاستدان بنے بنائے پیدا ہوتے ہیں جناب اچکزئی صاحب۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

نااہل سابق وزیراعظم اور حالیہ فنکشنل گاڈفادر میاں نوازشریف کے ایک نہایت معتمد اتحادی محمود خان اچکزئی نے کبھی پاکستان کے عوام کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش نہیں کی انہوں نے ہمیشہ ببانگِ دُہل یہ بات کہی ہے کہ وہ اُس پاکستان کے وفادار نہیں جو قائداعظم ؒ نے بنایا تھا اور ان کا پاکستان وہ ہے جس میں قبائلی علاقے یا فاٹا کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے کچھ ایسے حصے بھی شامل نہیں جو نسلی اورلسانی اعتبار سے افغانستان کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی تعلق رکھتے ہیں۔۔۔گزشتہ دنوں یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر بھی کھل کر کہی۔۔۔ میں محمود خان اچکزئی کی صافگوئی کو سلام کرتا ہوں۔۔۔ وہ مولانا فضل الرحمان جیسے لوگوں سے بہرحال زیادہ قابلِ تعظیم ہیں جو اپنی اصل شخصیت کو داڑھی اور اسلام کے پیچھے چھپا کررکھتے ہیں۔۔۔ ویسے چُھپاتے اپنی شخصیت کو محمود خان اچکزئی بھی ہیں۔۔۔ وہ جو مہاتما گاندھی کی یاد دلانے والی چادر انہوں نے اوڑھ رکھی ہے اس کے پیچھے ویسا ہی پختون ” خا ن“ چُھپا ہوا ہے جیسے ” خان “ پشتو فلموں میں ” ولن“ کا کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔ جہاں تک محمود خان اچکزئی کے ” عشقِ جمہوریت“ کا تعلق ہے اس کی بدولت اُن کا تقریباً پورا ہی خاندان چھوٹے بڑے حکومتی عہدوں پر فائز نظر آتا ہے۔۔۔ اس میں کمال میاں نوازشریف کا بھی ہے جو ” وفاداریاں“ نوازنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔۔۔ اُن کی اس ” دریادلی “ کی بدولت دیکھ لیں کہ کیسے کیسے لوگ کہاں کہاں پہنچ گئے ؟ عطابق الحق قاسمی کو دیکھ لیں۔۔۔ عرفان صدیقی کو دیکھ لیں۔۔۔ ابصار عالم کو دیکھ لیں۔۔۔ میں طلال چوہدری ` دانیال عزیز اور مریم اورنگزیب وغیرہ کی بات نہیں کرتا کیوں کہ وہ بہرحال پیشے سے سیاستدان ہیں۔۔۔ کرتے وہ بھی پیشہ ہی ہیں جیسے اول الذکر اصحاب قلم کا پیشہ کرتے کرتے آگے نکلے ہیں۔۔۔
بات کہاں سے کہاں جاپہنچی ہے۔۔۔ میں نے آج محمود خان اچکزئی کو موضوعِ سخن اُن کے اُس بیان کی روشنی میں بنایا تھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ باقی تمام چزیں بنائی جاسکتی ہیں مگر سیاست دانوں کو صرف عوام بناتے ہیں۔۔۔
خان صاحب آ پ نے یہ بات میاں نوازشریف کو خوش کرنے کے لئے کہی ہوگی۔۔۔ آپ کا مقصد یہ کہنا ہوگا کہ میاں نوازشریف کو عوام نے بنایا تھا۔۔۔ لیکن یہاں آپ چُوک گئے ہیں۔۔۔ میاں نوازشریف کو جنرل ضیاءالحق کی ” منہ بولی فرزندی“ نے بنایا تھا۔۔۔ نوازشریف کے اصل والد میاں شریف انہیں لے کر جنرل ضیاءالحق کے پاس گئے اور کہا۔۔۔ ” جنرل صاحب۔۔۔ میں اپنے اِس لختِ جگر کو آپ کی خدمت گزاری کے لئے آپ کے سپرد کررہا ہوں۔۔۔ میرا یہ حقیر تحفہ قبول فرمائیں۔۔۔ “
اور یوں میاں صاحب کی لیڈری نے جنم لیا۔۔۔ عوام بچاروں کو تو میاں نوازشریف کے وجود کا علم ہی تب ہوا جب وہ ” لیڈری“ کے سانچے میں ڈھالے جاچکے تھے۔۔ ۔ مارکیٹ میں تب ” بھٹو برانڈ“ چھایا ہوا نظر آتا تھا ۔۔۔ مقابلے پر ” اسلامی برانڈ“ کی اشد ضرورت تھی جسے میاں صاحب کی صورت میں پورا کیاگیا۔۔۔
اب میاں صاحب نے اپنی ” برانڈنگ “ تبدیل کرالی ہے ۔۔۔ اب وہ ” لبرل سوچوں“ سے آراستہ کئے جاچکے ہیں کیوں کہ امریکہ ایسی ہی سوچوں کی سرپرستی کرتا ہے۔۔۔ رابرٹی گلوبل کے مشورے پر میاں صاحب نے گزشتہ دنوں اپنے لبرل ہونے کا ثبوت ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی لانے کی کوشش کرکے کیا۔۔۔ کوشش تو ناکام ہوچکی ہے۔۔۔ مگر میاں صاحب مغربی حلقوں کو یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ” اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان دقیانوسی مذہبیت اور انتہا پسندی کے شکنجے سے نکلے تو میری سرپرستی جاری رکھیں اور کچھ ایسا کریں کہ ہماری فوج راہ ِ راست پر آجائے ` اسلام کشمیر اور حب الوطنی کا راگ الانپا چھوڑ دے اور میری اطاعت گزار بن جائے۔۔۔
بات پھر محمود خان اچکزئی سے آگے نکل گئی ہے۔۔۔ میں محمود خان اچکزئی کو یاد دلاناچاہتا ہوں کہ انہیں بھی سیاستدان عوام نے نہیں بنایا۔۔۔ وہ عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے ہونے کی بنیاد پر لیڈر بنے ہیں۔۔۔ ان کے والد بھی سیاستدان اور لیڈر اِس بنیاد پر بنے تھے کہ موصوف نے گاندھی جی کے نقش قدم پر چلنے اور قیامِ پاکستان کی مخالفت کرنے کی قسم کھائی تھی۔۔۔
ہمارے ملک میں لیڈر یا سیاستدان ماں کی گود میں ہی سیاستدان بن جاتے ہیں۔۔۔ ان کی ” ولدیت“ انہیں بنانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔۔۔ بچارے عوام کا بس اتنا کام ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جاکر اپنا ووٹ بیلٹ باکسز میں ڈال دیںتو وہ ڈال دیتے ہیں۔۔۔ اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔۔۔

Scroll To Top