بی جے پی نے گجرات اور ہماچل پردیش کا انتخابی معرکہ جیت لیا

tکامیابی کے باوجود بی جے پی کو مودی کے حلقے میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، فوٹو:انٹرنیٹ

احمد آباد: حکمران جماعت بی جے پی نے بھارتی ریاستوں گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابات میں فتح حاصل کرلی تاہم اسے مودی کے حلقے میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

 

بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے ریاستی انتخابات میں 22 سال سے مسلسل برسر اقتدار رہنے والی جماعت بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) نے ایک بار پھر اپنی حکمرانی قائم کرلی، بی جے پی 98 نشستیں حاصل کرکے سرفہرست ہے جب کہ مرکز میں اپوزیشن جماعت کانگریس 76 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اس انتخاب میں کانگریس نے بی جے پی کو ٹف ٹائم دیا جس پر وزیراعظم نریندر مودی اور حکمران جماعت بی جے پی کے صدر کو اپنی آبائی ریاست میں جیت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا، نریندر مودی نے ایک دن میں کئی ریلیوں کی قیادت کی اور انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا جس کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں ملا تاہم  مودی کے حلقے میں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی اور اسے کانگریس نے 19 ہزار کے بڑے مارجن سے شکست دی۔

ادنیٰ نگر کے حلقے اونجھا میں کانگریس کی آشا پٹیل نے  اپنے حریف بی جے پی کے رکن نارائن کو زیر کیا، نارائن 1995ء سے اسی حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے اور گزشتہ انتخاب میں انہوں نے 25 ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ اونجھا کی 40 فیصد آبادی کا تعلق پیٹی دار کمیونٹی سے ہے جو نریندر مودی کی پالیسیوں اور زیادتیوں پر برہم ہیں جس کا عملی اظہار انہوں نے آج مودی کے خلاف ووٹ کی صورت میں دیا ہے۔

دوسری جانب ہماچل پردیش کے ریاستی انتخابات کا معرکہ بھی بی جے پی نے مار لیا ہے، 68 نشستوں پر مشتمل اسمبلی کی اکثریت پر حکمران جماعت کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، بی جے پی ہماچل پردیش میں کل 48نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ کانگریس 21 اور دیگر جماعتوں کے تین امیدواروں نے وہاں کامیابی حاصل کی ہے۔

Scroll To Top