پہل کون کرے گا میاں نوازشریف یا عمران خان ؟ 04-08-2012

kal-ki-baat


میاں نوازشریف نے اپنے چند ” اعلیٰ مرتبت “ درباریوں کو عمران خان پر چھوڑ دیا ہے اور خود اپنے دل میں یادِ الٰہی تازہ کرنے کے لئے رمضان المبارک کا کافی بڑا حصہ مدینہ منورہ میں گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ عمران خان کا خوف انہیں راتوں کو سونے دیتا ہے یا نہیں مگر جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں یہ خوف میاں صاحب کے دل میں گھر کرتا چلا جارہا ہے کہ شاید اس مرتبہ اُن کا اپنا شہر لاہور بھی ان کے لئے پرایا ہوجائے۔ ردعمل کے طور پر انہو ں نے اپنے درباری جرنیلوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی ہے کہ انہیں جس سمت میں بھی عمران خان کی موجودگی کا گماں ہو بندوقوں کا رُخ اس طرف کرکے فائر کھول دیں۔ چوہدری نثار فرما رہے ہیں کہ ان کے ترکش میں اتنے تیر ہیں کہ وہ دن رات بھی عمران خان کی طرف رُخ کرکے تیر برساتے رہیں تو بھی ترکش خالی نہ ہو۔ بدقسمتی ان کی یہ ہوگی کہ اُن کے سارے تیر پلٹ کر ان پر ہی حملہ آور ہوں گے اور جو ٹوپی انہوں نے برسہا برس سے اپنے سر پر رکھی ہوئی ہے وہ ایسے ہی کسی تیر کا نشانہ بن کر دور جاگرے گی۔

میاں صاحب نے خواجہ آصف کے ذریعے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ پر جو حملہ کرایا ہے اس میں جس دلیل پر اُن کا سب سے زیادہ زور ہے وہ یہ ہے کہ اینڈومنٹ فنڈ میں سے 30لاکھ ڈالر کی جو سرمایہ کاری کی گئی وہ کسی آف شور کمپنی کے ساتھ نہیں ہونی چاہئے تھی۔ اس دلیل میں بدنیتی کا پہلو یہ ہے کہ تاثر یہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس سرمایہ کاری کے ذریعے ڈالر پاکستان سے باہر سمگل کئے گئے ہیں۔ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سالانہ کروڑوں ڈالر عطیات کی صورت میں بیرونی ممالک سے شوکت خانم میموریل ہسپتال کے فنڈز میں آتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کا حصہ بنتے ہیں۔ اگر باہر کے عطیات سے سرمایہ کاری باہر ہی ہورہی ہے تو اس کا منافع بھی شوکت خانم میموریل ٹرسٹ میں پاکستان ہی آتا ہے۔
اگر کوئی چور چوری کرکے بھاگے اور لوگ اسے دیکھ کر ” چور چور “ پکارتے اس کے پیچھے دوڑیں اور اس طرح بہت بڑا ہجوم بن جائے جس میں وہ چور بھی شامل ہوجائے اور دوسروں سے زیادہ بلند آواز میں چور چور کا شور مچانا شروع کردے تو اِس سے اُس کی چوری پر پردہ نہیں پڑجائے گا۔
ہم یہاں الزامات کی بات ہی نہیں کرتے ۔ ایک قومی فیصلہ کرتے ہیں کہ جس شخص کا بھی سرمایہ ملک سے باہر کی معیشتوں میں گردش کررہا ہے اور اس کا ہمیں علم تک نہیں ‘ وہ شخص پہلے مرحلے میں اپنے متعلق تمام مالی حقائق سامنے لائے اور اس کے بعد قوم کو یہ خوشخبری سنائے کہ وہ بیرون ملک چھپی ہوئی اپنی ساری دولت پاکستان لارہا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ عمر ان خان اپنے لئے استثنیٰ کا تقاضہ نہیں کریں گے کیوں کہ ان پر ابھی تک یہ الزام تک نہیں لگا کہ ان کا ذاتی پیسہ بیرون ملک چھپا پڑا ہے۔ جس ” سرمایہ کاری “ کو الزام بنا کر اچھالا گیا ہے اس کا تعلق شوکت خانم میموریل ٹرسٹ سے ہے۔ اگر خواجہ آصف یہ بات سامنے لاتے کہ اس سرمایہ کاری کا فائدہ عمران خان کی ذات کو پہنچ رہا ہے تو اُن کا یہ وار دنیا کی نظروں میں ” اوچھا “ قرار نہ پاتا۔ اب اس تنازعہ کا ایک ہی حل ہے کہ عمران خان بھی اپنا سب کچھ باہر سے اندر لائیں اور نوازشریف بھی اپنے فرزندوں کو حکم دیں کہ اپنا سارا سرمایہ اور کاروبار پاکستان منتقل کردیں۔ دودھ کا دودھ ’ پانی کا پانی ہوجائے گا۔

Scroll To Top