مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhoot۔۔مصنف غلام اکبر
18-12-2017…
……..قسط:42


میں سمجھتا ہوں کہ اگر غریبوں کو یہ بتایا جاتا کہ اسلام بنیادی طور پر غریبوں کا مذہب ہے اور اس میں حصولِ دولت اور ارتکازِ زر کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تو بھٹو کے نعروں کی کشش زائل کی جاسکتی تھی۔ لیکن ” اسلام خطرے میں ہے“ کا نعرہ لگانے والے لوگ اپنا زوریہ ثابت کرنے پر صرف کر رہے تھے کہ جائز ذرائع سے دولت کمانا اسلام میں ناجائز نہیں۔ یہ لوگ بھول گئے تھے کہ رسول اکرم نے غربت اور سادگی کو امارت اور آرام پر ترجیح دی تھی۔ حالانکہ اگر آپ چاہتے تو جائز ذرائع سے دولت کما کر اپنے آپ کو غریبوں کی صف سے نکال لیتے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ پیغمبر اسلام نے اپنی ساری زندگی غربت سے قریب اور امارت سے دور رہ کر گزاری۔ ؟ صرف اس لئے کہ آپ جانتے تھے کہ غریبوں کی تعداد امیروں سے کہیں زیادہ تھی اور آپ چاہتے تھے کہ ایسے زندگی بسر کریں جیسی زندگی تمام لوگ بسر کر سکیں۔ آپ نے عملی زندگی کے ذریعے مسلمانوں کو تعلیم دی کہ حرصِ دولت بری چیز ہے اور انسان کو صرف اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے جدو جہد کرنی چاہیئے۔ طبقاتی کش مکش اس معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔ جس کا ایک طبقہ اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھاتا چلا جائے اور دوسرا طبقہ آمدنی کے مواقع سے بھی محروم رہے۔ رسولِ مقبول اسلام کے ذریعے اس طبقاتی کش مکش کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ آپ کے اس مشن کو حضرت صدیق اکبرؓ نے ، حضرت فاروقِ اعظمؓ، حضرت علیؓ اور حضرت ابو ذر غفاریؓ جیسی جلیل القدر شخصیتوں نےجاری رکھا۔ ان میں سے کوئی بھی طبقہ امراءسے تعلق نہیں ر کھتا تھا اور ان میں سے کسی کو ”جائز ‘ ‘ ذرائع سے دولت کمانے میں دلچسپی نہیں تھی۔ مجھے فاروق اعظمؓ کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں۔ جو انہوں نے گورنر مصر عمرو العاص کو ایک خط میں لکھے تھے۔
” عاص کے بیٹے میں نے تمہیں مصر کا گورنر مقرر کیا۔ اس لئے کہ تم عملی زندگی سے کفار پر اسلام کی فضیلت ظاہر کرو۔ مگر یہ معلوم کر کے مجھے بڑا دکھ ہوا ہے کہ تم نے اپنے لئے اتنی ساری دولت جمع کر لی ہے اور تم عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہو۔ تم کہتے ہو کہ تم نے یہ ساری دولت جائز ذرائع سے حاصل کی ہے اور تم نے جو حساب کتاب ھیجا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم نے کوئی بد دیانتی نہیںکی۔ لیکن میں یہ کیسے مان لوں کہ کوئی مسلمان اتنا امیر بن سکتا ہے ؟ تمہیں صرف اتنی دولت حاصل کرنیکا حق ہے جتنی دولت کی تمہیں ضرورت تھی۔ باقی ساری دولت پر ان لوگوں کا حق ہے۔ جنہیں پیٹ بھر کر کھانے کو بھی کچھ نہیںملتا۔ اس لئے میرا تمہیں مشورہ ہے کہ تمام فاضل دولت بیت المال میںجمع کر ا دو۔ اسی میں تمہاری فلاح ہے۔ اگر تم نے میرے اس مشورے پر عمل نہ کیا تو خلیفتہ المسلمین کی حیثیت سے میں تمہیں مجبور کروں گا کہ تمہارے پاس صرف اتنی ہی دولت رہے جتنی دولت کہ تمہیں ضرورت ہے۔“
یہ ہے اس اسلام کی روح جو رحمت اللعالمین نے بنی نوع انسان کی اجتماعی فلاح کے لئے رائج کیا تھا ۔ جس اسلام کو بھٹو نے ۰۷۹۱ءکے انتخابات میں شکست دی وہ فاروق اعظم ؓ کا اسلام نہیں عمرو العاص کاا سلام تھا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھٹو فاروق اعظمکا اسلام نافذ کرنا چاہتا تھا۔ بھٹو کا واحد مقصد عوام کے جذبات سے کھیل کر اپنے لئے اقتدار کا راستہ صاف کرنا تھا۔ وہ طبقاتی کشمکش کو صرف اس لئے ہوا دے رہا تھا کہ غریب عوام کی اکثریت اپنی محرومیوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے اسے ووٹ دے۔ المیہ یہ ہے کہ مجھ جیسے پڑھے لکھے لوگ بھی اس عظیم فراڈ اور دھوکے کا شکار ہوگئے۔ ہم بھول گئے تھےکہ ایک بدکردار جاگیردار کسی ایسے انقلاب کا سچا داعی نہیں ہو سکتا جو غریب طبقے کو امیر طبقے پر بالادستی عطا کردے ہم نے یہ نہ سوچا کہ بھٹو طبقاتی کشمکش کی آڑ میں معاشرے کو ایسی افراتفری اور ایسے انتشار کا شکار بنا رہا ہے۔ جس سے وہ بوقت ضرورت پورا پورا فائدہ اٹھا سکے۔
کئی صدیاں گزریں دنیائے اسلام میں ایک جھوٹا پیغمبر پیدا ہوا تھا۔ جس کا نام حسن بن صباح تھا۔ بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میںپھنسا نے کے لئے اس نے ایک جھوٹی جنت بنائی تھی۔ حسن بن صباح کے کارندے اس جھوٹی جنت کا نقشہ کچھ اتنی عمدگی کے ساتھ کھینچتے تھے کہ بے شمار لوگ اس کی تمنا میں صراط مستقیم سے بھٹک کر حسن بن صباح کے کے پیروکار بن گئے۔ حسن بن صباح کا کما یہ تھا یہ جو بھی اس کا پیرو کار بنتا بس اسی کا ہو کر رہ جاتا۔ اس کی اداکاری اتنی عمدی تھی اور اس کی شخصیت کا سحر اتنا گہرا تھا کہ اس کے بدترین جرائم کو بھی اس کے عقید تمند عقیدت اور صرف عقیدت کی نظر سے دیکھتے تھے وہ حسن بن صباح کی جھوٹی جنت میں داخل ہونے کے لئے خود بھی سنگین سے سنگین جرم کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔
بھٹو مجھے حسن بن صباح کی یاد دلاتا ہے۔
(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top