کراچی کے مجرموں کو سزا دیناہوگی

گورنر سندھ عشرت العباد خان کا کہنا ہے کہ 12مئی 2007 کو جس کسی نے بھی قتل عام کیا اس کے مجرموںکو چوراہے پر لٹکائے گے۔ مذید یہ کہ حالیہ دنوں میں کراچی میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ پکڑا گیا جو فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے خریدا گیا تھا۔“
شہرقائد میں جاری ٹارگٹیڈ آپریشن کی کامیابی کا اندازہ اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ بدلتی ہوئی صورت حال میں بانی ایم کیوایم کے قریبی ساتھیوں نے بھی ان سے فاصلہ رکھنے میں ہی عافیت جان لی ہے۔ اہل کراچی کو وہ وقت نہیں بھولا جب لندن سے آنے والی ایک کال کے نتیجے میںپورے شہر بند ہوجایا کرتاتھا۔ نامعلوم ملزمان کراچی کی سڑکوں پر موت کا رقص کرکے اس طرح سے غائب ہوجاتے تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ کئی دہائیوں سے وفاق اور سندھ میں حکومتیں آتی جاتیں رہیں مگر کسی زمہ دار کو شہر میں جاری بدترین قتل عام کو روکنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کے حواری پانچ سال تک وفاق اور سندھ میں برسر اقتدار آرہے مگر ملک کے سب سے بڑے شہر میں جاری بدترین بدامنی کا نوٹس لینے کی زحمت گوارہ نہ کی گی۔
دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کراچی میں قتل وغارت گری میں ہی انعقاد پذیر ہوئے۔ ایم کیوایم نے مبینہ طور پر دھونس اور دھاندلی کے زریعہ کامیابی حاصل کرکے ایک بار پھر یہ دعوی کر ڈالا کہ کراچی کے عوام کی اسے پوری طرح حمایت میسر ہے۔ مگر غیر جانبدار مبصرین کی اکثریت نے کراچی میں ہونے والے انتخابی عمل کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے۔پاکستان تحریک انصاف نے پوری قوت سے دوہزار تیرہ کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کا معاملہ اٹھایا مگر نمایاں سیاسی جماعتوں نے انتہائی چابکدستی سے اسے دبا ڈالا۔
حالیہ دنوں میں کراچی کی سیاست میں مسلسل ہلچل کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ شہر کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے اندار جس تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا جاری ہے وہ ہر اس سیاسی جماعت کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو پاکستان کی وحدت اورسلامتی بارے مذموم ارادہ رکھتی ہے۔ قومی منظر نامے میں سات سمندر پار براجمان متحدہ قومی موومنٹ کے بانی ایسی شرم وحیا دکھانے میں ناکام رہے جو کسی بھی باضمیر شخص کے لیے لازم وملزوم ہے۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے الطاف حسین نے سٹوڈنٹ یونین سے سیاست کا آغاز کیا اور پھر ملک کی نمایاں سیاسی قوت کے طور پر خود منوایا۔ افسوس صد افسوس کہ حقوق کی دوہائی دینے والے نے شہرقائد پر کئی دہائیوں تک بے تاج بادشاہ کی طرح حکومت کی وہی بے تحاشا مال بھی بنایا۔ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ایم کیوایم رہنما کو یہ احساس کسی طور پر نہ ہوا کہ ان کی اول آخر پہنچان وہی دھرتی ہے جس کے ساتھ وہ غداری کے مرتکب ہورہے ۔
حالیہ دنوں میں متحدہ قومی موومنٹ پر کاری وار سابق ناظم کراچی مصطفے کمال نے کیا جنھوں نے کھل کر الطاف حسین کی را سے تعلق کا اعتراف کیا۔ انیس قائم خانی اور ایم کیوایم سے وابستہ دیگر اہم اراکین کا ایم کیوایم بانی کی پالیسوں کو مسترد کردینا ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے شخص کے لیے ہرگز خوش کن نہ تھا۔
22اگست کی ایم کیوایم بانی کی تقریر نے الطاف حسین کی پاکستان میں سیاست کو دفن کرگی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ برطانوی شہریت کے حامل شخص کے لیے ہمدردی کے دوبول کہنا مشکل ہوچکا۔ ایم کیوایم کے تین ٹکڑے ہوئے چکے مذید ہونے کے بھی امکانات ہیں ۔ پاکستان سرزمین پارٹی، دوسرا ایم کیوایم پاکستان اور تیرے ایم کیوایم لندن ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ پنچہ آزمائی کررہیں۔ بظاہر الطاف حسین کی سیاسی مشکلات میںکمی کا امکان نہیں تو دوسری جانب کراچی کے عوام نے یقینا سکھ کا سانس لیا جب آئے روز دیار غیر سے کی جانے والی تقاریر ان کی زندگیاں مشکل بنادیتی تھیں۔
گورنر عشرت العباد کراچی میں ہونے والی جن بدترین کاروائیوں میں ملوث ملزمان کو کفیر کردار تک پہنچانے کی یقین دہانی کروارہے اس کے لیے عوام مدت سے متنظر ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ ماضی میں سنگین کاروائیوں میں ملوث رہنے والے ایم کیوایم کے اراکین اب دودہ سے دھلے بنے کے لیے کوشاں ہیں۔ زمہ دار حلقوں کی زمہ داری ہے کہ جو کوئی بھی پاکستان کے ساتھ غداری کا مرتکب ہوا اس کے معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ بادی النظر میں سرکار کی یہ حکمت عملی کسی طور پر بہتر معلوم نہیں ہوتی کہ ایم کیوایم پاکستان کے سب ہی اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کو کلین چیٹ دے دی جائے۔ ایم کیوایم پاکستان کو سیاسی طور پر کراچی میں سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہے مگر سیاست کی آڈ میں کھیل کھیلنے والے ان عناصر کو نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے جو ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور چائنا کٹنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔
ایک نقط نظر یہ ہے کہ کراچی میں ایم کیوایم کی دھڑے بندی کی شکل میں جو کچھ بھی ہوا وہ محض دکھاوا ہے۔ عملا صورت حال یہ ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے بہت سارے اراکین لندن سے رابطے میں ہیں جو مناسب وقت پر اپنی وفاداری کا یقین دلا سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں گورنرسندھ عشرت العبادکا بیان اہم ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعتا وہ عناصر قرار واقعی سزا پائیں گے جو کراچی میں بدترین جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔ گورنرسندھ یاد رکھیںکہ پاکستان کے عوام محض زبانی جمع خرچ پر یقین کرنے کو تیار نہیںبلکہ اس کے لیے زمہ دار شخصیات سے کچھ کر گزرنا ہوگا۔

Scroll To Top