پاکستان اپنے حصے کی عظمت ضرور حاصل کرے گا۔ کیسے؟ یہ میں نہیں جانتا 19-11-2009

بھارت معاشی لحاظ سے اگلی دہائیوں میں ایک سپر پاور کا درجہ اختیار کرلے گا۔ تمام مبصرین اور ماہرین اقتصادیات یہ پیشگوئی کررہے ہیں کہ جن ممالک کی معیشت چھلانگیں مارتی آگے بڑھ رہی ہے ان میں چین اور روس کے بعد بھارت کا ہی شمار ہوگا۔ چوتھا ملک جواس صف میں کھڑا ہوسکتا ہے وہ برازیل ہے۔
اس نوعیت کے جائزے جب بھی میری نظر سے گزرتے ہیں دل میں ایک درد سا اٹھتا ہے ، یہ سوچ کر کہ ہمارا پاکستان کتنی تیزی کے ساتھ نیچے کی طرف لڑ ھکتا چلا جارہا ہے۔
زیادہ کرب سے اس وقت گزرنا پڑتا ہے جب ایسے لوگوں کے ساتھ بات ہوتی ہے جو برصغیر کی تقسیم کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے یا کسی بھی سچے پاکستانی کو وطن عزیز کے مستقبل سے مایوس ہوجانا چاہئے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ ہمیں ان عفریتوں کے تسلط سے قدرت ضرور آزاد کرائے گی جن کے سیاہ کارناموں کی بدولت آج کا پاکستان کرپشن کے نئے ریکارڈ توڑ رہاہے۔
ہماری سرزمین پرحملہ ایک طرف سے نہیں کئی اطراف سے ہورہا ہے۔ ایک حملہ دولت کے ان پجاریوں کی طرف سے ہے جو درندوں کی طرح وطن عزیز کی بوٹیاں توڑ رہے ہیں۔ ایک حملہ ہمارے دشمنوں کے ان ایجنٹوں کی طرف سے ہے جو ہماری فوج کو مشرقی سرحدوں سے ہٹا کر شمال مغربی سرحدوں کی طرف لے جانے پر تلے ہوئے ہیں۔
اور ایک حملہ ان لوگوں کی طرف سے ہے جو پاکستان کی اساس کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور جن میں سے کوئی سندھ کا رڈ کوئی بلوچ کارڈ کوئی پختون کارڈ اور کوئی سرائیکی کارڈ کھیل کر قائداعظم کی میراث کو تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینکنا چاہتا ہے۔
کون نہیں جانتا کہ کس پارٹی نے قیام پاکستان کی جنگ جیتی تھی اور کس کس پارٹی کی جڑیں تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرانے والی پارٹی میں ہیں۔ ؟ میں یہاںدونوں مسلم لیگوں پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کا نام لوں گا۔
کچھ دوسری پارٹیاں بھی ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کا راستہ روکنے کے لئے آخری لمحات تک جدوجہد کی تھی۔اگر آج وہ پارٹیاں مخلوط حکومت میںشریک ہیں تو میں اپنے اندر اس سوال کو اٹھنے سے کیسے روک سکتا ہوں کہ کھیل صرف اقتدار کا کھیلا جارہا ہے اور پاکستان کامفاد سارے کھلاڑیوں کی نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔
میں اختتام اپنی آج کی بات کا پھر بھی اس جملے کے ساتھ کروں گا کہ پاکستان اپنے مقدر کی عظمتوں سے ضرور ہمکنار ہوگا۔ کیسے؟ یہ میں آج نہیں بتا سکتا۔

Scroll To Top