مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔مصنف۔۔ غلام اکبر

jhot-ka-paigamber-logo-new

17-12-2017………..قسط:41
بھٹو کے یہ نعرے کس حد تک قابلِ عمل تھے اور ان نعروں کے ساتھ وہ کس حد تک پُر خلوص تھا یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہاں میں صرف بتانا چاہتا ہوں کہ بھٹو ان نعروں کے ذریعے ان کروڑوں عوام کی نا آسودہ خواہشات اور امنگوں کو زبان دے رہا تھا جو بے حسِ حاکم طبقات کی وحشیانہ ہوسِ زر کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے ۔ ان مجبور اور بے بسی عوام کو بھٹو کے نعروں میں امید کی ایک ایسی کرن نظر آئی جس سے وہ کسی قیمت پر بھی نظریں ہٹانے کے لئے تیار نہیں تھے۔” اسلام خطرے میں ہے “ ۔ کا نعرہ جب ان عوام کے کانوں سے ٹکراتا تو وہ سوچے بغیر نہ رہتے کہ اسلام کی آڑ میں ” غریبوں کے ہمدرد اور دولت مندوں کے دشمن بھٹو “ کو ناکام بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔
بھٹو کا ہاتھ غریبوں کی نبض پر تھا۔
وہ اسلام کے عوام کے جذباتی لگاو¿ کو بھی ایکسپلائٹ کر رہا تھا اور عوام کے معاشی مسائل کو سوشلزم کے ذریعے حال کرنے کا عہد بھی کر رہا تھا۔ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سوشلزم ایک ملحدانہ تصور ہے اور اسلامی نظام کی موجودگی میں سوشلزم کا نام لینا کفر ہے۔ بھٹو کا جواب یہ تھا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس مین عوام کو روٹی ، کپڑا اور مکان مہیا کرنے والا سوشلزم بھی موجود ہے۔ جماعت اسلامی کا مﺅقف یہ تھا کہ رازق تو خدا ہے ۔ بھٹو کون ہے روٹی، کپڑا اور مکان دینے ولا؟ بھٹو مﺅقف یہ تھا کہ دولت کے اصل مالک غریب عوام میں ہیں ۔ اور جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اس دولت کوناجائز طور پر اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ جماعت اسلامی کہہ رہی تھی کہ روٹی، کپڑے اور مکان وغیرہ کے چکر میں آنے سے ایمان کمزور ہوجاتا ہے اور بھٹو کہہ رہا تھا کہ وہ جس سوشلزم کی بات کر رہا ہے وہ دراصل مساواتِ محمدی ہے اور مساوات محمدی نافذ کرنے کا دعویٰ کرنے والے لوگ خود بھی سرمایہ دار اور جاگیر دار تھے۔ عوام ان کے پروپیگنڈے سے اس لئے متاثر ہوئے کہ انہیں اپنی غربت دور کرنے کے لئے امید کی کسی کرن کی ضرورت تھی اور یہ کرن انہیں ان لوگوں کے پروپیگنڈے میں نظر نہیں آرہی تھی جو نجی ملکیت اور ارتکازِ زر کے نظام کو سہارا دینے کے لئے اسلام کا نام استعمال کر رہے تھے۔ عوام کو پورا پورا یقین تھا کہ اگر بھٹو نے بر سراقتدار آکر ان کی غربت دور کر دی تو وہ پھر بھی مسلمان ہی رہیں گے اور ان کے ایمان میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوگی۔
جماعت اسلامی جس قسم کے اسلامی نظام کے تحفظ کے لئے جہاد کر رہی تھی اس نے بھٹو کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر کر دی ۔ صورت حال کچھ اس طرح کی ہوگئی کہ اس زمانے میں جو شخص بھی اسلام کا نام لیتا اسے سرمایہ دارانہ نظام اورامریکی سامراج کا ایجنٹ قرار دے دیا جاتا۔ اس صورت حال کو پروان چڑہانے کا سہرا جماعت اسلامی کے سر تھا۔
مجھے یاد ہے۔ ایک دن میں ٹیکسی میں دفتر جا رہا تھا۔ انتخابی گہما گہمی زوروں پر تھی میں ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھ بیٹا کہ ” جناب آپ کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں“؟
اس نے جواباً پوچھا۔ ” پلے آپ بتایئے کہ آپ کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔“؟
” میں تو مسلمان ہوں“۔ میں نے جواب دیا۔
ٹیکسی ڈرائیور ایک دم بھڑک اٹھا اور بولا۔“ کیا صرف جماعت اسلامی والے مسلمان ہیں۔ ہم مسلمان نہیں ہیں؟ اگر ہم غریبوں کو عزت سے جینے کا حل مل جائے تو آپ لوگوں کا کیا بگڑے گا۔“؟
اس ٹکسی ڈرائیور کے جذبات میں مجھے آنے والے انتخابات کے نتائج پوری طرح نظر آگئے ۔ میں نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔
”برادرم ہم سب مسلمان ہیں اور ہم سب کو عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے ۔ یہ حق ہم ان لوگوں سے ضرور حاصل کریں گے جو دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے کے حق کو اسلام کا نام دے رہے ہیں۔“
انتخابات سے پہلے میں نے جماعت اسلامی کے ایک ہمنوا کے ساتھ شرط لگائی کہ جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ پانچ نشستیں حاصل کر سکے گی۔ وہ شخص میری اس ” احمقانہ پیشگوئی“ پر خوب دل کھول کر ہنسا مگر میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ جس کش مکش کو یہ لوگ کفرو اسلام کا معرکہ قرار دے رہے ہیں وہ عوام کی نظروں میں دو نظاموں کے درمیان مقابلہ ہے۔ ایک نظام کے علمبردار غریبوں کی اپنی غربت پر قناعت کرنے اور خدا کا شکر ادا کرتے رہنے کا درس دے رہے ہیں اور دوسرے نظام کے داعی غریبوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ غربت ان کی تقدیر نہیں اور جس دولت پر مٹھی بھر لوگوں نے ناجائز ہتھکنڈوں کے ذریعے قبضہ جمارکھا ہے اس پر غریب عوام کا بھی حق ہے۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top