نا نااہلی کیس: عمران خان برقرار/جہانگیر ترین نا اہل قارار

  • خان بنی گالا کی جائیداد کے مالک،نیازی سروسز لمیٹڈ کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں تھے، عمران خان کی کوئی بدنیتی ثابت نہیں ہوتی ، جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا جاتا ہے، عدالت عظمیٰ کا فیصلہ
  • 3رکنی بینچ نے جمعہ کو کیس کا فیصلہ سنایا،فارن فنڈنگ معاملے پر استدعا مسترد، تحریک انصاف پر غیرملکی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا تاہم درخواست گزار غیر ملکی فنڈنگ پر متاثرہ فریق نہیں،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

ss
اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن)کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اہل جبکہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پر غیرملکی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا تاہم درخواست گزار غیر ملکی فنڈنگ پر متاثرہ فریق نہیں۔ مسلم لیگ (ن)کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے جمعہ کو کیس کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ طور پر پی ٹی آئی کے اکانٹس کی گذشتہ 5سال تک کی چھان بین کرسکتا ہے۔عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عمران خان نیازی سروسز لمیٹڈ کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں تھے۔عدالت نے جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کو ایماندار قرار نہیں دیا جاسکتا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کمرہ عدالت میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ 250صفحات پر مبنی فیصلے کی ڈرافٹنگ کے ایک صفحے میں غلطی تھی جس کی وجہ سے پورے فیصلے کو دوبارہ پڑھنا پڑا جس پر عدالت معذرت خواہ ہیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اثاثہ جات کے مطابق عمران خان کی کوئی بدنیتی ثابت نہیں ہوتی، بنی گالا کی جائیداد عمران خان کی ملکیت ہے، جو انہوں نے بیوی اور بچوں کے لئے خریدی، عمران خان نا تو آف شور کمپنی کے شیئر ہولڈر تھے اور نا ہی ڈائریکٹر، ایمنسٹی اسکیم کے تحت عمران خان پر اثاثے ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا۔سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ معاملے پر استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے اکانٹس کی جانچ پڑتال الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن مکمل اور مساوی طور پر اکانٹس کی چھان بین کرے، عمران خان کے بیان حلفی کاعدالتی جائزہ لینا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین نے ان ہاﺅس ٹریڈنگ کا اعتراف کیا، ایس ای سی پی نے جہانگیر ترین کا معاملہ خود ختم کیا اور فوجداری کارروائی نہیں کی۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت عمران خان سپریم کورٹ میں موجود نہیں تھے تاہم جہانگیر ترین، تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری ، درخواست گزار حنیف عباسی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر سیاسی شخصیات بھی اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

You might also like More from author