وہ ہمیشہ سے یہی سمجھتے رہے ہیں کہ ملک میں ” شریف راج“ کے تسلسل اور دوام کے راستے میں صرف جنرل حائل ہیں

میاں صاحب نے اپنے مقابلے میں اپنے ہی آپ کو پاکستان مسلم لیگ (ن)کا صدر منتخب کرنے یا کرانے کے بعد جو تقریر کی اس میں انہوں نے کچھ باتیں تو” گلیوں والی“ زبان میں کہیں اور کچھ ” معرفت“ کی زبان میں۔ ” تم گالیاںبکتے رہو میں سڑکوں پر سڑکیں بناتا چلاجاﺅں گا۔“
گالیاں یقینا بکی ہی جاتی ہیں۔ اور یہ بات میاں صاحب نے یقینا عمران خان کو مخاطب کرکے کہی۔ عمران خان کون سی گالیاں ” بکتے “ ہیں۔؟”
میاں صاحب یا توآپ استعفیٰ دے دیں یا تلاشی دیں۔ آپ نے چوری کی ہے۔ ڈاکہ ڈالا ہے۔ اور پاناما کا معاملہ اس بات کی شہادت دیتاہے۔“
اگر میاں صاحب ” چوری“ اور ” ڈاکے “ کوواقعی گالی سمجھتے ہیں تو وہ اب تک پاناما والے معاملے کی تحقیقات کرا کر اپنے آپ کو بے گناہ اور عمران خان کو کاذب ثابت کرچکے ہوتے۔ وہ کیوں عمران خان کو گالی بکے جانے کا موقع فراہم کرتے چلے جارہے ہیں ؟
لیکن اپنی تقریر میں میاں صاحب صرف عمران خان سے مخاطب نہیں تھے ۔ انہوں نے ڈگڈگی بَجانے ” والوں“ کی بات کی۔ اگر وہ ڈگڈگی بَجانے ” والا“ کہتے تو ان کا اشارہ یقینا صرف عمران خان کی طرف ہی سمجھا جاتا ` کسی کا بھی ذہن جنرل راحیل شریف کی طرف نہ جاتا۔ لیکن انہوں نے کہا ۔ ” ہر دور میں ڈگڈگی بجانے والے آجاتے ہیں اور ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگرہم گھبرانے والے نہیں ۔“
اس بات کو اُس بیان کی روشنی میں پرکھا اور سمجھا جائے جو چند ہی روز قبل وفاقی وزیراطلاعات جناب پرویز رشید نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی۔ ” فوج آکر معاملات خراب کرتی ہے اور پھر ہم سے کہتی ہے کہ آﺅ اور ٹھیک کرو۔“
اگرچہ یہ بیان ” خلافِ حقیقت“ تھا کیوں کہ فوج کے جانے کے بعد ہمیشہ پی پی پی ہی برسراقتدار آئی ہے ۔(1971ءمیں بھٹو برسراقتدار آئے ۔1988ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو برسراقتدار آئیں۔ اور 2008ءمیں آصف علی زرداری برسراقتدار آئے۔)لیکن اس بیان سے میاں صاحب اور ان کے حاشیہ برداروں کے ذہنوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ میاں صاحب کوپہلے جس ڈگڈگی بَجانے والے سے سابقہ پڑا اس کا نام جنرل عبدالوحید کاکڑ تھا۔ پھر جنرل پرویز مشرف ڈگڈگی لے کر آگئے۔ اور اب ڈگڈگی جنرل راحیل شریف کے ہاتھ میں ہے یعنی مداری وہ ہیں اور بندر عمران خان۔
یہ بات میاںصاحب کے ایک دستِ راست مشاہد اللہ خان نے 2014ءکے دھرنوں کے حوالے سے بھی کہی تھی اور بیک وقت جنرل پاشا اور جنرل ظہیر کو ” نشانہ “ بنایا تھا۔
یہ امر واقعہ ہے کہ میاں نوازشریف اگرچہ وزارت عظمیٰ تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے جنرل ضیاءالحق کو ” مرحوم“ نہیں ” رحمت اللہ علیہ “ کہا کرتے تھے لیکن اندر ہی اندر وہ ہمیشہ سے یہی سمجھتے رہے ہیں کہ ملک میں ” شریف راج“ کے تسلسل اور دوام کے راستے میں صرف یہ جنرل حائل ہیں۔ اگر اِن کا زہر نکال کر انہیں بے ضرر کیڑا بنا دیا جائے تو تختِ لاہور پر اُن کے بعد مریم اور مریم کے بعد ان کے صاحبزادے براجمان ہوں گے۔ اگرچہ اس منظرنامے کا راستہ صرف جنرلز نے ہی نہیں روک رکھا ` خود شریف خاندان کے اندر تخت کے دوسرے دعویدار بھی موجود ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بھائیوں اور ان کی اولادوں کا کبھی بس نہیں چلا۔ میاں شہبازشریف کے مقدّر میں صرف صوبیداری لکھی ہے۔ اور حمزہ شہباز ” تایا حضور“ کہتے کہتے بوڑھے ہوجائیں گے۔
میاں صاحب کے حالیہ طور طریقے بتا رہے ہیں کہ اب انہو ں نے طبلِ جنگ بَجانے کا سوچ لیا ہے ۔ بلکہ سرل المیڈا کی خبر کے ذریعے طبلِ جنگ بجا دیا گیا ہے۔اس ” خوداعتمادی“ کی بڑی وجہ یہ یقین ہے کہ اگر فوج نے اقتدار سنبھالنے کی کوشش کی تو امریکہ پاکستان کا ” تورا بورا“ بنادے گا۔اس یقین کا اظہار نون لیگ کے ایک لیڈر رانا افضل نے کھل کر کر بھی دیا ہوا ہے۔
لیکن یہ یقین میاں صاحب کو 1999ءمیں بھی تھا۔ حالانکہ تب ” تورا بورا“ کا نام کسی نے نہیں سنا تھا۔۔۔

Scroll To Top