2-8-2012 شاخِ نازک پر بنا آشیانہ

kal-ki-baat
علامہ اقبال` نے ایک تاریخی سچ اپنے ایک شعر میں شاید ہمارے موجودہ حکمرانوں کی رہنمائی کے لئے ہی بیان فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو آشیانہ شاخِ نازک پر بنے گا ناپائیدار ہوگا۔
گزشتہ مہینے حکومت نے جس قانون کو ہنگامی بنیادوں پر پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے بعد نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے لئے ایک ڈھال بنانے کا عہدِ صمیم کیا تھا ` وہ قانون اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور شاخ ِ نازک پر بنے آشیانے کی طرح اپنے انجام کا انتظار کررہا ہے۔
وفاق کے وکیل نے توہینِ عدالت کے اس نئے قانون میں مختلف عہدوں کو مہیا کی گئی استثنیٰ کی سہولت کی قلعی خود ہی کھول دی ہے۔
انہوں نے فرمایا ہے کہ توہینِ عدالت کرنے کی پاداش میںایک وزیراعظم کو گھر جانا پڑا ` چنانچہ یہ بات ناگزیر ہو گئی کہ اس اہم ” ریاستی ستون “ کی حفاظت کے لئے یہ قانون بنایا جائے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس دلچسپ دلیل پر محظوظ ہوئے بغیر نہ رہے اور انہوں نے کہا کہ وہ اسے ریکارڈ کا حصہ بنا رہے ہیں۔
متذکرہ قانون پر پوری قوم کو اعتراض ہی یہی ہے کہ یہ محض ہنگامی سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے اور اس کا مفادِ عامہ سے کوئی تعلق نہیں۔
وہ وقت کب آئے گا جب حکمران اتحاد اس حقیقت کو تسلیم کرلے گاکہ توہین ِعدالت کے الزام اور نتائج سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ عدالت کے احکامات پر عمل کیا جائے۔
ورنہ پھر چوہدری اعتزاز احسن کی یہ پیشگوئی سچ ثابت ہوجائے گی کہ کم ازکم تین وزرائے اعظم کو گھر جانا پڑ جائے گا ` پھر عام انتخابات ہوں گے۔۔۔!

Scroll To Top