مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhoot
مصنف۔۔ غلام اکبر
16-12-2017
قسط :40

مثلاً ۔ ہم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی پرجوش حمایت کرتے ہیں۔ ہم عوام کے سچے خادم ہیں اور برسرِ اقتدار آنے کے بعد ملک و قوم کی بے لوث خدمت کریں گے۔ ہم قائد اعظم کے بتائے ہوئے اصولوں یعنی اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کو زندہ رکھیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ان سیاست دانوں کو یقین تھا کہ وہ اس قسم کی باتیں کر کے مطلوبہ ووٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ ووٹ حاصل کرنے کے لئے وہ اپنی دولت کا سہارا بھی لے سکتے ہیں اور ذات برادری کا چکر بھی چلا سکتے ہیں۔ یہ سیاست دان زیادہ تر مسلم لیگ اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی متعدد مسلم لیگوں اور دوسری جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان پیشہ ور سیاست دانوں کا نشئہ سیاست ہرن کرنا اس بھٹو کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا جو ووٹ کے بدلنے میں عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ کر رہا تھا، جو فیکٹریوں اور کارخانوں کو خود غرض اور مغرورسرمایہ داروں سے چھین کر خون اور پسینہ ایک کر دینے والے مزدوروں کے حوالے کر دینے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے تھا، جو زمینیں ظالم جاگیرداروں، زمین داروں اور وڈیروں سے چھین کر ملک کے غریب محنتی، مستحق اور مظلوم مزار عوں اور کسانوں میںتقسیم کا پختہ ارادہ ظاہر کر رہا تھا اور جو تہیہ کر چکا تھا کہ امیروں کی ساری دولت ان سے چھین کر ملک کے غریب عوام میں بانٹ دی جائے گی۔
گھسے پٹے نعرے استعمال کرنے والے پیشہ ور سیاست دانوں سے بھٹو کو یقینا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ خطرہ اصغر خان سے ہو سکتا تھا، لیکن وہ عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے کے بعد اپنی قائم کردہ جسٹس پارٹی توڑ چکے تھے اور یوں ان کے پاس اب کوئی ایسا طاقتور سیاسی پلیٹ فارم نہیں تھا۔ جہاں سے بھٹو کے چیلنج کا موثر جواب دیا جاسکتا ۔ اس روز بھٹو نے یقینا گھی کے چراغ جلائے ہوں گے۔ جب اصغر خان نے پیشہ ور سیاست دانوں کی باتوں میں آکر جمہوری مزاج رکھنے والی مختلف جماعتوں کے اشتراک سے ایک طاقتور سیاسی پارٹی کے قیام کی خاطر اپنی سیاسی طاقت کے حصار یعنی جسٹس پارٹی کو خود ہی ختم کر دیا۔ اصغر خان کے اس فیصلے کا تفصیلی تجزیہ میں آنے والے ابو اب میں کروں گا۔ یہاں میں صرف اس سیاسی فضا کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ جس میں ۰۷۹۱ءکے عام انتخابات ہوئے۔
صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھٹو کا مقابلہ جن گروپوں اور لیڈروں سے تھا وہ اپنے علاقوں کے عوام کے جذبات کو اپیل کرنے والے نعروں کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی پوزیشن میں تھے، لیکن مغربی پاکستان میں سیاسی طاقت کا توازن پنجاب اور سندھ کے ہاتھ میں تھا اور ان صوبوں کے عوام کو اپنے پیچھے لگا کر بھٹو پورے مغربی پاکستان کی قسمت کا مالک بننے کی پوزیشن میں تھا۔
جہاں تک مشرقی پاکستان کا تعلق ہے تو ملک کے اس بازو کے عوام اپنی امنگوں کی مشعل شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کے ہاتھ میں دے چکے تھے۔ مگر مستقبل کے جس پاکستان پر بھٹو حکوت کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا اس کے نقشے میں مشرقی پاکستان کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس لئے شیخ مجیب الرحمان کی عوام لیگ سے بھی اسے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے بھٹوکو صرف پنجاب اور سندھ میں بھاری اکثریت سے عام انتخابات جیتنے کی ضرورت تھی اور ان دو صوبوں میں اس کا حقیقی مقابلہ ” اسلام خطرے میں ہے“ کے نعرے سے تھا۔ جسے مذہبی جماعتوں نے بلند کیا تھا۔ ان مذہبی جماعتوں میں سب سے زیادہ طاقتور جماعت اسلامی تھی اور مگر میں یہ کہوں تو بے جانہ ہوگا کہ ۰۷۹۱ءکی انتخابی جنگ بنیادی طور پر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان لڑی گئی۔ کیونکہ بھٹو کی مخالف دوسری تمام قوتوں نے بھی ” اسلام خطرے میں ہے۔“ کے نعرے کو ہی اپنی انتخابی مہم کی تھی بنایا۔ ان ”قوتوں“ میں وہ تمام پیشہ ور سیاست دان بھی شامل تھے جن کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ قومی سیاست میں بھٹو کا ظہور اِن سیاست دانوں کی اجارہ داری کے لئے خطرہ بن چکا تھا اس لئے انہوں نے بھی ” اسلام خطرے میں ہے “ کے نعرے تلے جمع ہونے میں ہی بقا تصور کی۔
اس نعرے کو غیر مﺅثر بنانا بھٹو کے لئے قطعاً مشکل نہیں تھا۔ بھٹو نے اپنے منشور میں بھی ” اسلام ہمارا دین ہے“ کا نعرہ شامل کر رکھا تھا اور انتخابی مہم میں اسے بس یہ ثابت کرنا تھا کہ ” اگر غریب کو روٹی ، کپڑا اور مکان مل جائے تو اسلام کو ہرگز کوئی خطرہ پیش نہیں آسکتا ۔ اگر دولت مند طبقے کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے والے غریب عوام کو دولت مندوں کی برابری کرنے کا حق مل جائے، اگر بڑے بڑے جاگیرداروں کی زمینیں چھین کر غریب مزارعوں اور کسانوں میں تقسم کر دی جائیں اور اگر کارخانوں اور فیکٹریوں وغیرہ کو سرمایہ داروں سے حاصل کر کے مزدوروں کی تحویل میں دے دیا جائے تو اسلام کسی طرح بھی خطرے میں نہیں پڑے گا۔“
(جاری ہے….)
Scroll To Top