مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhoot

مصنف۔۔ غلام اکبر

15-12-2017

قسط :39۔۔


بھٹو کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں اردو اور پنجابی بولنے والے سندھیوں کے ساتھ جو

سلوک کیا گیا اس کی ایک مثال میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر دے سکتا ہوں۔ میرے ایک بھانجے نے سندھ میںجنم لیا اور سندھ میں ہی پرورش پائی اس نے ۲۷۹۱ءمیں سندھ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ ملازمت کے لئے اسے ڈومیسائل کی ضرورت تھی جو اسے چار سال کی اَن تھک کوششوں کے باوجود نہ مل سکا۔ اس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس کے باپ نے سندھ میں جنم نہیں لیا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو مکمل سندھی ثابت کرنے کے لئے حکام کے سامنے بہترین سندھی بول کر بھی دکھائی مگر وہ اپنے باپ کی جائے پیدائش بدلنے پر قادر نہیں تھا۔ بالآخر مجھے خود سندھ جانا پڑا اور میرے بھانجے کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے ضلع کا ڈپٹی کمشنر میرا بچپن کا دوست نِکلا۔
میں نے ڈومیسائل کے مسئلے پر متعدد ”متاثرہ“ افراد سے بات چیت کی تو پتہ چلا کہ کراچی اور حیدر آباد کا ”ڈومیسائل“ رکھنے والوں کو ملازمتوں میں قطعی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان شہرون میں غیر مقامیوں کی اکثریت ہے اور جن علاقوں کے ڈومیسائل کو اہمیت ملتی ہے وہاں غیر مقامیوں کو ڈومیسائل جاری نہیں کیا جاتا۔
یہ اس بھٹو کے اپنے صوبے کا حال تھا جس نے شیخ مجیب الرحمان کو صوبائیت پرست اور علیحدگی پسند قرار دے کر پاکستان کے دو ٹکڑے کرانے سے بھی دریخ نہیں کیا تھا۔
شیخ مجیب الرحمان پر بھٹو نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ وہ ہندوو¿ں کے ہاتھوں میں کھیلتا تھا اور خود بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں سندھ کے ہندوو¿ں کو کس فیاضی کے ساتھ نوازا اس کا اندازہ اس خراجِ تحسین سے لگایا جاسکتا ہے جو اس نے رانا چندر سنگھ کو ادا کیا۔
بھٹو نے رانا چندر سنگھ اور اس کے خاندان کی شاندار ”قومی “ خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”ہم یہ بات کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ رانا چندر سنگھ کے آباو¿ اجداد نے ہمارے آباو¿ اجداد کو اپناہ دی تھی“۔
بھٹو کا اشارہ ہمایوں کی طرف تھا جو افغانو کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد عمر کوٹ مین آکر پناہ گزین ہوا تھا ۔ لیکن کتنی شرمناک بات ہے کہ رانا چندر سنگھ کی تعریف کرنے کے جوش میں بھٹو بھول گیا کہ ہمایوں کو راجپوتوں نے پناہ اس لئے دی تھی کہ اسے شکست دینے والنے شیر شاہ سوری کو ہندو اپنے لئے حقیقی خطرہ سمجھتے تھے۔
O O
میں بہت آگے نکِل آیا ہوں اور میں نے ان انتخابات کا جائزہ نہیں لیا۔ جن کے نتائج نے مغربی پاکستان کو بھٹو کی طاقت کا قلعہ بنا دیا۔
جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاءنے پاکستان میں جو سیاسی خلاءپیدا کیا اس نے بھٹو کو وہ حالات فراہم کر دیئے جن کی اسے ضرورت تھی وہ سیاست دان جو دورِ ایوبی سے پہلے عوام کی نظروں سے گر چکے تھے اور جنہوں نے دورِ ایوبی کے دوران بھی عوامی مسائل کے ساتھ حقیقی ہم آہنگی پیدا نہیں کی تھی۔ ان کے سیاسی وجود کو ختم کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ ان سیاست دانوں کا کوئی عوامی امیج نہیں تھا۔ کیونکہ ان کی ساری سیاست ”مذاکرات‘ جوڑ توڑ اور محلاتی سازشوں“ کے ارد گرد گھومتی رہی تھی۔ انہوں نے کبھی عوام کے اندر آنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں تھی۔ ان میں کچھ تو اپنی اپنی ” برادریوں “ کی قوت پر بھروسہ کرتے تھے اور کچھ کو اپنی جاگیر وں اور دولت مندی پر اندھا اعتماد تھا۔ ان کے خیال میں یہی باتیں ”پیشہ ورانہ سیاست“ میں بنیادی اہمیت رکھتی تھیں۔ کچھ روایتی قسم کے نعرے بھی انہوں نے اپنا رکھے تھے جو ان کے اندازوں کے مطابق عوام کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھے۔
(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top