وزارت دفاع بھی ختم کردی جائے ؟

kal-ki-baatاے این پی کے صدر افراسیاب خٹک نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا کو ختم کرکے بجلی کا نظام صوبوں کے حوالے کردیا جائے۔ اگر اس مطالبے کے ساتھ ساتھ وہ یہ اعلان بھی فرما دیتے کہ اے این پی کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر جو اعتراض ہے وہ اسے ختم کرنے کے لئے تیار ہے تو پنجا ب میں ان کے مطالبے کا خیر مقدم کیا جاتا۔

کون نہیں جانتا کہ ” اے این پی “ کی سوچ روزِ اول سے ہی پنجاب کو اپنی بجلی خود پیدا کرنے کے حق سے محروم رکھنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ کالا باغ ڈیم کے منصوبے کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہنے کا سلسلہ اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔1950ءاور 1960ءکی دہائی میں واپڈا پر اسی سوچ کا کنٹرول رہا۔ منگلا ڈیم بھی پنجاب سے باہر بنا۔ تربیلا ڈیم بھی پنجاب سے باہر بنا۔ اور کالا باغ ڈیم چونکہ پنجاب میں بنناتھا اس لئے اسے پاکستان کے لئے زہر قاتل قرار دے دیا گیا۔ اس سوچ کے بانی فضل رازق تھے جو کسی زمانے میں واپڈا کے چیئرمین تھے۔ جب جنرل ضیاءالحق برسراقتدار آئے اور انہوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو سنجیدگی سے اولیت دینے کی کوشش کی تو فضل رازق کے ہی بھائی جنرل فضل حق دیوار بن کر ان کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
اے این پی کے بار ے میں ہم سب جانتے ہیں کہ وہ ایک ” مخصوص“ سوچ رکھتی ہے۔ اس ” سوچ “ کے ہیرو قائداعظم ؒ نہیں باچا خان ہیں۔ مجھے اس موضوع کو نہیں چھیڑنا چاہئے کیوں کہ جو باتیں تاریخ کا حصہ بن چکیں انہیں موضوع بحث بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن اے این پی کو بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ پنجاب کی دکھتی رگ کو چھیڑیں۔ کل اگر باچا خان کے جانشینوں نے یہ مطالبہ کردیا کہ وزارت دفاع بھی ختم کرکے صوبوںکو اپنی اپنی فوج رکھنے کا اختیار دے دیا جائے تو ہم کیا کریں گے اور کہاں جائیں گے۔

Scroll To Top