مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر
14-12-2017
قسط :38۔۔

جنرل یحییٰ خان کے مشیر خاص برائے قانونی امور مسٹر چودھری نے اپنی کتاب ” پاکستان کے آخری دن“ میں لکھا ہے کہ سمجھوتہ ہو گیا تھا۔ اس سمجھوتے کی روشنی میں شیخ مجیب الرحمان نے منظوری کے لئے جو ڈرافٹ پیش کیا اسے بھٹو کے حامی جنرل پیر زادہ نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد جنرل پیرزادہ نے منظوری کے لئے ایک ڈرافٹ پیش کیا۔ جسے طیش میں آکر شیخ مجیب الرحمان نے مسترد کر دیا۔ المیہ یہ ہے کہ دونوں ڈرافٹ بالکل ایک جیسے تھے۔ اس المیے کی ذمہ داری کا تعین کرتے وقت ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیئے کہ پہلے کس نے وہ ڈرافٹ مسترد کیا تھا۔ دوسرے درجے کے ایک جنرل کو اتنے بڑے عوامی لیڈر کی توہین کرنے کی شہ کس نے دی تھی؟
بھٹو کی حمایت میں دی جانے والی سب سے بڑی دلیل کا مفصل جواب دینے کے بعد میں دوسری دلیل کی طرف آتا ہوں جو ایک مفروضے پر مبنی ہے۔
مفروضہ یہ ہے کہ اگر شیخ مجیب الرحمان پاکستان کا وزیرا عظم بن جاتا تو وہ مغربی پاکستان کی ساری دولت مشرقی پاکستان میں منتقل کرنے کے بعد علیحدگی کا اعلان کر دیتا۔
ایک مفروضے کو ایک تباہ کن فیصلے کی بنیاد بنانا یقینا عقلمندی نہیں۔ اگر اس مفروضے کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھٹو قومی اسمبلی میں ایک طاقتور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے شیخ مجیب الرحمان کی غلط کاریوں کے خلاف طوفان نہیں اٹھا سکتا تھا؟ اور اگر بھٹو کی شدید نکتہ چینیوں اور اس کے زبردست احتجاجات کے باوجود شیخ مجیب الرحمان مغربی پاکستان کو مفلوک الحال اور تہی دست بنانے کی پالیسیاں جاری رکھتا تو جس محبِ وطن فوج نے جنرل پیرزادہ کے اشارے پر ڈھاکہ کو ایک عظیم مقتل بنا کررکھ دیا تھا۔ وہ حبِ وطن فوج شیخ مجیب الرحمان کی ” پاکستان دشمنی“ کا تماشا خاموشی سے نہ دیکھتی رہتی۔
بھٹو کے حق میں دی جانے والی تیسری دلیل بھی ایک مفروضے پر مبنی ہے اس مفروضے کے مطابق اگر عوامی لیگ بر سر اقتار آجاتی تو صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی علیحدگی پسند قوتیں زور پکڑ جاتیں اور پاکستان کی سرحدیں بالآخر سمٹ کر پنجاب اور سندھ تک محدود ہوجاتیں۔ اس مفروضے کا جواب میں بھٹو کے دورِ حکومت کے حوالے سے دینا چاہتا ہوں اور میرا جواب چند سوالوں کی شکل میں ہے۔
۱۔ وہ کون سا صوبہ ہے۔ جس میں بھٹو کے اقتدار کے پہلے ہی سال کے دوران لسانی مسئلہ پیدا ہوا اور اس مسئلے پر خونریز فسادات ہوئے۔
۲۔ وہ کون صوبہ ہے جہاں مقامی اور غیر مقامی باشندوں کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔؟
۳۔ وہ کون سا صوبہ ہے جہاں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے درخواست دہندہ کو اپنی جائے پیدائش کے ساتھ اپنے باپ کی جائے پیدائش اور باپ کے باپ کی بھی جائے پیدائش ظاہر کرنی پڑتی تھی؟
۴۔ وہ کون سا صوبہ ہے جہاں ایسے درخواست دہندہ کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا تھا جس کے باپ اور ” باپ کے باپ“ کی جائے پیدائش اس صوبے سے باہر ہو۔؟
۵۔ وہ کون سا صوبہ ہے جہاں کسی بھی سرداری ادارے یا نیم سرکاری ادارے کی ملازمت حاصل کرنے کے لئے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی تھا اور اسی بنیاد پر ان ضرورت مندوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے گئے تھے جن کے آباو¿ اجداد کا تعلق اس صوبے سے نہیں تھا؟
۶۔ وہ کون ساصوبہ ہے جس کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے تھرڈ ڈویژن حاصل کرنے والے ” مقامیوں“ کو فرسٹ ڈویژن حاصل کرنے والے غیر مقامیوں پر ترجیح دی جاتی تھی۔؟
۷۔ کیا بھٹو کا تعلق اسی صوبے سے نہیں تھا؟
۸۔ کیا اس صوبے میں بھٹو کی پارٹی کی حکومت قائم نہیں تھی؟
۹۔ کیا بھٹو کی ہی پارٹی کی حکومت نے وہ لسانی بل پیش نہیں کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اچانک اس صوبے میں لسانی مسئلہ پیدا ہوگیا اور اس مسئلے کی وجہ سے ” مقامیوں “ اور” غیر مقامیوں“ کے درمیان بہت بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے۔؟
میرے ان سوالوں میں بھٹو کی منافقت کی داستان چھپی ہے۔
اگر شیخ مجیب الرحمان کی بنگال پرستی جرم تھی تو بھٹو کی سندھ پرستی کیوں جرم نہیں؟
اگر عطا اللہ مینگل کی بلوچ پرستی جرم ہے تو بھٹو کی سندھ پرستی کیوںجرم نہیں؟ اگر ولی خان پختون پرستی جرم ہے تو بھٹو کی سندھ پرستی کیوں جرم نہیں؟ کیا بھٹو صرف اس لئے قابل معافی ہے کہ اسے بھولے بھالے، سیدھے سادھے اور بے وقوف پنجابیوں کے جذبات سے کھیلنے کا گُر آتا ہے؟
(جاری ہے۔۔)

Scroll To Top