معمولی خبریں ` خوفناک سچ

kal-ki-baat

یہ کوئی معمولی خبریں نہیں ۔ یہ خبریں ہمارے ” معیارِ حکمرانی “ اور ہمارے ملک کی عمومی صورتحال کا بھرپور نقشہ کھینچتی ہیں۔ اگر ان خبروں کو پوری قوم کے منہ پر ایک طمانچہ نہ کہوں تو بددیانیتی ہوگی۔

دیکھنے میں یہ خبریں معمولی ہیں۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے شہر لاڑکانہ میں ایک سکول کی عمارت اُس کی انتظامیہ نے کچھ درزیوں کو کرائے پر دے دی۔ میڈیا میںنوٹس لیا گیا توفوری طور پر عمارت کو خالی کرالیا گیا اور ہیڈ ماسٹر اور چوکیدار کی معطلی کے احکامات جاری ہوگئے۔ یہ ایک خبر ہے۔ اور دوسری خبر یہ ہے کہ سابق اٹارنی جنرل سردار خان کے قتل کا ملزم پولیس کی موجودگی میں ہسپتال سے فرار ہوگیا۔ اور اس شان سے فرار ہوا کہ اس کا پاسپورٹ اور ویزا تیار تھا۔ اور راولپنڈی سے دوبئی پہنچنے میں اسے کسی بھی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
کیا یہ خبریں پڑھنے کے بعد آپ نے اس بات پر شرمندگی محسوس نہیں کی کہ آپ ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جس کے حکمرانوں اور ان کے معیار ِ حکمرانی نے یہ سب کچھ ممکن بنا رکھا ہے۔؟
یہ خبریں تو میں نے صرف نمونے کے طور پر پیش کی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہاں کیا کچھ ایسا ہورہا ہوگا جو عوام کے علم میں نہیں آتا مگر جس پر ہم سب کا سرشرم سے جھکے بغیر نہ رہے۔
ان خبروں کے پہلو میں ہی نمایاں خبر یہ ہے کہ صدر زرداری اگلے انتخابات کے بعد تمام صوبوں میں اپنی حکومت قائم کرنے کا مصمّم ارادہ رکھتے ہیں۔ گویا قوم کے مقدر میں ابھی بہت کچھ سہنا باقی ہے !
میری سمجھ میں یہ بات بالکل نہیں آرہی کہ حکومت سازی کے موجودہ نظام میں معیارِ حکمرانی کیسے بہتر ہوگا اور کیسے اس قوم کے مقدر میں لکھی ہوئی بدنصیبیاں اِس کا پیچھا چھوڑیں گی ۔ کیا آپ کی سمجھ میں یہ بات آرہی ہے ؟

Scroll To Top