ایک اور ناکامی

zaheer-babar-logo

وکلاءکے مطالبات کے جائز یا ناجائز ہونے سے قطع نظر جوڈشیل کمپلیکس ملتان میں میں قانون کے علمبرداروں نے جس انداز میں تھوڈ پھوڈ کی وہ ہر قابل مذمت بھی ہے اور باعث افسوس بھی ۔ صوفیاءکی سرزمین میں جو کچھ ہوا وہ مختلف ٹی وی چنیلز کی فوٹیج میں باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ مذکورہ واقعہ میں پولیس وکلاءکو روکنے کی بجائے ”سہولت کار “کا کردار اداکرتی رہی۔ادھر صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلاءکے مطالبات جائز تھے اور انھوں نے انھیں منظور کروانے کے لیے احتیاج کا طریقہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل مطالبات منظور کروائے جارہے ہیں ، دھرنے دئیے جارہے ہیں اگر وکلاءبرداری نے بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا ہے تو کیا حرج ہے ؟۔ صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے وکلاءکی بات چیت کریں گے بصورت دیگر کسی تیرے فریق کے زریعہ معاہدہ کرلیا جائیگا۔ “
ملتان میں وکلاءکی جانب سے جس طرح عدالتوں پر دن دیہاڈے حملہ کیا اسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر بیان کررہا کہ اگر معاشرے میں قانون کے محافظوں کا کردار یہ ہے تو پھر ناخواندہ حضرات سے بہتری کی کیا توقع رکھی جائے ۔ یہ پہلی بار نہیں کہ کالے کوٹ والے اس بدترین طرزعمل کے مرتکب ہوئے ۔ قبل ازیں بھی عدالتوں میں ججز کی پٹائی اور عدالتوں پر تالے لگانے جیسے بدترین واقعات پیش آچکے۔
موجودہ ملکی حالات میں لازم ہے کہ اعلی ترین سطح پر اس وکلاءگردی کا نوٹس لیا جائے۔ یعنی ٹی وی چنیلز کے پاس موجود ریکادڈنگ میں ملزمان کی نشاندہی کرکے انھیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ درحقیقت ہمارے نظام عدل کے رکھوالوں کو اپنے گھر سے اس انداز میں ابتدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی دوسرے طبقہ کو جرات نہ ہو کہ وہ انگلی اٹھا سکے۔ یقینا نظام انصاف کے رکھوالوں کو کو ملتان واقعہ کو ٹیسٹ کیس بنانا ہوگا ۔عدالتوں میں تھوڈ پھوڈ میں مرد وخواتین وکلاءملوث ہو یا کوئی اور سب کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی نہ ہوئی تو یہ سلسلہ کسی صورت تھمنے والا نہیں۔ یقینا آئے روز قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے واقعات اسے لیے تواتر سے ہورہے کہ اب تک کسی ایک ملزم کو قرار واقعی سزا نہیں دی جاسکی ۔
ملتان واقعہ میں پولیس کا بدترین کردار بھی نماٰیاں کرنا ہوگا۔ قانون کے محافظوں سے اعلی ترین سطح پر باز پرس کرنی چاہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والے اس بدترین عمل کے کیونکر مرتکب ہوئے، سوال یہ ہے کہ اگر ہر قانون شکن کو پولیس نے تحفظ فراہم کرنا ہے تو پھر آنے والے دنوںمیں وطن عزیز کا اللہ ہی حافظ ہے۔ افسوس وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ساڈھے نو سال سے مسلسل برسراقتدار ہیں مگر کسی ایک محکمہ میں بھی مثالی بہتری نہیں لائی جاسکے۔ پانچ دریاوں کی سرزمین پر رہنے والوں کی اکثریت کو اب بھی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہم خواب سے کم نہیں۔
حالیہ مہینوں میں وفاقی اور پنجاب حکومت جس طرح پہ درپہ ناکام ہوئیں اس کے نتیجے میں یہ تاثر بھرپور انداز میں ابھرا ہے کہ کئی دہائیوں سے قومی سیاسی افق پر نمایاں رہنے والی پارٹی کس اہلیت کی حامل ہے۔فیض آباد دھرنا ختم کروانے پر عسکری حکام کو ہدف بنانے والے یہ بتانے کوتیار نہیںکہ 21 روز وہ کیا کرتے رہے۔ تحریک لبیک نے جڑواں شہروں کو محض ایک دو روز کے لیے نہیں دو ہفتوں سے زائد بند رکھا۔ جڑواں شہروں کے لاکھوں لوگوں کے علاوہ پنڈی اسلام آباد میں دیگر علاقوں سے آنے والے بھی مشکلات سے دوچار رہے۔ ان دنوں وفاقی داخلہ احسن اقبال عدالتوں میں پیش ہوکر جس طرح اپنی ناکافی کا اعتراف کرتے نظر آئے وہ بھی ریکادڑکا حصہ ہے۔ پولیس نے فیض آباد میں دھرنا دینے والوں کے خلاف جیسا آپریشن کیا وہ مناظر بھی کسی طور پر لوگوںکے زھنوں سے محو نہیں ہوئے۔حکومتی بوکھلاہٹ کا اندازہ یوں بھی لگانا چاہے کہ آپریشن کے دوران فوری طور پر درجنوں نیوز چنیل بند کردئیے گے۔دھرنے دینے والوںنے پولیس افسران اور جوانوں کے جو سلوک روا رکھا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔
ایک رائے یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی طے شدہ حکمت عملی یہی ہے کہ وہ ہر ناکامی کو دوسروں پر لاد دیا کرتی ہے۔گزرے ماہ وسال میں عمران خان اور ڈاکڑ طاہر القادری کے دھرنے کو خوش اسلوبی سے ختم کرنے کے لیے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے درخواست کی گی مگر جب سپہ سالار سے عمران خان اور ڈاکڑ طاہر القادری ملے تو سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے لاتعلقی اختیار کرلی۔
حکمران جماعت کو نہیں بھولنا چاہے کہ سیاسی اور سماجی طور پر پاکستان بدل چکا۔ پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی بدولت عام آدمی یہ سوال پوچھ رہا کہ اس کے ووٹ سے منتخب ہونے والی حکومت ہر محاذ پر کیونکر ناکام ہورہی۔
بعض حلقے اس پر حیرت اور افسوس کا اظہار کررہے کہ حکمران جماعت حالات کی نزاکت کو سمجھنے کو تیار نہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے لے کر وفاقی اور صوبائی وزراءتک ایک ہی راگ الاپ رہے کہ حکومت ہر حال میں اپنی مدت پوری کریگی۔ سینٹ انتخابات کو بنیاد بنا کر جس طرح سرکار جس طرح اخلاقی اور سیاسی انحاط کا شکار ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔پانامہ لیکس میں شریف فیملی کے خلاف مقدمات کی سماعت ہورہی دوسری طرف سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرز مل کا کیس بھی چل رہا۔ان حالات میںوفاق اور پنجاب میں سب اچھا ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔

Scroll To Top