کاشتکاروں پر تشدد کا سلسلہ بند کرنا ہوگا

zaheer-babar-logo
شہر قائد کی پولیس نے کلفٹن میں واقع بلاول ہاوس کے سامنے مظاہرہ کرنے والے گنے کے کاشتکاروں پر بدترین لاٹھی چارج کیا ۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹرکینن کے آزادانہ استعمال سے متعدد کاشکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جن میں خواتین اور بچوں بھی شامل تھے۔ بتایا گیا کہ گنے کے کاشتکار مطالبہ کررہے تھے کہ مل مالکان، صوبائی حکومت سے منظور شدہ قیمت سے کم پر گنا فروخت کرنے کے لیے دبا ڈال رہے ہیں۔ مظاہرین نے پولیس کے لاٹھی چارج کو پیپلز پارٹی کی حکومت کی آمرانہ سوچ قرار دیتے ہوئے کاشتکاروں نے 23 دسمبر کو نیشنل ہائی وے پر دھرنے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔کاشتکاروں نے اس موقعہ پر احتجاجی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
دراصل کاشتکاروں کے احتجاج کی وجہ یہ بنی کہ شوگر ملز مالکان سرکاری نرخ 180 فی من پر گنے کی فضل نہیں اٹھا رہے یعنی تاخیر کی وجہ سے گنے کے وزن میں کمی ہو رہی ہے جس سے کاشتکاروں کومالی نقصان اٹھانا پڑرہا۔
ماہرین کے مطابق گنے کے کاشتکاروں کے تین بنیادی مسائل ہیں پہلا،کرشنگ کا عمل دیر سے شروع کیا جانا ۔دوسرا،انہیں اپنی پیداوار کا سرکاری طور پر طے شدہ معاوضہ نہ ملنا۔ تیسرا،گنے کی فروخت کے بعد بر وقت رقم کا نہ ملنا۔مذکورہ صورت حال کے سبب کاشتکاروں کے مالی حالات بے حد سنگین ہیں ۔ اکثر وبشیتر گنے کے کاشتکار اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ حاصل کرنے کیلئے خوار ہو رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کسانوں کو ہر سال ایسے ہی مسائل کا سامنا رہتا ہے ۔ ہر باخبر شخص آگاہ ہے کہ ملز مالکان کی اکثریت کسی نہ کسی حکومت کا حصہ ہوتی ہے کاشت کاروں کو تنگ کرنے اور ان سے سستا گنے کی کرشنگ میں تاخیر سے کی جاتی ہے۔ کاشتکار تنظیمیوں کے بعقول تاخیر سے کرشنگ سیزن شروع کرنے سے شوگر مل مالکان 73 ارب روپے کا ناجائز منافع کمائیں گے۔ یعنی گنے کے کاشتکاروں کی محنت اور کمائی پر 73 ارب کا ڈاکہ ڈالا جائے گا ۔جبکہ گنا،کپاس،چاول مونجی کے کم ریٹ سے کسانوں کو 263 ارب روپے کا معاشی نقصان پہنچایا گیا ۔ دراصل گنے کی کرشنگ میں تاخیر سے کسان اپنی فصل اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں مگر ارب پتی شوگر مل مالکان اٹھاتے ہیں پھر گنے کی فصل نقد ادائیگی پر نہیں لی جاتی، فصل کی قیمت کچھ عرصہ بعد چکانے کا وعدہ کیا جاتا ہے اور پھر ان کے چکر آگے لگوائے جاتے ہیں۔ دراصل جب کسانوں کو ان کی فصل کا معاوضہ بر وقت نہیں ملتا تو انہیں اگلی فصل کی کاشت کے لوازمات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے ان حالات میںضرورت اس امر کی ہے کہ کاشتکاروں کو گنے کی فصل کی طہ شدہ قیمت دلائی جائے اور ان کا استحصال نہ ہونے دیا جائے۔کاشتکاروں سے بڑا مظلوم اور کوئی نہیں ہے۔ملز مالکان ،سرمایہ دار ،مراعات یافتہ طبقات مزے کی نیند سو رہے ہیں اور مظلوم کاشتکار اپنی حسرتوں پر آنسو بہا رہا ہے ۔حکومت وفاقی ہو یا صوبائی کوئی بھی کاشتکاروں اورانکی شکایات پر توجہ نہیں دے رہی۔ملکی زراعت کو درپیش مسائل پر گہری نظر رکھنے والے حلقے حکومتی سے فوری طور پر اقدمات اٹھانے کا مطالبہ کررہے۔ یہ تواتر کے ساتھ کہا جارہا کہ سرکار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حامل زراعت کے شعبہ پر توجہ دے۔کسان ،ہاری اور زرعی نظام مسلسل شدید بحران اور مشکلات سے دو چار ہے وفاقی ،صوبائی حکو متوں کی نا اہلی ،عدم توجہی اور غفلت کی وجہ سے کپاس اور چاول کی فصل کے بعد کاشتکار کے لیے گنے کی فروخت اور محنت کی قیمت حاصل کرنا نا ممکن ہو چکا۔ عملا سندھ میں شوگر ملز مافیا کی ملی بھگت سے ہاریوں کی تاریخ کا بد ترین نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ بجلی،پانی زرعی ادویات،بیج اور مہنگا تیل زراعت پر بڑا بوجھ ہے اب اگر فصل کی سرکاری قیمت بھی کسان ہاری کو نہ ملے تو اس سے بڑی ملک دشمنی نہیں ہو سکتی۔وفاقی ،صوبائی حکومتیں ،شوگر ملز اور کسان تنظیمیں فوری طور پر اس بحران کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ دنیا میں 40 فی صد تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں لیکن پاکستان کے صارفین کو اس کا فائدہ نہیں پہنچ رہا موجودہ حکومت آہستہ آہستہ تیل کی قیمتیں کم کر رہی ہیں سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ اب تک بجلی کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہیے تھیں اس کے علاوہ کھاد ،زرعی بیج،زرعی ادویات ،ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی ہونی چاہیئے تاکہ اس سے کاشتکار کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے ۔ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ عوام کو ریلیف حکومت کی جانب سے میڈیا پر دئیے گئے خوشنمااشتہارات میں تو نظر آرہا ہے مگر عملا حکومت بجلی ،گیس،کھادوں کی قیمتوں میں فی الفور کمی کرنے کا تیار نہیں۔
وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو نہیں بھولنا چاہے کہ پاکستان زرعی ملک ہے ۔ زراعت ملکی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی حثیثت رکھتی ہے۔منتخب حکومتوںمیںکسانوںکا احتجاج اور پھر پولیس کے مظاہرین پر تشدد ہرگز باعث ستائش نہیں۔ بادی النظر میں ملکی سیاست میں قابل زکر تعداد میںجاگیردار اور وڈیرے متحرک ہیں ۔ ہر قانون سازی اسمبلی میں بڑے زمین داروں کی موجودگی ہی کی بدولت ایسا ممکن نہیںکہ غریب کاشتکار کی حقیقی معنوںمیں داد رسی ہوسکے۔ کراچی میں پولیس کے ہاتھوں میں کاشتکاروں پر ظلم وستم نہ تو پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری ۔ بظاہر کسانوں پر اس وقت تک مختلف شکلوں میں تشدد جاری رہیگا جب تک باوقار انداز میں ان کے جینے کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا۔

Scroll To Top