صدر زرداری حق بجانب ہیں 28-07-2012

kal-ki-baat

اگر صدر زرداری اور اُن کے اتحادی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے دورِ اقتدار کا خاتمہ کبھی نہ ہو تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ یہ بات انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اقتدارچھوڑنا نہیں چاہتا۔ اقتدار چھوڑنا اس کا آخری آپشن ہوتا ہے۔ اور یہ اس کا اپنا آپشن نہیںہوتا۔ یا تو زندگی اس کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے ` جیسا کہ جنرل ضیاءالحق کے ساتھ ہوا اور اس سے پہلے غلام محمد کے ساتھ ہوا تھا۔ یا پھر قدرت اس کا اقتدار میں رہنا ناممکن بنا دیتی ہے ` جیسا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان ` جنرل یحییٰ خان اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہوا۔ جہاں تک مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق ہے اُن کا بھی بس چلتا تو ہمیشہ اقتدار میں رہتے ۔اس ضمن میں یہ کہنابے جانہیں ہوگا کہ ان کے زوال کی وجہ بھی ان کی یہی آرزو بنی ۔
یہ تمہید میں نے میاں نوازشریف کے اس بیان کی روشنی میں باندھی ہے کہ ملک میں کہیں نہ کہیں اگلے عام انتخابات کے التواءکی سازش ہورہی ہے ۔دوسرے الفاظ میں موجودہ حکومت اپنے اقتدار میں ایک سال کا اضافہ انتخابات میں کامیابی حاصل کئے بغیر کرناچاہتی ہے۔ خدا کرے کہ یہ بات محض میاں صاحب کا قیاس ہو۔ لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ صدر زرداری اپنی صدارتی مدت میں توسیع اسی پارلیمنٹ کے ہاتھوں کرنا چاہتے ہوں گے ۔ ان کی صدارت کی مدت 6ستمبر 2013ءکو ختم ہوگی۔ اور اس سے بہتر آپشن اُن کے لئے کیا ہوگا کہ اپنے صدارتی استثنیٰ کی توسیع کے لئے انہیں ایسی پارلیمنٹ پر انحصار نہ کرنا پڑے جوابھی وجود میں نہیں آئی۔
ماضی کے تمام حکمرانوں کی طرح زرداری صاحب بھی خود اقتدار سے نہیں ہٹیں گے۔ ان کی اقتدار سے علیحدگی بھی ” حالات کے جبر “ کے تحت ہوگی۔
کون نہیں جانتا کہ جس طرح پانی کے بغیر مچھلی نہیں جی سکتی ` اسی طرح استثنیٰ کے بغیر زرداری صاحب بھی ایسے کارتوس جیسے ہوں گے جو چل چکا۔
کسی کو بھی صدر زرداری سے یہ گلہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ہر قیمت پر اقتدار اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔
دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اور یہاں کے دیگر مقتدر ادارے صدر زرداری کی مدتِ اقتدار میں اضافے کے لئے کتنی بھاری قیمت دینے کے لئے تیار ہوں گے۔

Scroll To Top