مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر
13-12-2017
قسط :37۔۔

میرے ان سوالوں کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو کو یقین تھا کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کامقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور پیپلز پارٹی پورا زور لگا کر بھی عوامی لیگ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ چنانچہ اس نے مشرقی پاکستان کو نظر انداز کر کے حقیقت پسندی کا ثبوت دیا۔ اگر بات حقیقت پسندی پر آتی ہے تو میں کہتا ہوں کہ جماعت اسلامی بھی تو حقیقت پسندی سے کام لے کر مشرقی پاکستان کو شیخ مجیب الرحمان کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتی تھی۔ جماعت اسلامی نے کیوں انتہائی نامساعد حالات میں عوامی لیگ کا مقابلہ کیا؟ اگر جماعت اسلامی فتح وشکست سے بے نیاز ہو کر مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکتی تھی تو پیپلز پارٹی تو عوام کی جماعت تھی۔ اس کے نعروں میں تو دوسری جماعتوں کے نعروں سے کہیں زیادہ کشش تھی۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو انتا محب وطن نہیں تھا کہ فتح و شکست سے بے نیاز ہو کر صرف اور صرف قومی مفادات کی خاطر مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ سے ٹکرا جاتا؟
اور اگر حقیقت پسندی والی بات کو مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ عام انتخابات سے پہلے ہی بھٹو ذہنی طور پر عوامی لیگ کی فیصلہ کن جیت کو تسلیم کر چکا تھا۔ اور اسے معلوم تھا کہ آئین سازی کے کام میں بنیادی اکثریت حاصل کرنے والی عوامی لیگ کی ہوگی۔ عوامی لیگ کو آئین سازی میں بنیادی حیثیت حاصل کرنے سے روکنے کی دو ہی صورتیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ اُسے عام انتخابات میں شکست دی جائے اور دوسری یہ کہ عوام انتخابات میں عوامی لیگ کی جیت کو یقینی تصور کرتے ہوئے آئین سازی کے بنیادی مسائل کا حل عام انتخابات سے پہلے ہی تلاش کر لیا جائے اگر بھٹو کو ملکی سا لمیت سے ذرا بھی دلچسپی ہوتی تو وہ عام انتخابات میں حصہ لینے سے پہلے مطالبہ کرتا کہ تمام جماعتیں ملک کی آئینی بنیاد پر جب تک سمجھوتہ نہیں کر لیتیں اس وقت تک عام انتخابات منعقد نہ کئے جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ بھٹو کے اس مطالبے کو پوری قوم کی تائید حاصل ہوتی اور اگر عوامی لیگ اس کی مخالفت کرتی تو اس پر واضح کیا جا سکتا تھا کہ آئین کے بارے میں متفقہ سمجھوتے کے بغیر عام انتخابات کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں شیخ مجیب الرحمان عام انتخابات میں اپنی یقینی جیت کے پیش نظر چھ نکات پر کوئی نہ کوئی سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتا اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرتا تو ایجی ٹیشن چلانے کے لئے اس کی پوزیشن اس وقت وہ ہرگز نہیں تھی جو اسے عام انتخابات میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کے بعد عطا ہوگئی تھی۔ اس وقت وہ محض ایک طاقت ور پارٹی کا سربراہ تھا۔ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ ” بلا شرکتِ غیر“ ملک کی حکومت بنانے اور آئین سازی کے کام میں اکثریت کا فیصلہ نافذ کرنے کا جمہوری اور قانونی حق حاصل کر چکا تھا اس مرحلے پر اُس کے اس حق کو چیلنج کرنا جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑانے کے مترادف تھا۔ اس مرحلے پر بھٹو کی طرف سے یہ الٹی میٹم دیا جانا جمہوریت کی توہین تھی کہ اگر شیخ مجیب الرحمان نے آئینی مسائل پر پیپلز پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ نہ کیا تو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عام انتخابات سے پہلے شیخ مجیب الرحمان کو الٹی میٹم دیا جا سکتا تھا کہ اگر اس نے آئینی مسائل پر دوسری جماعتوں کے ساتھ سمجھوتہ نہ کیا تو عوامی لیگ کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔طوفان اس وقت بھی اٹھتا لیکن وہ طوفان ا س طوفان جیسا ہرگز نہ ہوتا جو مارچ ۱۷۹۱ءمیں عوام لیگ کے خلاف فوجی کارروائی کے ساتھ اٹھا۔ مارچ ۱۷۹۱ءمیں جس عوامی لیگ کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی وہ پاکستان پر حکومت کرنے کا جمہوری حق حاصل کر چکی تھی اور دنیا بھر کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں۔
بھٹو نے سب کچھ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا اسے معلوم تھا کہ عوامی لیگ مشرقی پاکستان میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کرے تاکہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل وہ چھ نکات کا مسئلہ اٹھا کر سیاسی بحران پیدا کر سکے۔ جب یحییٰ خان نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تو بھٹو نے اس کا بائیکاٹ کر دیا اور اعلان کیا کہ پہلے شیخ مجیب الرحمن پیپلز پارٹی کے ساتھ ” اِدھر ہم اور ادھر تم“ کی بنیاد پر سمجھوتہ کرے۔ اس نے دھمکی دی کہ مغربی پاکستان سے کسی بھی عوامی نمائندے نے ڈھاکہ جا کر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی تو واپسی پر اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ اسے یقین تھا کہ عوامی لیگ کے انتہا پسند گروپ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر یک طرفہ طور پر حکومت بنانے کا اعلان کر دیں گے اور شیخ مجیب الرحمان بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے کی ذلت سے بچنے کے لئے اپنے انتہا پسند ساتھیوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائے گا۔ لیکن شیخ مجیب الرحمان نے بھٹو کی تمام توقعات کے برعکس ۷مارچ ۱۷۹۱ءکو آزادی بنگلہ دیش کا اعلان کرنے کی بجائے صر ف سوِل نافرمانی کی تحریک پر اکتفا کیا اور مذاکرات کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔
مذاکرات میںجوکچھ ہوا اس کا اندازہ بھٹو کے اپنے اعتراف ِ جرم سے لگایا جاسکتا ہے۔ بھٹو کے ان الفاظ کو کون بھول سکتا ہے کہ ” ساڑھے پانچ نکات پر تو سمجھوتہ ہو گیا تھا، لیکن آدھے نکتے کے لئے فوجی کارروائی ضروری ہو گئی۔“
وہ آدھا نکتہ جس کی خاطر بھٹو نے آدھا پاکستان قربان کر دیا آج تک ہمیں معلوم نہیں ہو سکا۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔)

Scroll To Top