انسانی حقوق کی پاسداری ۔ امن کی ضمانت

زین العابدین


مشہور قول ہے کہ انسان اپنی ماں کی کوکھ سے آزاد پےدا ہوتا ہے لےکن یہ انسانی المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ کرّہ ارض پر اسکی آزادی کے سلب اورغصب کرنےوالی قوتوںکا غلبہ نظر آتا ہے۔ معاشرہ کا قیام بنیادی انسانی حقوق و فرائض کے تعےّن سے وجود مےں آتا ہے اور ان انسانی حقوق و فرائض کی پاسداری معاشرے کی ترقی، امن اور خوشحالی کی راہےں ہموار کرتی ہے جبکہ انفرادی سطح پرانسانی عزت و احترام کو ےقینی بناتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی استحصال، عدم مساوات، ظلم و جبر ،ناانصافی، جنگ، غلامی اور اسی طرز کی دیگر سماجی برائیوں اور سانحات کو جنم دےتی اور پروان چڑھاتی ہے۔ بحےثیت مسلما ن یہ ہمارا اےمان ہے کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے انسانی آزای اور مساوات کو شرفِ انسانیت اور بنیادی انسانی حقوق مےں شمار کرتے ہوئے انکی بحالی کو اےک اجتماعی ذمہ داری قرار دیا۔ اسلام انسان کو تمام جھوٹے خداو¿ں اورمعبودوں سے نجات دلا کر اسکا سر اےک معبودِ برحق کے سامنے جھکاتا اور اسکے حکم کا پابند بناتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ تمام انسان بلا امتیاز رنگ و نسل برابر ہےں اور کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں۔ہر انسان کو اپنی مرضی کا مذہب اور عقیدہ رکھنے کا اختیار ہے اور اسے زبردستی اپنا عقیدہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اقوامِ متحدہ نے بھی اےک بےن الاقوامی پلےٹ فارم کے طور پر دنیا بھر مےں بسنے والے انسانوںکے درمیان بھائی چارے، باہمی احترام اور وسیع تر امن کے قیام کےلئے بنیادی انسانی حقوق کا اےک ڈھانچہ تےّار کیا ہے جسے” انسانی حقوق کا عالمی منشور” کہا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس عالمی منشور کو 10 دسمبر1948 کو منظور کیا اور اسی مناسبت سے ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر مناےا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ ہر انسان کی عزّت و حرمت اوراسکے مساوی و ناقابلِ انتقال حقوق کو تسلیم کرنا آزادی،انصاف اور امن کی بنیادی شرط ہے۔ ان انسانی حقوق کی پامالی اور بے حرمتی ردعمل مےں اکثر اےسے وحشیانہ افعال کی صورت مےں ظاہر ہوتی ہے جس سے انسانیت کے ضمیر کوشدید صدمے پہنچتے ہےں ۔ اس منشور مےں اس جانب بھی اشارہ کیا گےا ہے کہ انسانی معاشرے کے قیام کےساتھ ہی انسان کی یہ ارفع ترین آرزو رہی ہے کہ اےسی دنیا وجود مےں آئے جس مےں ہر انسان کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی مکمل آزادی حاصل ہو اور وہ ہرقسم کے خوف اور ڈر سے محفوظ رہے۔ اس منشور مےں اس انسانی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گےا ہے کہ اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان ظلم و استبدادسے عاجز آکر اس کےخلاف بغاوت کرنے پر مجبور نہ ہوں تو یہ لازم ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کو قانون کی عملداری کے ذریعے ےقینی بناےا جائے۔ مزید یہ کہ انسانی حقوق ہی کی بنیاد پر قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھاےا جائے۔اقوامِ متحدہ کے اس منشور کے ذریعے اسکی رکن قوموں نے بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کی حرمت اور قدر، مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق ، وسیع تر آزادی کی فضا مےں معاشی و سماجی ترقّی کو تقویت دےنے اور معےارِ زندگی کو بلند کرنے کا مصمّم ارادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ وہ خود بھی اقوامِ مِتحدہ کے اشتراکِ عمل سے ساری دنیا مےں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کرےںگی اوردوسروں سے بھی کروائےنگے۔ قوموں کے اس عہد کی تکمیل کےلئے ضروری ہے کہ وہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سمجھےں ۔ انسانی حقوق کے منشور مےں یہ اعلان بھی کیا گےا ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور اقوام کےلئے حصولِ مقاصد کا مشترک معےار ہو گا تاکہ ہر فرد اور معاشرے کا ہر ادارہ اس منشور کو پےشِ نظر رکھتے ہوئے تعلیم و تشہیر کے ذریعے ان حقوق اور آزادیوں سے آگاہی پےدا کرے اور انہیں قومی اور بےن الاقوامی سرگرمیوں کے ذریعے رکن اور انکے ماتحت ریاستوں سے منوانے کےلئے بتدریج کوشش کرے۔ دورِ جدید کی تہذیب نے ا نسانی مساوات، شخصی آزادی اور جمہوری اقدار کی ترویج کو اپنے بنیادی اُصول کے طور پر تسلیم کیا ہے جس مےں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت ریاست اور معاشرے کی اجتماعی ذمّہ داری ہے۔ علاوہ ازیںان مقررہ پےمانوں اور معےاروں کی ، جو اقوامِ متحّدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور نے متعےن کئے ہےں ،خلاف ورزی کرنےوالے عناصر کو انسان دشمن اور انسانیت مخالف اورناقابلِ قبول تصوّر کیا جاتا ہے۔
ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے اس ادراک و احساس کے باوجود یہ دنیا ظالم و مظلوم، حاکم و محکوم، جابر و مجبور اور آقا و غلام کے دو متحارب و متضاد طبقوں مےں بٹی ہوئی ہے جس مےں اےک طبقہ حقوق غصب کرنےوالوں کا ہے جبکہ دوسراطبقہ ان حقوق سے محروم ہو جانےوالوں کا ہے۔ استحصال کرنےوالی قوّتوں اور استحصال کا شکار ہونےوالوں کے درمیان چپقلش کا سلسلہ بھی ہمےشہ جاری رہتاہے۔اس سلسلے مےں ظالم کے ظلم اور جابر کے جبر سے نجات حاصل کرنے اور اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کےلئے انسانیت نے بڑی قُربانیاں بھی دی ہےں۔ اس مےں شک نہیں کہ ِ رنگ و نسل، جنس و قومیت اور زبان و جغرافیائی محل وقوع کی بنیاد پر بنی نوع انسان کے درمیان تفریق اور امتیازی سلوک انسانیت کی بدترین تذلیل و تحقیرکے سواکچھ نہیں۔معاشی و سماجی استحصال انسانوں کو غلام بناکر رکھنے کےلئے اےک کارگر ہتھےار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
اس حقیقت سے قطعِ نظر کہ استحصالی و استبدادی قوتوں سے آزادی کے حصول اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا احساس و ادراک عہدِ حاضر کی نماےاں خصوصیت ہے، دنیا کے موجودہ حالات و واقعات پر نظر دوڑائیں تو یہ تلخ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ آج دنیا بھر کے مسلمان جنگ، ظلم و زیادتی اور استحصال کاسب سے زیادہ شکار ہےں اور اسی ظلم و زیادتی کے ردعمل مےںاےک گروہ نے اپنے حقوق کی حفاظت کےلئے ظلم و تشدد کے راستے کا انتخاب کر لیا ہے جسے عام مسلمانوں کےساتھ منسوب کرتے ہوئے دنیا کے سامنے مسلمان کو اےک متشدد کردار کے طور پر پےش کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر ، فلسطین ، افغانستان، عراق ،شام ، لیبیا،میانمار ہر کہیں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہاےا جارہا ہے اور انسانی خون سے ہاتھ رنگنے والے اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبردار کہلوانے پر بھی مصر ہےں۔
اقوامِ متحدہ کیجانب سے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے اعلان کو آج 69سال ہونےوالے ہےں لےکن انسانی حقوق کی بحالی ہنوز اےک خواب ہی ہے اور خود عالمی طاقتےں اس راستے مےں حائل ہےں۔ ہر جگہ معاشی و تجارتی مفادات انسانی حقوق کو روندتے نظر آتے ہےں۔ عالمی قوتےں بھی انسانی حقوق کی پامالیوں پر زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ کرتی نظر نہیں آتیں۔6دسمبر 2017کو امریکہ نے، جو دنیا کی واحد عالمی قوت کے زعم مےں اپنے آپ کو انسانی حقوق کا ٹھےکےدار گردانتا ہے، اربوں مسلمانوں اور مسیحیوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے ےروشلم کو دہشتگرد ریاست اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ۔ فلسطین مےںصےہونی بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک انسانی خون بہا رہے ہےں مگر ان مظلوموں کی کہیں شنوائی نہیں۔ مسلمان اس تازہ ناانصافی پر سرپا احتجاج ہےں اور مستبل قریب مےں اس اشتعال انگےز امریکی اعلان کا ردعمل آنے کا بھی امکان ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسیاں ہزاروں مسلمانوں کے حقوق کی پامالی کا باعث ہےں۔ انسانی حقوق کی بحالی اس وقت تک خواب ہی رہےگا جب تک عالمی قوتےں اور طاقتور ریاستےں اپنے معاشی اور تجارتی مفادات سے اوپر اٹھ کر انسانوں کے حقوق کےلئے کوششےں نہ کرےں اور امن بھی اسی صورت ہی ممکن ہو گا جب انسانوں کے حقوق کے سلسلے مےں کسی امتیاز اور تعصب کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔

Scroll To Top